Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

زمین سے آسمان تک کا سفر،تحریر: مہر بشارت صدیقی

نقطہ نظر

انسان کی زندگی ایک مسلسل سفر کا نام ہے۔ یہ سفر کبھی کچے راستوں سے گزرتا ہے، کبھی دشوار گزار پہاڑوں کا سامنا کرتا ہے اور کبھی ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں آگے بڑھنے کی تمام راہیں بند دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ، آنکھوں میں خواب اور قدموں میں ثابت قدمی ہو، وہ ناممکن دکھائی دینے والے راستوں کو بھی ممکن بنا دیتے ہیں۔ زمین سے آسمان تک کا سفر دراصل اسی عزم، حوصلے اور مسلسل جدوجہد کی داستان ہے۔


دنیا میں کوئی انسان کامیابی کی منزل پر ایک ہی جست میں نہیں پہنچتا۔ ہر کامیابی کے پیچھے برسوں کی محنت، بے شمار قربانیاں، ناکامیوں کا سامنا اور حالات سے لڑنے کی ایک طویل کہانی چھپی ہوتی ہے۔ لوگ کامیاب انسان کو بلند مقام پر دیکھتے ہیں، اس کی شہرت اور عزت کی بات کرتے ہیں، لیکن بہت کم لوگ ان کٹھن دنوں کو یاد رکھتے ہیں جب اس کے پاس وسائل محدود، راستے دشوار اور حوصلے کا امتحان لینے والے حالات ہر طرف موجود تھے۔


کامیابی کا آغاز ہمیشہ ایک خواب سے ہوتا ہے۔ خواب وہ نہیں جو انسان نیند میں دیکھتا ہے بلکہ خواب وہ ہے جو اسے سکون سے بیٹھنے نہیں دیتا، جو اسے ہر صبح ایک نئے عزم کے ساتھ بیدار کرتا ہے اور اسے اپنی منزل کی جانب قدم بڑھانے کا حوصلہ دیتا ہے۔ تاہم صرف خواب دیکھنا کافی نہیں، ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے محنت، منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی ضروری ہے۔ جو شخص اپنے مقصد کے حصول کے لیے عملی جدوجہد نہیں کرتا، اس کے خواب محض خواہش بن کر رہ جاتے ہیں۔


ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار افراد موجود ہیں جنہوں نے انتہائی نامساعد حالات میں زندگی کا آغاز کیا۔ کسی کے پاس تعلیم کے وسائل نہیں تھے، کسی کو معاشی مشکلات نے گھیر رکھا تھا، کسی کو خاندان کی ذمہ داریوں نے آگے بڑھنے سے روکے رکھا اور کسی کو معاشرے کے طعنوں اور حوصلہ شکنی کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر ان لوگوں نے حالات کو اپنی منزل کی دیوار نہیں بننے دیا۔ انہوں نے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے، اپنی غلطیوں سے سیکھا اور وقت کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے چلے گئے۔


یہی زندگی کا اصل سبق ہے کہ انسان کی ابتدا اس کی انتہا کا فیصلہ نہیں کرتی۔ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہونے والا بچہ بھی علم و ہنر کے ذریعے اپنی پہچان بنا سکتا ہے۔ محدود وسائل رکھنے والا نوجوان بھی اپنی محنت اور قابلیت سے کاروبار، ملازمت یا کسی دوسرے شعبے میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ اپنی محرومیوں کو اپنی کمزوری بنانے کے بجائے انہیں آگے بڑھنے کا محرک بنائے۔


ہمارے نوجوان اس حقیقت کو سمجھ لیں کہ ناکامی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ سیکھنے کا ایک موقع ہے۔ کسی امتحان میں ناکامی، ملازمت نہ ملنا، کاروبار میں نقصان یا کسی مقصد میں تاخیر انسان کی صلاحیتوں کا حتمی فیصلہ نہیں ہوتی۔ اصل شکست اس وقت ہوتی ہے جب انسان کوشش کرنا چھوڑ دے، اپنے خوابوں سے دستبردار ہو جائے اور حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دے۔ جو شخص گر کر دوبارہ اٹھنا سیکھ لیتا ہے، وہ زندگی کے بڑے امتحانات کا سامنا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔


آج کے دور میں کامیابی کے راستے پہلے سے مختلف ہو چکے ہیں۔ تعلیم کے ساتھ ہنر، ٹیکنالوجی سے واقفیت، وقت کی پابندی اور بدلتے حالات کے مطابق خود کو تیار کرنا انتہائی اہم ہو گیا ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی دلچسپی اور صلاحیت کے مطابق کوئی ہنر سیکھیں، اپنے علم میں اضافہ کریں اور حلال روزگار کے لیے ہر باعزت موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ چھوٹا کاروبار ہو یا کوئی معمولی ملازمت، کوئی بھی کام حقیر نہیں، بشرطیکہ وہ دیانت داری اور محنت سے کیا جائے۔


یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر انسان کے حالات یکساں نہیں ہوتے۔ کسی کو بہتر تعلیمی ادارے میسر آتے ہیں، کسی کو خاندان کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے اور کسی کو بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ اس لیے کامیابی کے سفر میں صرف فرد کی محنت ہی نہیں بلکہ معاشرے، خاندان اور ریاست کا کردار بھی اہم ہے۔ نوجوانوں کو معیاری تعلیم، فنی تربیت، روزگار کے مواقع اور میرٹ پر آگے بڑھنے کے راستے فراہم کرنا اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم واقعی اپنے نوجوانوں کو زمین سے آسمان تک پہنچتا دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کے لیے مواقع کے دروازے کھولنا ہوں گے۔


والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کریں، ان کی صلاحیتوں کو پہچانیں اور انہیں اپنی پسند کے شعبے میں آگے بڑھنے کا موقع دیں۔ اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ طلبہ میں صرف امتحان پاس کرنے کی خواہش پیدا نہ کریں بلکہ انہیں تحقیق، تخلیقی سوچ، کردار سازی اور عملی زندگی کے تقاضوں سے بھی روشناس کرائیں۔ معاشرے کو بھی چاہیے کہ وہ کسی کی ابتدائی ناکامی کا مذاق اڑانے کے بجائے اس کی کوششوں کی قدر کرے۔


یاد رکھیے، بلندی تک پہنچنے کے لیے انسان کو اپنی بنیاد مضبوط رکھنی پڑتی ہے۔ دولت، شہرت اور عہدہ وقتی کامیابی کی علامت تو بن سکتے ہیں، مگر حقیقی کامیابی وہ ہے جس کے ساتھ کردار کی مضبوطی، دیانت داری، عاجزی اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا جذبہ بھی موجود ہو۔ جو شخص بلند مقام پر پہنچ کر اپنے ماضی کو بھول جائے، لوگوں کو حقیر سمجھے اور اپنے اختیار کو دوسروں کے استحصال کے لیے استعمال کرے، اس کی بلندی بظاہر کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، اس میں کامیابی کی اصل روح موجود نہیں ہوتی۔


زمین سے آسمان تک کا سفر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ راستے کی مشکلات سے گھبرانے کے بجائے اپنے مقصد پر نظر رکھنی چاہیے۔ زندگی میں ہر دن ایک نیا موقع لے کر آتا ہے۔ آج کی محنت کل کی کامیابی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر کوشش کا نتیجہ فوری طور پر سامنے آ جائے، لیکن سچی لگن، درست سمت اور مسلسل جدوجہد انسان کو آگے بڑھنے کے مواقع ضرور فراہم کرتی ہے۔


آئیے! ہم اپنی نئی نسل کو مایوسی کے بجائے امید، بے عملی کے بجائے محنت اور دوسروں پر انحصار کے بجائے خود اعتمادی کا پیغام دیں۔ نوجوانوں کو بتائیں کہ ان کے خواب اہم ہیں، ان کی صلاحیتیں قیمتی ہیں اور ان کا مستقبل بہتر بنانے کے لیے ان کی کوششوں کے ساتھ معاشرے کی معاونت بھی ضروری ہے۔


کیونکہ زمین سے آسمان تک کا سفر محض بلندی حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے، مشکلات سے سیکھنے، اپنے کردار کو سنوارنے اور دوسروں کے لیے روشنی کا سبب بننے کا نام ہے۔ منزل انہی لوگوں کو ملتی ہے جو خواب دیکھنے کے ساتھ انہیں حقیقت بنانے کے لیے مسلسل قدم اٹھاتے رہتے ہیں۔