ویلڈن وزیراعظم عمران خان، ایسا منصوبہ لائے کہ مخالفین بھی تعریف کرنے پر مجبور ہوںگے، پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں سے بات چیت بھی چل رہی ہے
اسلام آباد ۔ 21 نومبر (اے پی پی)وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ الیکٹرک وہیکلز ٹیکنالوجی کے فروغ سے عوام کو سستی ٹرانسپورٹ میسر آئے گی، طویل مدتی پالیسی کے تحت 2030ءتک ملکی ٹرانسپورٹ کا 30 فیصد الیکٹرک ٹیکنالوجی جبکہ آئندہ چار سالوں کے دوران 5 لاکھ رکشے، موٹرسائیکل اور ایک لاکھ گاڑیاں الیکٹرک ٹیکنالوجی پر منتقل کی جائیں گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان الیکٹرک وہیکلز اینڈ پارٹس مینوفیکچررز اینڈ ٹرینڈرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام الیکٹرک وہیکل ٹیکنالوجی کی افتتاحی تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ پہلے ہی الیکٹرک وہیکلز پالیسی کی منظوری دے چکی ہے۔ اس کی چار بنیادی وجوہات ہیں، پاکستان میں 40 فیصد فضائی آلودگی ٹرانسپورٹ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو الیکٹرک وہیکلز سے سستی ٹرانسپورٹ میسر آئے گی اور ان کے موٹر سائیکل، رکشہ، گاڑیاں، بسوں کے تیل کا بل صرف 30 فیصد رہ جائے گا اور اس ٹیکنالوجی کے فروغ سے تیل کی درآمدات میں بھی واضح کمی ہو گی کیونکہ پاکستان اس وقت تیل کی درآمدات پر خطیر رقم خرچ کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرک وہیکلز انقلابی ٹیکنالوجی ثابت ہو گی اور اس کو عوام میں بے حد پذیرائی ملے گی اور اس کے ساتھ نئی انڈسٹری کو بھی فروغ ملے گا جس میں خاص طور پر چارجنگ سٹیشن، سولر چارجنگ سٹیشن اور بیٹریوں کی انڈسٹری فروغ پائے گی۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ انہوں نے کراچی جا کر گاڑیوں کی کنورژن کٹس بھی دیکھیں جس میں موٹر سائیکل کی کٹس 25 سے 30 ہزار میں دستیاب ہیں، اس حوالہ سے ہم چین سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ ماحول کو فضائی آلودگی سے بچانے کے ساتھ عوام کو سستی ٹرانسپورٹ مہیا ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے پرائیویٹ سیکٹر کو بھی موقع ملے گا، وہ عوام کو سستی گاڑیاں فراہم کریں گے۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ ہم نے گاڑیاں بنانے والی بڑی کمپنیوں ٹویوٹا، سوزوکی اور ہنڈا سے بھی بات کی ہے، وہ اپنی گاڑیوں کو تیل کی بجائے الیکٹرک ٹیکنالوجی میں منتقل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آئندہ چار سالوں تک ہدف مقرر کیا ہے کہ پانچ لاکھ رکشوں اور موٹر سائیکلوں کے ساتھ ایک لاکھ گاڑیوں کو الیکٹرک ٹیکنالوجی میں منتقل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ہم نے طویل مدتی پالیسی کے تحت 2030ءتک ملکی ٹرانسپورٹ کا 30 فیصد حصہ الیکٹرک ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں سے بات چیت بھی چل رہی ہے، لاہور میں اڑھائی سو الیکٹرک بسیں جبکہ کراچی میں 100 الیکٹرک بسیں لائی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پشاور میٹرو بس کے حوالہ سے بھی معاہدہ ہو چکا ہے جس میں 25 فیصد بسیں الیکٹرک ٹیکنالوجی پر چلیں گی۔