Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

چین کا 2028 تک مریخ کی سطح کا جامع جیولوجیکل نقشہ بنانے کا منصوبہ


بیجنگ:چین نے 2028 کے اختتام تک مصنوعی ذہانت کی مدد سے مریخ کی پوری سطح کا دنیا کا پہلا جامع جیولوجیکل نقشہ تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جسے مریخ کی جیولوجیکل عمر کے تعین کے لیے عالمی معیار بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ چینی منصوبے کے تحت تیان وین 3 مشن کے لینڈنگ مقام کا 1:50,000 پیمانے پر تفصیلی جیولوجیکل نقشہ بھی تیار کیا جائے گا، جبکہ مریخ کے مختلف علاقوں پر مشتمل نقشوں کی مکمل سیریز بھی بنائی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق یہی طریقہ مستقبل میں چاند، زہرہ اور سیارچوں کی نقشہ سازی کے لیے بھی نمونہ بن سکتا ہے۔

چین 2028 کے آخر میں تیان وین 3 مشن روانہ کرکے مریخ سے کم از کم 500 گرام نمونے جمع کرنے اور انہیں 2031 تک زمین پر واپس لانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ کامیابی کی صورت میں چین مریخ سے نمونے زمین پر واپس لانے والا پہلا ملک بن سکتا ہے۔

تیان وین 3 مشن کے لیے دو الگ پروازیں کی جائیں گی۔ پہلی پرواز میں لینڈر اور مریخ سے اڑان بھرنے والی گاڑی، جبکہ دوسری میں مریخ کے مدار میں گردش کرنے والا خلائی جہاز اور نمونے زمین پر واپس لانے والا ماڈیول روانہ کیا جائے گا۔

مجوزہ مریخی نقشے میں چین کے ژورونگ روور سے حاصل ہونے والا ڈیٹا بھی شامل کیا جائے گا۔ ژورونگ روور کے حاصل کردہ ڈیٹا سے ایسے شواہد سامنے آئے تھے جن کے مطابق مریخ پر تقریباً 3.5 ارب سال قبل براعظموں کے پیمانے پر ایک قدیم سمندر موجود ہوسکتا تھا، جبکہ تقریباً 1.6 ارب سال قبل مختصر مدت کے لیے سیلاب بھی آئے تھے۔

چین کے اس منصوبے سے امریکا کے ساتھ خلائی دوڑ مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا اور یورپی خلائی ادارے نے بھی مریخ سے نمونے زمین پر واپس لانے کا پروگرام شروع کیا تھا، تاہم لاگت بڑھ کر تقریباً 11 ارب ڈالر تک پہنچنے اور منصوبے میں تاخیر کے باعث نمونوں کی واپسی 2040 سے پہلے مشکل ہوگئی تھی۔

جنوری میں امریکی کانگریس نے موجودہ پروگرام کی مالی معاونت کم کردی اور کچھ فنڈز کم لاگت والی ٹیکنالوجیز کی جانب منتقل کیے۔ ان اقدامات کے بعد امریکی مریخی نمونوں کی واپسی کے لیے حتمی مدت تاحال غیر یقینی ہے۔