اسامہ ستی قتل کیس ، پولیس افسران ملزمان کو بچانے کے لیے سرگرم

باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق، اسامہ ستی قتل کیس میں اہم انکشافات ہوا ہےکہ پولیس افسران پولیس کے اہم افسران کو بچانے کے لئے سرگرم ہیں. وقوعہ کے روز ایس پی سی آئی ملک نعیم گشت افسر مامور تھے،انکوائری کمیشن رپورٹ کے مطابق وائرلیس کال پر گشت افسر نے کوئی رسپانس نہیں کیا ، اے ٹی ایس اہلکاروں کی ڈیوٹی ریڈ زون کی سکیورٹی کے لئے ہوتی ہے ،

جوڈیشل انکوائری رپورٹ کے مطابق اسامہ قتل کے وقوعہ کے روز ایس پی آئی نائن نے خصوصی درخواست پر اے ٹی ایس اہلکاروں کی ڈیوٹی لگوائی ،اے ٹی ایس اہلکاروں کو ایس پی آئی نائن نے رات نو بجے بریف کیا ، اے ٹی ایس کے اہلکار وقوعہ کی رات آئی نائن ڈیوٹی پر موجود تھے ،

ایس پی آئی نائن کا آپریٹر اہلکاروں کو سرچنگ کے لئے نجی یونیورسٹی لے کر گیا ، وائرلیس پر ڈکیتی کی کال پر اہلکاروں نے گاڑی کا پیچھا کیا ، اہلکاروں نے یونیورسٹی سے ہائی وے تک آتے ہوئے گاڑی پر چار فائر کئے ،انکوائری کمیشن رپورٹ میں‌کہا گیا کہ گشت افسر ایس پی سی آئی اے ملک نعیم نے وائرلیس کال پر پروسیڈ نہیں کیا ،

جوڈیشل انکوائری افسر نے اپنی رپورٹ میں وائرلیس کال پر پروسیڈ نہ ہونے کا حوالہ دیا ہے ، انکوائری افسر نے وائرلیس سسٹم پر سوالات اٹھائے، انکوائری افسر نے تکنیکی طور پر ایس پی کو ذمہ دار قرار دیا ،وائرلیس کال کے بعد ایس پی یا ڈی ایس پی کو پروسیڈ کرنا چاہئے تھا ،

وائرلیس کال پر گشت افسر نے بھی رسپانس نہیں کیا ، متعلقہ ایس پی یا ڈی ایس پی نے بھی وائرلیس کال پر پروسیڈ نہیں کیا ، ذرائع

Shares: