لاہور:یادگارشہدائے پی آئی سی:کب، کیسے اورکن کے ہاتھوں ہوئی شہادت ،لاہورمیں تختی سجادی گئی،وکلا پھربگڑگئے،یادگارشہدا نامنظور،اطلاعات کےمطابق پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی طرف سے ایک ایسی یادگارقائم کی گئی ہے جس پروکلاکی دہشت گردی سے شہید ہونے والے مریضوں کے نام لکھے گئے ہیں
باغی ٹی وی کےمطابق ڈاکٹرزاورانتظامیہ کی طرف سے پنجاب کارڈیالوجی میں ایک چبوترہ قائم کیا گیا ہےپرایک یادگارقائم کی گئی ہے اسے یادگار شہدا پی آئی سی کا نام دیا گیا ہے،اس یادگارپرلگی ہوئی تختی پران بے بس مریضوں کی شہادت کس طرح ہوئی پوری تفیصل لکھی گئی ہے،
ذرائع کےمطابق اس تختی پر لکھا گیا ہےکہ وکلا 11 دسمبر کو پی آئی سی کے ایمرجنسی بلاک میںداخل ہوئے اورڈاکٹرز اورنرسز کو مریضوں کے علاج سے زبردستی روک دیا گیا ،جس کے نتیجے میں تین دل کے مریض موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے

دوسری طرف وکلا نے اس یادگارشہدا کے قائم کرنے پراپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ اسے فی الفور ہٹایا جائے اس سے وکلا کی بدنامی ہورہی ہے، یہ بھی کہا گیا ہےکہ یہ واقعہ دنوں فریقوں کے درمیان تنازعے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اکیلے وکلا ذمہ دارنہیں ہیں
باغی ٹی وی کےمطابق وکلا نے پھر اپنے روایتی اندازبیان سے دھمکانہ شروع کردیاہے اور کہا ہےکہ اس یاد گارکو جلد ہٹایا جائے ورنہ اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے ،اگریہ یادگارنہ ہٹائی گی تو اس سے معاملات پھر بگڑسکتے ہیں








