ثناء پروین دختر مستانہ خان کا پوسٹ مارٹم اور PFSA کا نتیجہ موصول ہونے کے باوجود تھانہ واہ کینٹ کی پولیس کا FIR درج نہ کرنا ماورائے عقل۔ ایڈیشنل سیشن جج کا تھانہ واہ کینٹ کو FIR درج کرنے کا حکم۔

تفصیلات کے مطابق محمد سلیمان ولد مستانہ خان سکنہ گٹیا تحصیل ٹیکسلا نے تھانہ واہ کینٹ میں درخواست بابت اندراج مقدمہ کی درخواست دی تھی کہ اسکی ہمشیرہ ثناء پروین کو حسرت، افتیاز بی بی، علیشہ بی بی نے باہم صلاح و مشورہ ہو کر زہریلی شے کھلا کر قتل کر دیا جس پر تھانہ واہ کینٹ نے متوفیہ کا پوسٹ مارٹمThq ہسپتال سے کروایا کیونکہ متوفیہ کے بھائی نے قتل کا شبہ ظاہر کیا تھا اور THQ ہسپتال ٹیکسلا نے متوفیہ کے نمونے پنجاب فورنزک سائنس لیبارٹری لاہور بھجوائے تھے جو کہ PFSA کی رپورٹ میں POSPHINE کی موجودگی ظاہر کی

مگر لیبارٹری رپورٹ کے باوجود تھانہ واہ کینٹ کی پولیس نےFIR درج نہ کی جس پر مقتولہ کے بھائی محمد سلیمان نے نعروف قانون دان طاہر محمود راجہ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی وساطت سے بعدالت جناب طاہر عباس سپرا جسٹس آف پیس/ ASJ ٹیکسلا میں 22 A رٹ پٹیشن دائر کی اور موقف اختیار کیا کہ لیبارٹری رپورٹ میں ذہر آلود مواد کی موجودگی سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ مقتولہ کی موت اتفاقیہ نہیں بلکہ مرگ قتل ہے اور متاثرہ فیملی کو خدشات کو تقویت دیتا ہے

مگر اسکے باوجود مقامی پولیس کا تاحالFIR درج نہ کرنا ماورائے عقل ہے۔ فاضل جج نے طاہر محمود راجہ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے SHO تھانہ واہ کینٹ کو زیر دفہ 154 ضابطہ فوجداریFIR درج کرنے کا حکم دیا۔ قبل ازیں معاملہ کی دریافت پر سعید اکبر کیانی SI مامور تھے

Shares: