Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہم رکنے والے نہیں ،تحریر: زینب جہانزیب

نقطہ نظر
zainab jahazeb

زندگی شاید کسی منزل کا نام نہیں، بلکہ ایک مسلسل سفر ہے۔ ایسا سفر جس میں انسان کبھی راستہ تلاش کرتا ہے اور کبھی راستے خود اسے تلاش کر لیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم زندگی میں آگے بڑھ رہے ہیں، مگر شاید حقیقت یہ ہے کہ زندگی ہر قدم پر ہمیں ہمارے اصل وجود کے قریب لے جا رہی ہوتی ہے۔

ہم ہر میدان میں چلنے والے ہیں۔ کبھی یقین کے ساتھ، کبھی شک کے ساتھ۔ کبھی روشنی میں، کبھی ایسے اندھیروں میں جہاں اگلا قدم بھی دکھائی نہیں دیتا۔ مگر چلنا شاید انسان کی فطرت میں لکھ دیا گیا ہے۔ ٹھہراؤ جسم کو مل سکتا ہے، روح کو نہیں۔

ہم گرتے ہیں، اور شاید گرنا بھی زندگی کے فلسفے کا ایک ضروری باب ہے۔ کیونکہ جو انسان کبھی نہیں گرتا، وہ شاید اپنی حقیقت سے کبھی واقف ہی نہیں ہوتا۔ ٹھوکر ہمیں بتاتی ہے کہ زمین کتنی سخت ہے، زخم ہمیں بتاتے ہیں کہ جسم کتنا عارضی ہے، اور شکست ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ انسان اپنی کامیابی سے کہیں بڑا وجود اپنے اندر رکھتا ہے۔

کبھی کبھی ہم ایک ایسے مقام پر جا گرتے ہیں جہاں ہمارے پاس اپنے سوا کچھ نہیں بچتا۔ نہ وہ لوگ جنہیں ہم سہارا سمجھتے تھے، نہ وہ خواب جن پر ہمیں یقین تھا، نہ وہ راستے جنہیں ہم منزل سمجھ بیٹھے تھے۔ اور تب انسان پہلی بار خود سے ملتا ہے۔ شاید یہی زندگی کا سب سے گہرا سبق ہے کہ بعض اوقات ہمیں سب کچھ کھونا پڑتا ہے تاکہ ہم جان سکیں کہ ہمارے اندر حقیقتاً کیا باقی ہے۔

ہم پھر اٹھتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ درد ختم ہو گیا ہوتا ہے، بلکہ اس لیے کہ درد کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہوتا ہے۔ زخم بھر جائیں تو انسان دوبارہ چلتا ہے، مگر کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو بھرنے کے بجائے انسان کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ اسے ہر قدم پر یاد دلاتے ہیں کہ وہ کہاں گرا تھا، اور یہ بھی کہ وہ وہاں سے اٹھ کر آیا تھا۔

وقت بھی عجیب شے ہے۔ یہ کسی کے لیے رکتا نہیں، مگر ہر شخص کو بدل دیتا ہے۔ جو کل ہمیں دنیا کا اختتام لگتا تھا، آج وہ ہماری زندگی کا ایک معمولی سا باب معلوم ہوتا ہے۔ شاید مسئلہ حالات کا نہیں ہوتا، ہماری نظر کا ہوتا ہے۔ ہم ایک لمحے کو پوری زندگی سمجھ لیتے ہیں، جبکہ زندگی ہمیشہ ایک لمحے سے بڑی ہوتی ہے۔

ہمیں اب یہ بھی سمجھ آنے لگتا ہے کہ ہر راستے کا مقصد منزل نہیں ہوتا۔ کچھ راستے صرف ہمیں بدلنے کے لیے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں ٹھہرنے کے لیے نہیں، ہمیں کچھ سکھانے کے لیے آتے ہیں۔ ہر شکست ہمیں ہرانے کے لیے نہیں، ہمارے اندر چھپی ہوئی طاقت سے متعارف کرانے کے لیے آتی ہیں۔

اس لیے اب اگر ہم گریں گے تو شاید پہلے کی طرح خود کو شکست خوردہ نہیں سمجھیں گے۔ ہم جانیں گے کہ گرنا بھی سفر کا حصہ ہے۔ ہم جانیں گے کہ خاموشی ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی، اور تنہائی ہمیشہ محرومی نہیں ہوتی۔ کبھی انسان کو ہجوم سے دور جا کر اپنے اندر کی آواز سننی پڑتی ہے۔ کبھی دنیا سے ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑتا ہے تاکہ اپنے آپ سے ایک قدم قریب ہوا جا سکے۔

ہمیں اب ہر جنگ جیتنے کی خواہش نہیں ہونی چاہیں۔ بس اتنا ضروری ہونا چاہیں۔ کہ ہم اپنی روح سے شکست نہ کھائیں۔ کیونکہ زندگی میں سب سے بڑی فتح شاید یہ نہیں کہ انسان کبھی نہ گرے؛ شاید سب سے بڑی فتح یہ ہے کہ گرنے کے بعد بھی دل میں یہ یقین باقی رہے کہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔

ہم چلیں گے۔ کبھی آہستہ، کبھی تھک کر، کبھی خاموشی میں، کبھی آنکھوں میں نمی لیے، مگر چلیں گے۔ کیونکہ کچھ لوگ منزل کے لیے نہیں چلتے، وہ چلتے ہیں تاکہ اپنے وجود کی معنویت کو دریافت کر سکیں۔ اور شاید ہم بھی انہی مسافروں میں سے ہیں۔ ہم گرتے ہیں، پھر اٹھتے ہیں؛ ہم ٹوٹتے ہیں، پھر خود کو جوڑتے ہیں؛ ہم کھوتے ہیں، پھر نئے معنی تلاش کرتے ہیں۔ اور جب تک سانس باقی ہے، سفر باقی ہے۔

ہم وہ مسافر ہیں جنہیں راستوں کی دشواری نہیں روکتی، کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ہر ٹھوکر کے بعد ایک نیا قدم ہمارا منتظر ہے۔ ہم گرنے سے نہیں ڈرتے، ہم صرف اپنے اندر کے مسافر کو مرنے نہیں دیتے۔ سو اگر آج بھی زندگی ہمیں کسی نئے میدان میں اتار رہی ہے تو اترنے دو، اگر راستہ دشوار ہے تو ہونے دو۔ ہم گریں گے تو اٹھیں گے، بکھریں گے تو خود کو سمیٹیں گے، مگر سفر نہیں چھوڑیں گے۔

گِرے تو خاک سے اٹھے، مگر رکے نہیں،

ہزار زخم ملے، پھر بھی ہم جھکے نہیں۔

زینبؔ، ابھی تو راہ میں چلنا ہے دور تک،

قدم تھکے ہیں مگر حوصلے تھکے نہیں۔