پاکستان نے اسرائیل کو کیسے سبق سکھایا ، سینیٹر مشاہد حسین کی ایوان میں دبنگ تقریر
باغی ٹی وی : سنیٹر مشاہد حسین سید نے سینٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیر اور فلسطین کے متعلق وہ موقف اپنایا ہے جو بانی پاکستان قائد اعظم نے قوم کو دیا تھا . ان کا کہنا تھا کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جو کہ غیر عرب ہے لیکن فلسطین پر عربوں والا موقف رکھتا ہے .
ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کے عوام کو جب تک اسرائیل آزد ریاست کا حق نہیں دیتا تب تک پاکستان کسی صورت بھی اس کو قبول نہیں کرسکتا ، کشمیر اور فلسطین کا قضیہ ایک طرح کا ہے . اسرائیل میں نیتن یاہو فاششٹ ہے اور کشمیر میں مودی فاششٹ ہے دونوں ہی اسلام دشمن ہیں اور مسلم کشی میں سرگرم ہیں .
سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور غلام اسحاق بھی کریڈٹ کے مستحق، سہرا نواز شریف کے سر جاتا ہے،ایٹمی دھماکے رکو انے کے لئے سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے نواز شریف کو 5 بار فون کیا اور 5 ارب ڈالر امداد کی پیش کش کی مگر سیاسی حکومت نے ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایٹمی دھماکہ کیا جس کی وجہ سے بھارت کے ساتھ جنگ کا خطرہ ٹل گیا اور پاکستان پہلا اسلامی ایٹمی طاقت بن گیا .
سینیٹر مشاہد حسین کا سینیٹ میں اہم خطاب#PalestineBleeding #KashmirBleeds pic.twitter.com/N7ijDlHlwC
— Baaghi TV باغی ٹی وی (@BaaghiTV) May 31, 2021
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ایئر فورس نے 1967 اور 1973 میں اسرائیل کو ناکوں چنے چبوائے ،اب بھی حالیہ غزہ جنگ میں پاکستان ، ترکی ، ایران کا بہت بڑا کردار ہے .پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے قابل وکلا کو تیار کرے اور عالمی عدالت میں اسرائیل کے جرائم کو اجاگر کرنے کے لیے قانونی جنگ لڑے . یہ سب سے اہم ہے .
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایسا ایشو ہے جس پر حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں مکمل طور پر ایک پیج پر ہیں. ہمارا اتحاد ہی اس کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے .








