زندوں کی قدر و منزلت کریں!!! — ضیغم قدیر

0
31

کسی کی تعریف کرنے کے لئے ضروری نہیں کہ اسکے مرنے یا جُدا کا انتظار کیا جائے۔

ایک بار پروفیسر جارڈرن پیٹرسن اس بات پہ رو پڑے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور وہ اس احساس میں مبتلا تھا کہ اس میں کسی چیز کی کمی ہے شائد اسی وجہ سے اس کی کوئی تعریف نہیں کرتا۔ بدلے میں پیٹرسن نے اسکی تعریف کی تو وہ شخص بلک بلک رویا۔ لوگ تعریف سننے کو ترستے یہاں فوت ہوجاتے ہیں۔

ہمارا بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ اگلے کی تعریف کرنے سے وہ شخص ان کے ساتھ اپنا برتاؤ بدل دے گا۔

زیادہ تر گھریلو جھگڑوں کو آپ دیکھ لیں چاہے لو میرج ہو یا ارینج، شادی کے کچھ سالوں بعد لڑائیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ کیوں؟

کیونکہ دونوں ایکدوسرے کو پہلے کی طرح نہیں سراہتے ۔

بہت سے انسانوں کو یہ قدرتی عادت ہوتی ہے کہ وہ خوشی کے موقعے پہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ سائیکالوجیکلی اس مظہر کی کئی وجوہات ہوتی ہیں زیادہ تر بچپن کی احساس محرومیاں۔مگر یہ بات کسی بھی رشتے میں محبت کو کم کرنے کے لئے کافی سے بھی زیادہ ثابت ہوتی ہے۔

بقول کچھ سائیکالوجسٹس ہم ایسے تعریف نا کرکے کسی کو خود اپنی ذات سے نفرت کرنا سکھا دیتے ہیں ۔ وہ لوگ یہ سمجھنا شروع ہوجاتے ہیں کہ ان میں کچھ قابل تعریف ہے ہی نہیں۔

ہمارے معاشرے میں تو تعریف کا اسٹینڈرڈ ہی کافی گھٹیا ہے۔ اگر کسی کو کوئی پیارا لگ رہا ہو تو بجائے اس کی تعریف میں دو بول بولنے کے وہ اس پر کوئی تھرڈ کلاس جگت لگا دیتا ہے۔ جس پر اگلا بندہ شرمندہ شرمندہ سا ہوجاتا ہے۔

بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں۔ مگر یہ کلیئر کٹ ہے کہ کوئی بھی آپ کے دل کی بات نہیں جانتا۔ اگر آپ کسی کو یاد کر رہے ہیں تو آپ کو اگلے کو بتانا ہوگا۔ اگر کسی کو پیار کرتے ہیں تو اظہار کرنا ہوگا۔ سنا تھا کہ خدا بھی اظہار کے بغیر خود سے کی گئی محبت قبول نا کرے اور یہ بات بجا ہے۔

اسی طرح کسی کی قبر کو آپ کی تعریف کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ کسی کی غیر موجودگی کو آپ کی تعریف کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر آپ اسکے سامنے ہوتے ہوئے اس کی دل آزاری کرتے ہیں تو آپ اسکی غیر موجودگی میں چاہے اس شخص کو حاتم طائی ثابت کردیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ہاں

ضرورت ہوتی ہے تو اس وقت جب وہ پاس ہوتا ہے۔ جب وہ چلا جاتا ہے تب آپ کا کچھ بھی اس تک نہیں پہنچتا۔ انفرادی طور پہ اس عادت کو ضرور اپنائیں۔ کبھی کبھار کی تعریف کرنا سیکھیں۔

خاص کر اپنے بچوں کی تعریف کرنا شروع کریں۔ اس نے گنتی لکھنا شروع کی تو ایک چاکلیٹ لا دیں۔ چاہے پانچ والی لا کر دیں دیکھ لیجیے گا اگلی بار وہ نیا ٹاسک جلدی سیکھے گا ۔ بچوں میں ٹاسک پہ خوش ہونا بہت کامن ہوتا ہے اگر آپ ان میں موجود ریوارڈ سسٹم کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو انہیں گفٹ دینا سیکھیں۔

اپنے ملازم کی تعریف کریں۔ تعریف میں چار پیسے زیادہ دیں۔ اگلی بار دیکھیے گا کہ کیسے وہ ڈیڑھ بندوں کا کام اکیلا انجام دیتا ہے۔ کیونکہ تعریف ایک مثبت پرفارمنس بوسٹر ہے۔

اپنے فیورٹ شخص کی تعریف کریں۔ اگلی بار دیکھیئے گا کہ کیسے وہ آپ سے اپنا پیار دو سے تین گنا کرتا ہے۔ یہ ایک واہمہ ہی ہے کہ اگر آپ اپنے پسندیدہ شخص کی تعریف کریں گے تو وہ بگڑ جائے گا یا آپ کی قدر کرنا چھوڑ دے گا بلکہ اگر وہ قدر دان ہوا تو وہ آپ کی پہلے سے زیادہ قدر کرنے لگ جائے گا سو اپنے فیورٹ شخص کی تعریف کرنا شروع کریں یہ عادت آپکے رشتے کو مضبوط بنا دے گی۔

بس ایک بار ٹرائی کرکے دیکھیئے گا۔ کیونکہ ہم میں سے ہر کوئی اس احساس محرومی میں جی رہا ہوتا ہے کہ اس کو کوئی اپنا کبھی نہیں سراہتا جو کہ نہایت ہی غلط بات ہے۔

Leave a reply