Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

زندگی ہمیشہ وہ نہیں ہوتی جو ہمیں دکھائی دیتی ،تحریر: زینب جہانزیب

نقطہ نظر
zainab jahazeb

زندگی کو سمجھنے میں انسان اکثر اسے پیچیدہ بنا دیتا ہے، حالاں کہ بعض بنیادی حقائق ہماری دانش کے باوجود سادہ رہتے ہیں۔ ہم ہر واقعے کے پیچھے مصلحت، ہر محرومی میں حکمت اور ہر کامیابی میں قابلیت کا ثبوت ڈھونڈتے ہیں، مگر بھول جاتے ہیں کہ زندگی کسی منضبط کتاب کی طرح نہیں جس کے ہر باب کا اختتام ہماری پسند کے مطابق لکھا گیا ہو۔ بعض راستے خواہش کے باوجود بند رہتے ہیں، اور بعض حقیقتیں محض انکار سے نہیں بدل جاتیں۔


انسان کا المیہ یہ نہیں کہ وہ زندگی کو سمجھ نہیں پاتا، بلکہ یہ ہے کہ وہ اسے اپنی مرضی کے مطابق سمجھنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ نیکی آسودگی بنے، خلوص کا جواب خلوص سے ملے اور درست فیصلے درست نتائج تک پہنچائیں۔ مگر زندگی ایسی میزان نہیں جس کے ایک پلڑے میں نیکی رکھی جائے تو دوسرے میں آسودگی اتر آئے۔ کبھی نیک نیتی رکھنے والے خسارے سے دوچار ہوتے ہیں اور کبھی غلط راستوں پر چلنے والوں کے حصے میں آسائشیں آ جاتی ہیں۔ یہ تضاد سمجھاتا ہے کہ عمل کی قدر اور نتیجہ دو الگ حقیقتیں ہیں۔


ہم زندگی کا بڑا حصہ نتائج کے تعاقب میں گزار دیتے ہیں۔ ہمیں منزل بھی درکار ہوتی ہے اور تصدیق بھی کہ ہماری محنت دوسروں کی نگاہ میں قابلِ قدر ہے۔ ہم کامیابی کو شناخت اور ناکامی کو اپنی ذات کا فیصلہ بنا لیتے ہیں۔ حالاں کہ انسان کی معنویت صرف اس سے متعین نہیں ہوتی کہ وہ کہاں پہنچا، بلکہ اس سے بھی کہ اس نے اپنے اندر کیا محفوظ رکھا اور کیا کھو دیا۔ اگر منزل تک پہنچتے ہوئے دیانت، سکون اور انسان دوستی راستے میں رہ جائیں تو کامیابی کا مفہوم بدل جاتا ہے۔


ہم وقت کو گزرتی ہوئی شے سمجھتے ہیں، مگر اس کے گزرنے کا شعور دیر سے پیدا ہوتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ معافی مانگنے، کسی سے ملنے اور خواہشوں کی طرف لوٹنے کے لیے ابھی بہت وقت باقی ہے۔ ہم موجودہ لمحے کو مستقبل کے نام رہن رکھ دیتے ہیں، یہاں تک کہ احساس ہوتا ہے کہ جن لمحوں کو معمولی سمجھ کر گزار دیا، وہی زندگی کے اصل اثاثے تھے۔ وقت اپنی قیمت تب بتاتا ہے جب واپسی کا راستہ باقی نہیں رہتا۔


زندگی کا فلسفہ ہر شے سے بے نیاز ہونے یا ہر خواہش کو بے معنی کہنے کا نام نہیں۔ اگر ہر نتیجہ ہمارے اختیار میں نہیں تو کوشش بے کار نہیں؛ اگر ہر تعلق قائم نہیں رہتا تو محبت بے قدر نہیں؛ اور اگر ہر سوال کا جواب نہیں تو سوچنا ترک نہیں کیا جا سکتا۔ پختگی وہاں جنم لیتی ہے جہاں انسان اختیار اور بے اختیاری میں فرق کرنا سیکھتا ہے۔ وہ اپنی توانائی وہاں صرف کرتا ہے جہاں اس کا کردار مؤثر ہو سکتا ہے، اور ان حقیقتوں کے سامنے انا کو تھکا دینا چھوڑ دیتا ہے جنہیں خواہش سے بدلا نہیں جا سکتا۔


ہم سکون کو مسائل کے خاتمے سے تعبیر کرتے ہیں، حالاں کہ مسائل سے خالی زندگی کا تصور غیر حقیقی ہے۔ سکون ہمیشہ آسودہ حالات کا نام نہیں؛ کبھی یہ داخلی توازن ہے جو انسان کو ناموافق حالات میں بھی اصولوں سے بے وفائی نہیں کرنے دیتا۔ انسان محرومی تسلیم کرتا ہے، مگر اسے شناخت نہیں بننے دیتا؛ ناکامی سے سیکھتا ہے، مگر اسے مقدر نہیں سمجھ لیتا۔


حیات کا فلسفہ کسی عظیم انکشاف میں نہیں، بلکہ ان چھوٹی حقیقتوں کو سمجھنے میں ہے جنہیں ہم بڑے سوالوں کی گرد میں کھو دیتے ہیں۔ انسان ہر چیز حاصل نہیں کر سکتا، ہر حقیقت بدل نہیں سکتا اور ہر شخص کی نگاہ میں درست ثابت نہیں ہو سکتا۔ مگر وہ اپنی نیت کی حفاظت، عمل کی اصلاح اور رویّے کی تہذیب پر بھی مسلسل کام کر سکتا ہے۔ یہی محدود اختیار شعور کے ساتھ استعمال ہو تو زندگی کو معنویت عطا کر سکتا ہے۔


بالآخر زندگی کسی حتمی جواب تک پہنچنے کا نام نہیں، بلکہ سوالوں کے درمیان اپنے وجود کو بے معنی ہونے سے بچانے کا ہنر ہے۔ ہم سب کو ایک دن رخصت ہو جانا ہے، مگر اس مختصر قیام میں ہم نے کتنی چیزیں حاصل کیں، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہمارے ہونے سے زندگی میں کیا بہتر ہوا