کیا واقعی خوبصورت اور پر اثر الفاظ انسان کے دل کو چھو سکتے ہیں اور اسے حقیقی خوشی عطا کر سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب بلاشبہ اثبات میں ہے الفاظ محض آوازوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسی طاقتور طاقت ہیں جو دلوں کو جوڑ بھی سکتی ہے اور توڑ بھی سکتی ہے امید پیدا کر سکتی ہے اور مایوسی بھی آج کا دور نفرت منفی سوچ الزام تراشی اور تلخ کلامی کا دور ہے سوشل میڈیا ہو یا روزمرہ کی زندگی ہر طرف تلخی طنز اور منفی بیانیہ چھایا ہوا ہے ایسے ماحول میں جب کسی کی زبان سے محبت احترام اور حوصلہ افزائی کے کلمات نکلیں تو وہ الفاظ سنہرے حروف میں لکھی ہوئی ایک نایاب تحریر کا درجہ اختیار کر جاتے ہیں کچھ دن قبل میرے ساتھ بھی ایسا ہی ایک نہایت یادگار اور خوشگوار واقعہ پیش آیا ایک معزز ادبی شخصیت نے مجھ سے مخاطب ہو کر بڑے پیار اور خلوص سے فرمایا آپ محبتوں کے سفیر ہیں یہ الفاظ سن کر میرا دل باغ باغ ہو گیا یہ کوئی معمولی تعریف نہیں تھی بلکہ پاکستان کے ادیب کالم نگار اور نثر نگار جناب ظفر اقبال ظفر صاحب کے دل سے نکلے ہوئے کلمات تھے ان کے اس جملے نے مجھے نہ صرف گہری خوشی عطا کی بلکہ ایک بڑی ذمہ داری کا احساس بھی دلایا کہ الفاظ کی طاقت کو مثبت اور تعمیراتی سمت میں استعمال کرنا کتنا ضروری ہے
ظفر اقبال ظفر صاحب ایک سنجیدہ کالم نگار مضمون نگار اور ادبی حلقوں میں معروف شخصیت ہیں وہ اپنی تحریروں کے ذریعے قارئین تک فکری ادبی اور معاشرتی موضوعات پہنچاتے ہیں ان کی شخصیت میں سادگی گہرائی اور مثبت سوچ نمایاں ہے جب ایسی ادبی شخصیت کسی کو محبتوں کا سفیر کے خطاب سے نوازے تو یہ بات عام تعریف سے کہیں بڑھ کر اہمیت رکھتی ہے ان کے ان الفاظ نے مجھے گہرے غور و فکر پر مجبور کر دیا کہ واقعی الفاظ کتنی بڑی طاقت رکھتے ہیں ایک اچھا الفاظ کسی کے دل کو سکون دے سکتا ہے کسی کے حوصلے کو بلند کر سکتا ہے اور کسی کی زندگی کا رخ بھی بدل سکتا ہے آج جب معاشرہ منفی توانائی کا شکار ہے تب ایسے مثبت الفاظ کی قدر اور بھی بڑھ جاتی ہے ظفر اقبال ظفر صاحب جیسے ادیبوں کا یہ رویہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ادب اور صحافت صرف تنقید یا شکایت تک محدود نہیں بلکہ حوصلہ افزائی رہنمائی اور مثبت تبدیلی کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں
آج کا معاشرہ شدید نفرت تقسیم اور منفی بیانیے کا شکار ہے سوشل میڈیا نے تو جیسے تلخ کلامی کو ایک عام عادت بنا دیا ہے لوگ بغیر سوچے سمجھے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں اور اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ان کے کہے ہوئے الفاظ دوسرے کے دل پر کیا اثر چھوڑ رہے ہیں ایسے نازک دور میں محبت کے سفیر بننا نہ صرف ایک اچھی خواہش ہے بلکہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے محبتوں کا سفیر بننے کا مطلب صرف زبانی جمع خرچ کرنا نہیں بلکہ اپنے کردار اپنے رویے اپنے معاملات اور اپنے الفاظ کے ذریعے دوسروں کے دلوں میں سکون اعتماد اور امید پیدا کرنا ہے ہمیں اپنے اردگرد مثبت توانائی پھیلانی چاہیے لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونا چاہیے اور اپنے پیارے وطن پاکستان کے نام کو روشن کرنے کے لیے عملی کردار ادا کرنا چاہیے محبت صرف ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری ہے جسے نبھا کر ہی ہم معاشرے میں حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں
میں اس بات کا پختہ یقین رکھتا ہوں کہ ہر انسان اپنے دائرہ کار میں محبت کا سفیر بن سکتا ہے استاد اپنے شاگردوں کے لیے والدین اپنے بچوں کے لیے دوست اپنے دوستوں کے لیے اور ایک عام شہری اپنے معاشرے کے لیے مثبت پیغام کا حامل بن سکتا ہے ہمیں اپنے دوستوں رشتہ داروں اور جاننے والوں کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ بھی اچھے کردار مثبت سوچ اور شائستہ گفتگو کے مالک بن سکیں پاکستان کو آگے بڑھنے کے لیے ایسے ہی افراد کی ضرورت ہے جو نفرت کے بجائے محبت تقسیم کے بجائے اتحاد اور مایوسی کے بجائے امید کو فروغ دیں ادیبوں کالم نگاروں اساتذہ اور عام شہریوں سب کو مل کر یہ ذمہ داری اٹھانی چاہیے کہ ہم معاشرے میں مثبت بیانیہ کو فروغ دیں اور تلخی کو کم کریں
آخر میں میرا تمام قارئین ادیبوں کالم نگاروں اور عام شہریوں سے یہی پیغام ہے کہ آئیے ہم سب مل کر محبتوں کے سفیر بننے کا عزم کریں اپنے الفاظ سنواریں اپنے کردار کو نکھاریں دوسروں کی مدد کریں اور انسانیت کی خدمت کو اپنا مشن بنائیں یاد رکھیں کہ دنیا میں بڑی تبدیلیاں بڑے نعروں سے نہیں بلکہ چھوٹے مگر مثبت اقدام اچھے الفاظ اور نیک نیتی سے آتی ہیں آئیے اس نفرت بھرے دور میں محبت کی روشنی پھیلانے والے بنیں اور واقعی محبتوں کے سفیر کہلانے کا حق ادا کریں یہی ہمارے لیے سب سے بڑی کامیابی ہوگی






