کیا ہندوستان خطے کا امن تہہ و بالا کرنے جا رہا ہے — فہیم شاکر

2 اگست 2019 دوپہر 1 بجکر 3 منٹ ہوئے ہیں
جیو نیوز کے ٹویٹر ہینڈلر سے ٹویٹ کی جاتی ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ معاملات بگڑتے جا رہے ہیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو مراسلہ ارسال کر رہا ہوں
دوسری طرف انڈیا ٹوڈے نے خبر لگائی کہ 28 ہزار فوجی وادی کشمیر کی طرف روانہ ہو چکے ہیں ہفتے عشرے قبل 10 ہزار فوجی روانہ ہوئے تھے
تیسری طرف ANI نے خبر لگائی کہ موجودہ حالات کی سنگینی کے تناظر میں حکومت نے بھارتی فضائیہ اور آرمی کو ہائی آپریشن الرٹ موڈ پر کر دیا ہے اسی طرح 2 اگست 2019 دوپہر 3 بجکر 13 منٹ پر ANI ٹویٹ کرتا ہے کہ پاکستان آرڈیننس فیکٹری کی تیارکردہ اینٹی پرسنل مائن (فرد شکن بارودی سرنگ) سیکیورٹی فورسز نے برآمد کر لی ہے اور اس کے ذریعے بھارتی میڈیا یہ تاثر دے رہا ہے کہ پاکستان ہندوستان کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے جبکہ دنیا واضح طور پر جانتی ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے
یہ تو واضح ہو چکا ہے کہ انڈیا نے کہانی پہلے سے ہی لکھ رکھی تھی اب اس پر عمل ہو رہا ہے
ورنہ کشمیریوں کو یہ نہ کہا جاتا کہ مہینے بھر کا راشن جمع کر لیں
انڈیا کے عزائم صرف خطرناک ہی نہیں ہیں بات اس سے بہت آگے جا چکی ہے
مقبوضہ وادی میں ایک بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی آمد اور بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے تحاشہ گولہ باری تاکہ پاکستان کو اشتعال دلایا جا سکے اور شاہ محمود قریشی کا یہ کہنا کہ حالات بگڑتے جا رہے ہیں اور میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو مراسلہ ارسال کر رہا ہوں یہ سب کسی بڑے حادثے کی طرف اشارہ دے رہے ہیں
ہندوستان لائن آف کنٹرول پر پاکستانی علاقوں میں گولہ باری کر کے عام آبادی کو نشانہ بناتا ہے جس سے افراد شہید اور زخمی ہوتے ہیں جبکہ پاکستان ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ بارڈر کے دونوں اطراف مسلمان آباد ہیں اور انڈیا اسی ایک بات کا بے تحاشہ فائدہ اٹھاتا ہے
کچھ عرصہ قبل ہندوستانی معروف کرکٹر دھونی کی مقبوضہ کشمیر آمد اور فوج میں ایک ماہ کے لیے خدمات انجام دینے کی خبریں بھی زیر گردش رہیں انڈیا سے کچھ عبث نہیں کہ وہ دھونی کو مروا کر الزام پاکستان پر دھر دے اور بڑی جنگ چھیڑ دے
اب آئیے پاکستان کی طرف
کوئٹہ بم دھماکہ،طیارہ حادثہ، افغان بارڈر پر شہادتیں، بارشوں سے ہلاکتیں، سیلابی صورتحال، وادی نیلم بھارتی شیلنگ، اور آج پشین دھماکہ جس میں 10 افراد کی شہادت کی اطلاع،
اور دوسری طرف پاک فوج پاکستان کے اندر سیلابی صورتحال سے نبرد آزما جبکہ سیاہ ست دان ملکی سپریم اداروں پر لاف زنی میں مصروف، کسی کو احساس ہی نہیں دشمن پر تول چکے ہیں، اور پاکستان کی سلامتی اس وقت شدید خطرے میں ہے، ملکی دفاع صرف فوج ہی کا کام نہیں، عوام کو ہر حال میں فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا ہوگا سیاہ ست دانوں کی بات البتہ الگ ہے وہ تو کبھی پاکستان سے مخلص رہے ہی نہیں
لیکن اس کے باوجود ان کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے اگر انہیں کسی بھی طریقے سے نقصان پہنچا یا قتل کرنے کی کوشش کامیاب ہو گئی تو ان کی پارٹی کے افراد ریاست کے خلاف بغاوت کر کے دشمنوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع دے سکتے ہیں اور یہی خواہش پاکستان دشمنوں کی ہے اور یہی سیاہ ست دان چاہتے ہیں،. جیسے کہ مریم نواز آئے روز ریاست کو للکارتی اور طیش دلاتی ہے لیکن ریاست صرف برداشت کرنے کی اصول پر کاربند ہے ورنہ مریم نواز نے اپنی طرف سے کمی کوئی نہیں چھوڑی، اور حکومتِ وقت پر الزامات کی بوچھاڑ کر اپنے پارٹی کارکنان کو ہر وقت یہ باور کرانے کی کوشش کرتی رہی کہ پاکستان کے تمام کردہ و ناکردہ جرائم، موجودہ و ماضی کے تمام مسائل کی جڑ خان ہی ہے تاکہ اگر خدانخواستہ مریم نواز کو کچھ ہوتا ہے (جس کے چانسز 70 فیصد موجود ہیں) تو پارٹی کارکنان خان کے خلاف علمِ بغاوت بلند کردیں اور اس ساری صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ کس کو پہنچے گا یہ ہم سب جانتے ہیں تو یہ بالکل واضح ہے مریم نواز دانستہ کن قوتوں کی آلہ کار بن چکی ہے؟ اور وہ یہ سب جانتے بوجھتے ہوئے کر رہی ہے
اور قوم کو بغاوت پر اکسانے والے بالکل تیار بیٹھے ہیں
میں نے اپنی گذشتہ تحاریر میں اس بات کس شُدمُد سے اظہار کیا تھا کہ مودی سرکار پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کرے گی تو کچھ دوستوں نے اس بات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب انڈو پاک جنگ کا لالی پاپ دینا بند کیا جائے اور پاکستان ہندوستان مُڈبھیڑ کا چورن بیچنا بند ہونا چاہیے لیکن انہی دوستوں کی خدمت میں آج ساری صورتحال پیش کر کے یہ کہہ رہا ہوں کہ دیکھ لیجیے ہماری کہی بات پوری ہو رہی ہے
حالانکہ ہم نے کسی قدر کم خطرے کا اظہار کیا تھا لیکن موجودہ خطرہ بیان کردہ سے 10x زیادہ ہے
کیونکہ ہندوستان نے جس انداز سے مقبوضہ وادی میں موجود سیاحوں کو فوری وادی سے نکل جانے کا حکم دیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان یا تو مقبوضہ وادی کو چاروں طرف سے گھیر کے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے جا رہا ہے یا پھر پاکستان کے ساتھ کوئی نئی پنجہ آزمائی کا ارادہ رکھتا ہے لیکن کیا پاکستان بے خبر ہے؟
سوشل میڈیا کے شیروں کو خبر ہو کہ پاکستان بالکل تیار کھڑا ہے اور پہلے سے زیادہ بہتر انداز میں جواب دینے کی پوزیشن میں ہے
لیکن کیا ہم سوشل میڈیا کے محاذ پر پاکستان اور مسلح افواج کی پشتیبانی کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم. اس محاذ پر جنگ لڑنے کو تیار ہیں؟
یاد رکھیے اب نعروں سے کام چلنے والا نہیں، اب دشمن پراپیگینڈہ تیز کرے گا اور من گھڑت اور جھوٹی خبریں پھیلائے گا تاکہ وطن عزیز کے اندر انتشار پھیلے لیکن آپ ہی وہ تازہ دم دستہ ہیں جنہوں نے ملک و قوم کو اصل حالات سے باخبر رکھنا ہے اور دشمن کی پھیلائی جھوٹی افواہوں کو ختم کرنا ہے
پاک فوج وطن عزیز کے چپے چپے کے دفاع کے لیے بالکل مستعد ہے لہذا آپ بھی وطن کے دفاع کی خاطر *استعدوا* ہوجاو

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.