ورلڈ ہیڈر ایڈ

مقبوضہ کشمیر: کرفیوکا 35 واں دن بھارتی مظالم جاری،بھارت کےخلاف مزاحمت،بغاوت اورنفرت کےآثارنمایاں

مقبوضہ وادی میں کرفیو کا 35 واں روز ہے، لوگوں کے رابطے معطل، کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی قلت کا سامنا ہے، مسلسل جبری پابندیوں کے باوجود سری نگر اور دیگر شہروں میں احتجاج جاری ہے۔مقبوضہ وادی میں لاک ڈاؤن کے ایک ماہ بعد کشمیری عوام حکام کی ان تمام کوششوں کی مزاحمت کر رہے ہیں جن کے ذریعے وہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وادی میں صورتحال معمول پر آ رہی ہے۔

صرف سری نگر جہاں بھارت کا دعویٰ ہے کہ صورت حال ان کے کنٹرول میں ہے ، وہاں صورت حال یہ ہے کہ سکولوں اور اہم سرکاری دفاتر میں حاضری 50 فیصد سے کم ہے، نواحی علاقوں میں اس سے بھی کم ہے۔ محکمہ ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ کے 300 کے عملے میں سے صرف 30 ارکان حاضر ہو رہے ہیں، ان میں سے زیادہ تر ملازمین کے گھر دفتر کے قریب ہیں،اس کے باوجود دفاتر نہیں آرہے

ذرائع کےمطابق اس وقت مقبوضہ وادی میں جگہ جگہ بھارتی فوجی تعینات ہیں جنہوں نے خاردار تاریں لگا کر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں، کشمیری اپنی سر زمین پر قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، لوگ اپنے پیاروں کی خیریت جاننے کے لیے ترس گئے۔مقبوضہ وادی کا بیرونی دنیا سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہے، انٹرنیٹ، موبائل سروس، لینڈ لائن اور ٹی وی چینلز بند ہیں۔ حریت رہنماؤں سمیت ہزاروں کشمیری بدستور جیلوں میں بند ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بڑی تعداد میں کشمیریوں کو اتر پردیش، لکھنو کی مختلف جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری خواتین کو آسانی سے جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے، دیہاتی علاقوں میں خوف زیادہ ہے، آرمی کے بندے گھروں میں داخل ہو جاتے ہیں اور لوگوں کو لوہے سے مارتے ہیں، گھر دور دور ہونے کی وجہ لوگ تشدد کی آواز بھی نہیں سن سکتے اور نا ہی ان کی مدد کے لیے کوئی آتا ہے کہ وہ آرمی کو گھروں کو نکالے

دوسری طرف بھارتی خبر ایجنسی دی وائر نے بھی مقبوضہ وادی کی اصل صورتحال بے نقاب کر دی، کشمیری شہری کا کہنا ہے کہ شہریوں کیساتھ جانوروں جیسا سلوک ہو رہا ہےکشمیری شہری کا کہنا تھا کہ بھارت جب چاہے دروازہ کھول کر ہمیں چارا ڈالتا ہے جب چاہے پھر بند کردیتا ہے، کشمیریوں کو 50 سال سے ترقی کا سبز باغ دکھایا جارہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کرفیو، لاک ڈاؤن، جگہ جگہ قابض فوج کے باعث پوری وادی قید خانہ بن چکی ہے۔ سری نگر کے میئر جنید اعظم مٹو بھی بھارتی اقدامات پر پھٹ پڑے اور کہا ساری سیاسی قیادت نظر بند ہے، دلی سے سری نگر واپس جانے پر انہیں بھی حراست میں لے لیا جائے گا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ن مظالم کے باوجود بھارت کے ہر قسم کے جبر کے سامنے کشمیریوں‌ کا حوصلہ بلند ہے. نوجوان بھارتی فوج کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ مظاہروں میں ہزاروں نوجوانوں نے شرکت کر کے آزادی کے حق میں‌ نعرے بازی کی اور پتھراو کر کے بھارتی درندوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔کرفیو لاک ڈاؤن، مواصلاتی رابطے بند، خوارک اور ادویات کی کمی، بھارت کے ٖہر طرح کے غاصبانہ حربوں کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں۔کشمیری نوجوانوں نے بھارتی سامراج کی پابندیوں کو توڑتے ہوئے مظاہرے کیے، ہزاروں نوجوانوں نے آزادی ریلیاں نکالیں جن پر بھارتی فوج نے آنسو گیس کے شیل پھینکے اور پیلٹ گن کے فائر کیے۔

کشمیر میڈیا سروس کےمطابق دس ہزار سے زیادہ گرفتار افراد میں سے چار ہزار پانچ سو کشمیریوں پر بدنامہ زمانہ کالے قانون پی ایس اے کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔انسانیت سے عاری قابض بھارتی فوج نے خواتین اور بچوں کو آنسو گیس اور پیلٹ گن سے نشانہ بنایا۔ بھارتی فوج کا رات گئے کشمیریوں کا کریک ڈاؤن بھی جاری ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اب تک دس ہزار کشمیریوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

وادی میں تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔ سڑکوں پر سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہے، طالبعلم سکول سے غیر حاضر ہیں۔ بھارتی فوج کے خلاف زبردست احتجاج کیا جائے گا۔5 اگست سے اب تک1250سے زائد چھوٹے بڑے مظاہرے ہوچکے ہیں۔ بھارتی فوج کی فائرنگ، پیلٹ گن اور آنسو گیس کی شیلنگ سے سیکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے، حکومتی اہلکار کے مطابق اب تک سیکڑوں افراد پیلٹ گن سے زخمی ہوئے ہی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.