اربوں روپے کے ترقیاتی بجٹ کے باوجود خدا بخش لغاری بنیادی سہولیات سے محروم

گھوٹکی (باغی ٹی وی، مشتاق علی لغاری): سندھ حکومت کی جانب سے اربوں روپے کے ترقیاتی بجٹ، صاف پانی، صفائی، نکاسیٔ آب، صحت اور سڑکوں کی بہتری کے دعوؤں کے باوجود تحصیل میرپور ماتھیلو کی یونین کونسل جروار کے گاؤں خدا بخش لغاری کے مکین بنیادی سہولیات سے محرومی کی شکایات کر رہے ہیں، جس کے باعث حکومتی ترقیاتی دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان فرق پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
سندھ حکومت کے 2025-26 کے ترقیاتی ریکارڈ کے مطابق صوبے کے لیے 1,018 ارب روپے کا سالانہ ترقیاتی پروگرام مختص کیا گیا، جس میں ضلعی سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کے لیے 55 ارب روپے جبکہ محکمہ بلدیات کے لیے 132 ارب روپے رکھے گئے۔ حکومت نے صاف پانی، صفائی، نکاسیٔ آب اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو بھی اپنی ترقیاتی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔تاہم خدا بخش لغاری کے مکینوں کا سوال ہے کہ ان بڑے ترقیاتی منصوبوں اور بجٹ کا فائدہ ان کے گاؤں تک کب پہنچے گا؟ مقامی آبادی کے مطابق گاؤں میں رابطہ سڑک، پینے کے صاف پانی، نکاسیٔ آب، صفائی اور بنیادی صحت کی سہولیات سمیت متعدد مسائل موجود ہیں۔مکینوں کی شکایات کے تناظر میں متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اربوں روپے کے ترقیاتی بجٹ میں اس پسماندہ آبادی کے لیے کیا منصوبہ بندی کی گئی اور اب تک کتنے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے فروری 2026 میں بھی ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، معیار اور مؤثر نگرانی پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ عوامی پیسہ زمینی نتائج میں تبدیل ہونا چاہیے۔ ایسے میں خدا بخش لغاری کے مکینوں کا مطالبہ ہے کہ حکومتی دعوؤں کو عملی شکل دیتے ہوئے ان کے گاؤں کے مسائل فوری حل کیے جائیں۔مقامی سطح پر یہ سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ خدا بخش لغاری کا سرکاری سروے کب کیا جائے گا؟ متعلقہ افسران موقع پر کب پہنچیں گے؟ گزشتہ برسوں میں اس علاقے کے لیے کون سی ترقیاتی اسکیمیں منظور ہوئیں؟ ان کے لیے کتنا بجٹ مختص اور جاری کیا گیا؟ اگر منصوبے منظور ہوئے تو ان پر عملی کام کہاں تک پہنچا؟ صاف پانی، سڑک، نکاسیٔ آب اور صحت کے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری کس محکمے پر عائد ہوتی ہے؟
خدا بخش لغاری کے مکینوں کے مسائل کے حل کے لیے وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، کمشنر سکھر ڈویژن، ڈپٹی کمشنر گھوٹکی، اسسٹنٹ کمشنر میرپور ماتھیلو اور متعلقہ محکموں سے مشترکہ سروے کرانے، تحریری رپورٹ جاری کرنے اور مسائل کے حل کے لیے واضح ٹائم لائن دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔اس سلسلے میں محکمہ بلدیات، محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، محکمہ صحت، محکمہ ورکس اینڈ سروسز، محکمہ آبپاشی، محکمہ دیہی ترقی اور متعلقہ مقامی اداروں سے بھی جواب طلب کیا جا رہا ہے کہ گاؤں کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔مقامی آبادی کا مؤقف ہے کہ انہیں محض اجلاسوں، فائلوں اور ترقیاتی اعلانات کے بجائے عملی اقدامات درکار ہیں۔ متعلقہ افسران گاؤں کا دورہ کریں، مسائل کا جائزہ لیں، ذمہ دار محکموں کا تعین کریں، ترقیاتی بجٹ اور منصوبوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لائیں اور کام شروع ہونے کی تاریخ واضح کریں۔
یہ معاملہ کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کا نہیں بلکہ عوامی وسائل کے درست استعمال اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کا ہے۔ خدا بخش لغاری کے مکینوں کا بنیادی سوال یہی ہے کہ سندھ حکومت کی ترقیاتی ترجیحات کا عملی ثبوت ان کے گاؤں میں کب نظر آئے گا؟خبر کی تیاری تک متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے خدا بخش لغاری کے مسائل کے حوالے سے تفصیلی تحریری مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔ سرکاری مؤقف موصول ہونے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔





