پھول مرجھا گئے لوگ پریشان

0
50

قصور
چونیاں میں کروناوائرس کے پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے پھولوں کا کاروبار تباہ ہوگیا زمینداروں کی کھڑی فصلیں، زمینوں پر ہی سوکھ گئیں۔ ان خیالات کااظہار صدرآل پنجاب فلوریکل کلچر کسان اتحاد سردارسرفرازاحمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے میڈیانمائندگان کو بتایا کہ کروناوائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے پھولوں کی پیداوار کرنے والے کسانوں کی کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں اور کسان بدحالی کا شکار ہوچکے ہیں۔ کسانوں کے پاس آنے والی فصل کے بیج، کھاد اور دیگر اخراجات کے پیسے بھی اس وقت موجود نہیں ہیں۔ پورے پاکستان میں اس شعبہ سے لاکھوں لوگ وابستہ ہیں اور اپنا روزگار حاصل کررہے تھے۔ مارچ، اپریل کے مہینوں میں پھولوں کی فصل کرونا وائرس اور حکومتی لاک ڈاؤن کی وجہ سے تباہ و برباد ہوگئی ہیں۔ کیونکہ حکومتی ایس او پیز کے مطابق فلاورمنڈیاں، فلاوردوکانیں اور شادی ہال بند ہیں جس کی وجہ سے کسانوں، بیوپاریوں اور دوکانداروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ کسان بھاری نقصان سے دوچارہونے کے ساتھ ساتھ بیج اور کھاد ڈیلروں کے مقروض بھی ہوچکے ہیں۔ فلوریکل کلچر شعبے کی بقاکے لئے حکومت فوری طور پر ریلیف پیکج اور بغیر سود کے آسان شرائط پر پھول کاشت کرنے والے کسانوں کو قرضے دے تاکہ یہ کسان آئندہ اس شعبے کی بقااورترقی کے لئے فارمنگ کرسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدرپاکستان اور وزیراعظم فلوریکل کلچر سے جڑے ہوئے کسانوں کو درپیش مشکلات کا نوٹس لیتے ہوئے کسانوں کے لئے ریلیف پیکج کا اعلان بھی کریں

Leave a reply