ورلڈ ہیڈر ایڈ

16 قومی و صوبائی اراکین اسمبلی پی ٹی آئی میں شامل، ن لیگ کی قیادت میں کھلبلی

آج درجن سے زائد قومی و صوبائی اراکین اسمبلی نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی ہے. جو رہنما پی ٹی آئی میں‌ شامل ہوئے ہیں ان میں اورنگزیب خان کھچی، محمد غفار وٹو، محمد فاروق اعظم ملک، مخدوم سید سمیع الحسن گیلانی ، سید مبین احمد، چودہری جاوید اقبال وڑائچ ، مخدوم باسط بخاری ، عامر طلال گوپانگ، عبد المجید خان نیازی، نیاز احمد جھاکڑ، خواجہ شیراز محمود ، امجد فاروق خان کھوسہ، سردار محمد خان لغاری، سردار جعفر خان لغاری، سردار نصراللہ خان دریشک، سردار ریاض محمود خان مزاری شامل۔

باغی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق یہ سبھی اراکین اسمبلی پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت سے ناراض تھے اس لئے انہوں‌ نے پی ٹی آئی میں‌ شامل ہونے کو ترجیح دی ہے . واضح رہے کہ آج ہی وزیر اعظم عمران خان سے مسلم لیگ ن کے بعض ناراض ارکان نے ملاقات بھی کی ہے۔ اس ملاقات کے حوالہ سے بھی یہ بات منظر عام پر آئی کہ ن لیگ کے ناراض ارکان قومی و پنجاب اسمبلی نے حکومت سے رابطہ کیا جس کے بعد ان کی وزیر اعظم سے ملاقات طے کی گئی اور ہفتہ کو انہوں نے بنی گالہ میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار بھی شریک ہوئے۔ لیگی ارکان کی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد یہ سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں کہ کہیں ن لیگ میں فارورڈ بلاک تو نہیں بننے جارہا؟۔

ذرائع کے مطابق اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں‌ میں‌ ن لیگ کے بعض‌ اراکین اسمبلی بھی پی ٹی آئی میں شامل ہوں‌ گے. حالیہ دنوں‌ میں‌ شہباز شریف اور مریم نواز کے باہمی اختلافات کی خبریں‌ بھی زیر بحث رہی ہیں. مریم نواز نے چند دن قبل لاہور میں‌ کی جانے والی پریس کانفرنس میں میثاق معیشت کی مخالفت کی تھی ۔ ن لیگی اراکین اسمبلی اس بات پر بھی پریشان ہیں‌ کہ اس وقت پارٹی کی قیادت کون کر رہا ہے؟ کیو نکہ نواز شریف جیل میں ہیں اور مریم نواز، ۔شہباز شریف کے بیانیے الگ الگ ہیں ۔ مریم نواز حکومت کے خلاف سخت رویہ اپنا رہی ہیں جبکہ شہباز شریف میثاق معیشت کر رہے ہیں ۔

یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ مریم نواز کے نارووال جلسہ میں احسن اقبال کے گروپ نے شرکت نہیں کی تھی ۔ ان باتوں‌ سے پتہ چلتا ہے کہ پارٹی کے اندر اختلافات عروج پر ہیں یہی وجہ ہے کہ ن لیگ کے اراکین پارلیمنٹ اور بعض‌آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والے اراکین پارلیمنٹ نے پی ٹی آئی حکومت کی طرف جانے کی حامی بھری ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.