ٹیلی تھون میں اربوں جمع کرنے کا دعویٰ ،سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے کپتان لے کر گیا خالی ٹرک باغی ٹی وی سب حقائق سامنے لے آیا
ہمیں تو نمک کی ایک چٹکی نہیں ملی،پتہ نہیں کہ عمران خان کے لائے گئے امدادی سامان کے 20 ٹرکوں کا سامان کہاں گیا ؟۔ سیلاب متاثرین۔
باغی ٹی وی (خصوصی رپورٹ)14 ستمبر 2022کو امدادی سامان پرمشتمل 20ٹرکوں کا قافلہ ڈیرہ غازیخان بلوچ لیوی لائنز سے تونسہ کی سیلاب سے متاثرہ علاقے کیلئے روانہ کیا گیا جسے عمران خان نے اپنے ہاتھوں سیلاب زدگان میں تقسیم کرنا تھا تو آئے آپکو لیے چلتے ہیں تونسہ شریف کے سیلاب سے متاثرہ علاقے میں یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ سرکاری امدادی سامان کن لوگوں کو ملا۔

یہ بستی احمدانی کیساتھ واقع ایک بستی گیدڑ والا ہے جس فیکٹری میں عمران خان نے سیلاب زدگان سے خطاب کیا اسی زندہ موڑ روڈ کے جنوب کی طرف اسی سڑک کے ساتھ واقع ہے ۔چاہ گیدڑ والا کی دوبستیاں ہیں ،پوادھی(مشرقی)اور دوسری پچادھی(مغربی) ۔یہ دونوں بستیاں شادن لنڈ فوڈ سنٹر جو کہ تحصیل تونسہ کی حدودمیں بنایا گیا ہے اس کے ساتھ واقع ہیں۔یہاں سیلا ب نے پلک جھپکتے ہی سب کچھ ملیا میٹ کر دیا ان بستیوں کے لوگوں نے بڑی مشکل سے اپنی اور اپنے خاندان کی زندگیاں بچائیں اور انڈس روڈ پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ۔جب اس بستی کے سیلاب متاثرین پوچھا کہ عمران خان کی طرف سے لائے گئے امداد ی سامان میں سے انہیں بھی کچھ ملا یا نہیں تو اس پر اس بستی کے سیلاب زدگان نے جواب دیاکہ ہمیں تو نمک کی ایک چٹکی بھی نہیں ملی،پتہ نہیں کہ عمران خان کے لائے گئے امدادی سامان کے 20 ٹرکوں کاسامان کہاں گیا ؟انہیں بھوت لے گئے یا زمین نگل ،ہمیں آج تک سرکارکی طرف کسی قسم کی امداد نہیں دی گئی اور نہ ہی ہمیں کسی سروے میں شامل کیا گیا،

وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

اتنی تباہی کہ اللہ کی پناہ،آنکھوں دیکھا حال،دل خون کے آنسو روتا ہے

تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

دھویں دار مخبریاں، عمران خان نے اپنا کباڑہ کر لیا، نواز شریف کیلیے بری خبر

ہمیں تو صرف مخیرحضرات کی طرف سے آنے والی امداد مل رہی ہے،جس سے ہماری گذر بسر ہورہی ہے ،دوسری طرف گذشتہ ہفتہ کی شام اس سیلاب سے متاثرہ علاقے میں آنے والی خطرناک طوفانی آندھی اور بارش سے ٹینٹ اکھڑ گئے، سیلاب متاثرین کا سب کچھ تتربتر ہوگیا، بیشتر ٹینٹوں کے لوہے کے پائپ اتنے ناقص تھے کہ وہ کاغذ ثابت ہوئے ،وہ تیز ہو اکے ایک جھونکے کا مقابلہ نہ کرسکے اور وہ پائپ ٹوٹ گئے ،بیشتر ٹینٹ پرانے اور بوسیدہ ہونے کی وجہ سے پھٹ گئے ،سیلاب متاثرین کو کھلے آسمان تلے طوفانی آندھی اور بارش میں رات گذارناپڑی ۔ سیلاب متاثرین وفاقی صوبائی حکومت سے مایوس ہیں انہوں نے کہاکہ ہمیں حکومت سے کچھ اچھے کی امید نہیں ہے،انہوں نے مخیر حضرات سے درمندانہ اپیل کہ ہے خدارا ہمارے بچوں کا سر چھپانے کیلئے ہمیں صرف ایک ایک کمرہ بنوا کر دیں، جب ہمارے بچے ایک محفوظ چھت کے نیچے ہونگے تو ہم بے فکر ہوکر محنت مزدوری کرکے اپنے پائوں پر کھڑے ہوجائیں گے۔

Shares: