fbpx

حادثہ کا ذمہ دار وزارت ریلوے نہیں، ریلوے حکام نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

حادثہ کا ذمہ دار وزارت ریلوے نہیں، ریلوے حکام نے ہاتھ کھڑے کر دیئے
اسلام آباد (محمداویس) قومی اسمبلی کی قائمہ ریلوے کی سب کمیٹی نے ڈھرکی ٹرین حادثے اور ڈی ایس سکھر کی جانب سے قبل ازوقت حادثے کاخدشہ ظاہر کرنے کے معاملے پر سخت نوٹس لئے لیا۔ کنونیئر رمیش لال نے ریماکس دیئے کہ وزارت ریلوے قبل ازوقت نشاندہی کے باوجود کیاسوئی ہوئی تھی وزارت ریلوے اس معاملے کی تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرئے کہ انسانی جانوں سے اس طرح کیوں کھیلاجارہاہے اور اس جانی نقصان کی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے،ریلوے کی غفلت کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہوگئی،

ڈی ایس کے تحریری خط کے بعدحادثے کی ایف آئی آرسیکرٹری ووزیر ریلوے کے خلاف درج ہوسکتی ہے،ڈھرکی حادثے کے زخمیوں اورشہداء کوقانون کے مطابق معاوضہ دیاجائے،سب کمیٹی نے حادثہ پر قائمہ کمیٹی کااجلاس دودن میں طلب کرنے کی درخواست کردی۔حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ ڈی ایس سکھر نے غیرذمہ دارانہ بیان دیا حادثہ کی ذمہ داروزارت ریلوے نہیں ڈی ایس سکھر ہیں۔ڈویژن کا ذمہ دارڈی ایس ہی ہوتا ہے،حادثہ اس جگہ ہواجہاں ٹریک کوڈی ایس نے فٹ قراردے دیا تھا۔

پیرکوقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کی سب کمیٹی کااجلاس کنونیئر رمیش لال کی زیرصدرات پارلیمنٹ ہاو س میں ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری ریلوے بورڈ ظفر زمان رانجھا،ودیگر ریلو ے حکام نے شرکت کی۔کمیٹی نے ڈہرکی میں ریلوے حادثہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ڈی ایس سکھر نے پہلے اس حوالے سے بتادیاتھااور تحریری بھی لکھ کردے دیاتھا توسیفٹی کے حوالے سے اقدامات کیوں نہیں کئے گئے ریلوے کی لاپرواہی کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہوگئی ہیں۔ڈی ایس کے تحریری خط کے بعد حادثے کی ایف آئی آر وزیر اور سیکرٹری ریلوے پر درج ہوگی۔

کنونیئر کمیٹی رمیش لال نے کہاکہ ہم نے ایک ماہ پہلے کہہ دیا تھا کہ اس ٹریک پر حادثہ ہو گا آج پھرڈی ایس سکھر نے میڈیا کو بتایا کہ حادثے کی ذمہ دار وزیر ریلوے و سیکرٹری ریلوے ہیں ملت اورسرسیدایکسپریس حادثے پر دو دن کے اندرقائمہ کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے۔حادثے میں زخمی و شہید ہونے والوں کو جلد معاوضہ دیا جائے۔وزیر ریلوے کمیٹی میں نہیں آتے ہیں افسوس کے کمیٹی کے رولز کا ہی چیرمین کمیٹی کو نہیں پتہ ہے۔آفتاب جہانگیر نے کہاکہ ریلوے حادثے پر افسوس ہوا ہے ایک ذمہ دار افسر نے نشاندہی کی مگر اس کے باوجود اس پر کوئی کام نہیں ہوا۔وزیر کوکمیٹی میں ہونا چاہیے تھا۔ ڈی ایس لاہور کے کمیٹی میں نہ آنے پر کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ریلوے افسران کمیٹی کواہمیت نہیں دیتے ہیں جس پر حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ ڈی ایس ریلوے سپیکر قومی اسمبلی کے ساتھ ہیں وہ لاہور گئے ہیں ان کو آج الوداع کریں گے جس پر کمیٹی نے کہاکہ سپیکر کودوسراافسر بھی الوداع کرسکتا تھا ان کویہاں ہونا چاہیے تھا۔

سیکرٹری ریلوے بورڈ ظفر زمان رانجھا نے کمیٹی کوبتایاکہ ملت اور سرسید ایکسپریس حادثہ پر ذمہ داری ریلوے پرعائد ہوتی ہے۔ڈی ایس ریلوے سکھر نے ایک غیر ذمہ دار نہ بیان دیاہے ڈی ایس ڈویژن کا ذمہ دارہوتا ہے۔ڈی ایس کا کام صرف نشاندہی کرنا نہیں چیزوں کی سیفٹی بھی اسی کاکام ہے۔ جہاں حادثہ ہوا وہاں پر سپیڈ لمیٹڈ 105کلومیٹر ہے۔ٹریک اور بوگی دنوں میں مسئلہ ہوسکتا ہے۔ ڈی ایس کے پاس اختیار ہے کہ اگر وہ سمجھے کہ ٹریک ٹھیک نہیں ہے تو وہ مکمل آپریشن بند کرسکتاہے سپیڈ کی حد لاگو کرسکتاہے مگر اس کے باوجود اگرحادثہ ہوتاہے تو ذمہ داری ڈی ایس کی ہی ہوتی ہے جوٹریک ڈی ایس نے فٹ قراردیا تھاحادثہ وہاں پر ہوا ہے۔حادثہ کی وجوہات کیا ہیں اس کی ابتدائی رپورٹ 24گھنٹوں میں آجائے گی۔ ڈہرکی حادثے کی ذمہ دار وزارت نہیں ڈہرکی حادثے کی وجہ کیا ہے اس کیلئے انکوائری ہو رہی ہے،ہو سکتا ہے کوئی ٹیکنیکل خرابی ہو جس کی وجہ سے حادثہ ہوا،ڈی ایس سکھر کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے،3 بج کر 28 منٹ پہ ملت ایکسپریس کراچی سے فیصل آباد جا رہی تھی،ٹرین 590 کلومیٹر پر پہنچی تو اسکی آخری تین بوگیاں ڈی ریل ہو گئیں، اسی ٹائم کراچی سے سر سید ایکسپریس آ رہی تھی جس سے حادثہ ہو گیا، حادثہ اتنے کم وقت میں ہوا کہ ٹرین کو پیشگی روکنے کے احکامات جاری نہ ہو سکے،

رمیش لال نے کہا کہ ڈی ایس سکھر نے ٹریک کو ان فٹ قرار دیا، بیرا غرق خود کر رہے ہیں، بدنام سیاستدانوں کو کر رہے ہیں،کراچی میں ڈی ایس کا گھر دیکھیں تو 100 کنال کا گھر ہوگا، یہاں ہمارے لاجز میں ایم این او کو ایک کمرے کا اپارٹمنٹ ملا ہوا ہے۔جس پر آفتاب جہانگیر نے کہاکہ آپ کیوں ہمیں دکھی کر رہے ہیں،رمیش لال نے کہاکہ آج 50 بندے شہید ہوئے کون ذمہ دار ہے، آفتاب جہانگیر نے کہاکہ دو دن بعد انکوائری رپورٹ آ جائے گی پتہ چل جائے گا، رمیش لال نے کہا کہ کوئی انکوائری رپورٹ نہیں آئے گی فاتحہ پڑھ لی جائے گی۔

آفتاب جہانگیرنے کہا کہ دودن قبل سکھر ڈویژن میں مال بردارگاڑی خان پور میں حادثے کی شکار ہوئی اس کی بھی ابتدائی رپورٹ نہیں آئی آج بڑا حادثہ ہوگیاہے۔ رکن کمیٹی صابر قائم خانی نے کہاکہ وزارت ریلوے کمیٹی کو عزت نہیں دے رہی ہے ہماری سفارشات کوسنجیدہ نہیں لیاجاتاہے۔سیکرٹری ریلوے بورڈ نے کہاکہ جن افسران نے کمیٹی میں جھوٹ پران کے خلاف محکمانہ کاروائی کی جارہی ہے۔ڈہرکی ریلوے حادثے پر انکوائری شروع ہوگئی ہے 24گھنٹوں کے اندر ابتدائی رپورٹ آجائے گی۔ڈی ایس نے جو ٹریک فٹ قرار دیا تھا حادثہ وہاں ہواہے۔ڈی جی لینڈ لاہور نے کمیٹی کوبتایاکہ لاہور میں 691 ایکڑ زمین پر قبضہ ہے133ملین روپے کی زمین کا قبضہ واگزارکرایاگیاہے 190ایکڑکمرشل زمین پر لاہورڈویژن میں زیرقبضہ ہے۔ صابر قائمخانی نے ریلوے حکام کمیٹی میں جھوٹ بولتے ہیں ہمیں گمراہ کرتے ہیں اب تو ریلوے پر اعتماد بھی ختم ہوگیا ہے۔رمیش لال نے کہاکہ ریلوے زمینوں پر قبضے میں ریلوے حکام خود ملوث ہیں اس لیے کاروائی نہیں ہوتی ہے ریلوے افسروں کے گھر گورنر سے بھی بڑا ہوتا ہے جبکہ ایم این اے کا لاجز میں ایک کمرے والا گھر ملتا ہے ریلوے افسران کے گھروں کی جگہ پلازے بنائیں جائیں۔کہا جاتا ہے کہ ڈی ایس سکھر وزیر ریلوے کا چہیتا ہے اس لیے وہ ان کو نہیں ہٹا رہے ہیں