لاہور:وزیراعظم عمران خان اورنوازشریف میں فرق واضح ہوگیا،باقی وزرائےاعظم بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے ،اطلاعات کے مطابق وزارت خارجہ نے سینیٹ میں تحریری جواب پیش کردیا جس میں 2008 سے 2018 تک وزرائے اعظم کے غیر ملکی دوروں کی تفصیلات شامل ہیں۔
تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ یوسف رضا گیلانی نے اپنے دور حکومت میں 48 غیر ملکی دورے کیے جن پر 57 کروڑ 16 لاکھ روپے خرچ ہوئے جب کہ انہوں نے 92 روز کے غیر ملکی دورے کیے اور ان کے وفد میں 2137 افراد ساتھ تھے۔

تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم پرویز اشرف نے دور حکومت میں 9 غیر ملکی دوروں پر 10 کروڑ 71 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔
تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں 92 غیر ملکی دورے کیے جن پر ایک ارب 80 کروڑ روپے سے زائد اخراجات آئے، وہ 262 دن غیر ملکی دوروں پر رہے اور ان کے ہمراہ 2390 افراد وفود میں شامل تھے۔
سینیٹ میں آج یہ بھی انکشاف ہوا کہ نواز شریف نے متعدد بارلندن کے نجی دورے بھی کیے، انہوں نے 2016 میں لندن کا 48 روز کا نجی دورہ کیا، ان کے لندن کے نجی دورے پر 6 کروڑ 90 لاکھ روپے اخراجات آئے۔
وزارت خارجہ کے تحریری جواب کے مطابق سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے دور میں 19 غیر ملکی دورے کیے جن پر 25 کروڑ 95 لاکھ روپے خرچ ہوئے، شاہد خاقان عباسی نے 50 دن کے غیر ملکی دورے کیے۔
تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان نے 2018 میں 6 ممالک کے دورے کیے جن پر صرف 4 کروڑ 56 لاکھ روپے کے اخراجات آئے جب کہ انہوں نے 2018 میں 7 روز کے غیر ملکی دورے کیے اور وفد میں 127 افراد شامل تھے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے ماضی میں وزرائے اعظم کے غیر ملکی دوروں کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔
قومی اسمبلی میں کہاکہ ماضی میں قوم کا پیسہ نجی دوروں پر لگایا گیا، اس کی تحقیقات ہونی چاہیے، ان میں پیپلز پارٹی کے دور میں متحدہ عرب امارت کے نجی دورے بھی شامل ہیں۔








