Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

والدین کی قدر،تحریر:ردا فاطمہ اعوان

نقطہ نظر

مجھے یاد ہے، بچپن میں جب رات کو سب گھر والے مل کر کوئی ایسی کہانی یا ڈرامہ دیکھا کرتے تھے جس میں اولاد اپنے ماں باپ کے ساتھ برا سلوک کرتی، انہیں گھر سے نکال دیتی یا ان کے سامنے بدتمیزی کرتی، تو ہمارے ذہنوں میں لاتعداد سوال جنم لیتے تھے۔ ہم ایک دوسرے سے کہتے:


"ایسا کہاں ہوتا ہے؟ بلکہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟"


اکثر بڑے بہن بھائی ہنس کر کہتے:


"یہ سب بس ڈرامے ہیں، من گھڑت قصے کہانیاں ہیں، حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔"


مگر امی اکثر کہا کرتی تھیں:


"جو کچھ باہر ہوتا ہے، وہی تو ڈراموں میں دکھایا جاتا ہے۔ خدا کسی دشمن کو بھی نافرمان اولاد نہ دے۔"


اس وقت شاید ہمیں امی کی اس بات کی گہرائی کا اندازہ نہیں تھا۔ بچپن میں ماں باپ کا رشتہ ہمیں اتنا مضبوط اور مقدس محسوس ہوتا ہے کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کبھی اولاد انہی ہاتھوں کو جھٹک سکتی ہے جنہوں نے اسے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، انہی زبانوں کو خاموش کرا سکتی ہے جنہوں نے اس کے لیے دعائیں مانگتے اپنی راتیں گزار دیں، یا انہی لوگوں کو بوجھ سمجھ سکتی ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اس کے مستقبل کے نام کر دی۔


انسان دنیا کے ہر رشتے سے لڑ سکتا ہے۔ ہر تعلق کی بے وفائی کسی نہ کسی طرح برداشت کی جا سکتی ہے، ہر جدائی کا غم وقت کے ساتھ کچھ کم ہو سکتا ہے، مگر اولاد کا اپنے ماں باپ کے سامنے کھڑے ہو جانا، ان سے بدتمیزی کرنا اور ان کی محبت و قربانیوں کو بھول جانا وہ دکھ ہے جس کی شدت کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔


اولاد جب ماں باپ کی بات کو غلط کہے، ان کے فیصلوں کو حقارت سے رد کرے، ان کے سامنے آواز بلند کرے یا انہیں برا بھلا کہے تو یہ صرف ایک لمحے کی تلخی نہیں ہوتی۔ اسی ایک لمحے میں ایک ماں کی عمر بھر کی محبت، ایک باپ کی محنت، بے شمار قربانیاں، دعائیں اور امیدیں جیسے بکھر جاتی ہیں۔


ماں باپ اولاد کی پرورش صرف اس لیے نہیں کرتے کہ بڑھاپے میں انہیں بدلے میں کچھ ملے گا۔ وہ تو محبت میں سب کچھ کرتے ہیں۔ بچے بیمار ہوں تو ماں کی نیند اڑ جاتی ہے، باپ پریشان ہو تو بھی اولاد کے سامنے مضبوط بن کر کھڑا رہتا ہے۔ بچے کی ایک خواہش پوری کرنے کے لیے اپنی کتنی ہی خواہشیں مؤخر کر دی جاتی ہیں۔ کبھی ماں اپنے حصے کی چیز بچے کو دے دیتی ہے اور کبھی باپ اپنی ضرورت روک کر اولاد کی ضرورت پوری کرتا ہے۔


قرآنِ کریم ہمیں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے۔ ان کے ساتھ ادب، نرمی اور احترام کا رویہ اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ یہاں تک کہ اگر ان کی کوئی بات ہماری پسند کے مطابق نہ بھی ہو، تب بھی ان کے ساتھ سختی، بدتمیزی اور بے ادبی کی اجازت نہیں۔


ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ والدین ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ ایک وقت تھا جب وہ ہمیں اٹھا کر چلتے تھے، ہمارے کپڑے بدلتے تھے، ہمارے کھانے پینے کا خیال رکھتے تھے، ہمارے لیے راتوں کی نیند قربان کرتے تھے۔ پھر وقت گزرا اور ہم بڑے ہو گئے۔ اب وہی والدین آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتے ہیں۔


جس طرح کبھی ہم ضدی بچے ہوا کرتے تھے، بڑھاپے میں والدین بھی کئی بار ایک ضدی بچے جیسے ہو جاتے ہیں۔ انہیں بھی توجہ چاہیے ہوتی ہے، بات سننے والا چاہیے ہوتا ہے، کسی کا ہاتھ چاہیے ہوتا ہے جو انہیں سہارا دے۔ وہ شاید ایک ہی بات بار بار سنائیں، ایک ہی قصہ کئی مرتبہ دہرائیں، اپنی چھوٹی چھوٹی تکلیفوں کا ذکر کریں، یا معمولی سی بات پر ناراض ہو جائیں۔


ہم ایک ہی کھلونا بار بار مانگتے تھے، ایک ہی کہانی بار بار سنتے تھے، ایک ہی بات کئی مرتبہ پوچھتے تھے۔ تب ہمارے والدین نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ "ہم یہ بات سو بار بتا چکے ہیں، اب ہمیں تنگ نہ کرو۔"


تو پھر آج جب ان کی باری ہے، ہم ان کی ایک بات سننے سے کیوں تھک جاتے ہیں؟


افسوس یہ ہے کہ جس اولاد کے لیے والدین نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی، بعض اوقات اسی اولاد سے ان کی کوئی بات برداشت نہیں ہوتی۔ اولاد کے پاس اپنے کاموں کے لیے وقت ہے، دوستوں کے لیے وقت ہے، موبائل فون کے لیے گھنٹوں ہوتے ہیں، مگر ماں باپ کے پاس بیٹھنے کے لیے چند منٹ نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔


بڑھاپے میں والدین کی خدمت دراصل اولاد کے لیے ایک آزمائش ہے، اور بہت کم لوگ اس آزمائش کی اصل قدر سمجھ پاتے ہیں۔


ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ والدین ہمیشہ ہمارے ساتھ نہیں رہیں گے۔ ایک دن ان کی آواز خاموش ہو جائے گی۔ ان کی کرسی خالی رہ جائے گی۔ ان کا بستر ویسے ہی پڑا ہوگا۔ ان کے کمرے کا دروازہ شاید ویسے ہی کھلا ہوگا، مگر ہمیں آواز دے کر بلانے والا کوئی نہیں ہوگا۔


پھر ہمیں ان کی وہی آواز یاد آئے گی جس سے کبھی ہمیں شکایت تھی۔


ان کی وہی نصیحتیں یاد آئیں گی جنہیں ہم بوجھ سمجھتے تھے۔


ان کی وہی ڈانٹ یاد آئے گی جس سے ہم ناراض ہوا کرتے تھے۔


ان کے ہاتھوں کی وہی شفقت یاد آئے گی جسے ہم معمول سمجھتے رہے۔


اور شاید اس وقت ہمارے پاس صرف پچھتاوا ہوگا۔


اس لیے اگر آپ کے والدین زندہ ہیں تو ان کی قدر کیجیے۔ آج ہی ان کے پاس بیٹھیں۔ ان سے بات کریں۔ ان کی بات سنیں۔ چاہے وہی بات آپ پہلے کئی بار سن چکے ہوں، پھر بھی ہر بار اسی توجہ اور محبت سے سنیں۔


ان کے ساتھ وقت گزاریں، کیونکہ والدین کو ہمیشہ دولت نہیں چاہیے ہوتی۔ انہیں آپ کی توجہ چاہیے، آپ کی محبت چاہیے، آپ کا وقت چاہیے، اور سب سے بڑھ کر یہ احساس چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے لیے آج بھی اہم ہیں۔


انہیں کبھی یہ محسوس نہ ہونے دیں کہ وہ آپ پر بوجھ ہیں۔


بلکہ ان کا ہاتھ تھام کر انہیں یقین دلائیں:


"آپ ہمارے لیے بوجھ نہیں، ہماری زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔"


یاد رکھیے، ماں باپ کی خدمت کا وقت ان کے زندہ ہونے تک ہے۔ ان کے جانے کے بعد مہنگے کفن، لمبی دعائیں، صدقے اور قبرستان میں بہائے گئے آنسو یقیناً اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان کی زندگی میں دی گئی محبت کا بدل نہیں بن سکتے۔


قبرستان میں کھڑے ہو کر آنسو بہانے سے کہیں بہتر ہے کہ زندہ ماں باپ کی آنکھوں میں خوشی کے دو آنسو لائے جائیں۔


اس سے پہلے کہ وقت ہمارے ہاتھ سے نکل جائے، ان ہاتھوں کو تھام لیجیے جنہوں نے کبھی ہمیں گرنے نہیں دیا تھا۔


اس سے پہلے کہ گھر کا ایک کمرہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے، اس کمرے میں بیٹھ کر ان سے کچھ باتیں کر لیجیے۔


بعض نعمتیں جب تک پاس ہوں تو معمول لگتی ہیں، مگر جب چھن جائیں تو پوری دنیا بھی انہیں واپس نہیں لا سکتی۔