جموں میں مزید ڈرون حملوں کا خطرہ، بھارت نے اسرائیل سے مدد مانگ لی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر میں بھارتی فضائیہ کے مرکز پر ڈرون حملوں کا الزام بھارتی تجزیہ کاروں نے پاکستان پر عائد کر دیا

جموں کشمیر میں بھارتی فضائیہ کے مرکز پر 27 جون کو رات دو بجے کے قریب دو دھماکے ہوئے جنہیں ڈرون حملہ قرار دیا گیا ،بھارتی فضائیہ کے اڈے پر ڈرون حملوں نے بھارتی سیکورٹی اداروں کی سیکورٹی پر سوالات کھڑے کئے تو بھارتی تجزیہ کاروں نے الٹا چو کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق ان حملوں کا الزام ماضی کی طرح پاکستان پر عائد کر دیا، تحقیقاتی اداروں نے واضح کیا کہ یہ ڈرون حملے ہی تھے تا ہم مزید تحقیقات جاری ہیں کہ یہ حملہ کس طرح اور کیسے کیا گیا ،بھارتی تحقیقاتی اداروں نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ڈرون کو جموں کشمیر میں کئی عرصے سے استعمال کر رہا ہے تا ہم اس طرح کا حملہ اور دھماکے پہلی بارہوئے ہیں

بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کنڑول لائن اور سرحد کے قریب ڈرون استعمال کرتا ہے تا ہم جموں میں ڈرون کیسے پہنچے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ہمارے ادارے اتنے غافل کیوں تھے، بھارتی دفاعی تجزیہ کار انیل گور نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی ڈرون کا استعمال ہتھیاروں کی سپلائی کے لئے استعمال کرتی ہے،کئی بار ڈرون کی اس کوشش کو ناکام بنایا گیا، یہی وجہ ہے کہ اب آئی ایس آئی نے ڈرون سے حملے شروع کر دیئے ہیں جو ہمارے اداروں کے لئے بہت بڑی وارننگ ہے کہ پاکستان کے ڈرون نے بھارتی فضائیہ کے اڈے کو نشانہ بنایا اور ہمیں پتہ ہی نہیں چلا ،بھارتی حکومت کو چاہئے کہ ڈرون حملوں کو روکنے کے لئے موثر پالیسی بنائے،اس جدید ٹیکنالوجی سے ہونے والے حملوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی روکا جا سکتا ہے،اسلئے ضروری ہے کہ بھارتی حکومت جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرے اور مزید کسی بڑے نقصان سے بچے،بھارت اینٹی ڈرون سسٹم نصب کرے،

بھارتی دفاعی ماہر نے نہ صرف پاکستان بلکہ چین کے خلاف بھی ہرزہ سرائی کی اور کہا کہ چین اور پاکستان بھارت کے خلاف کچھ بھی کر سکتے ہیں،پاکستان نے منگلا کے مقام پر ڈرون بریگیڈ قائم کیا ہے جہاں ڈرون استعمال کرنے کی تربیت دی جاتی ہے،

دوسری جانب بھارتی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت نے اینٹی ڈرون سسٹم پر کام کا آغاز کر دیا ہے، کئی فوجی تنصیبات میں اینٹی ڈرون سسٹم نصب کیا جا چکا ہے، بھارت نے لال قلعہ پر ڈرون حملے کے خدشے کے پیش نظر پہلی بار اینٹی ڈرون سسٹم نصب کیا تھا، جس کا نام لیزر بیسڈ ڈائریکٹیڈ اینرجی ویپن تھا جس کا تجربہ کامیاب ہوا تھا،یہ سسٹم کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے ڈرون کو لیزربم کے ذریعہ گرا سکتا ہے ۔ ایک اور سسٹم ہے جو کہ ڈی آر ڈی او کے لگاتار ٹرائل پر ہے کہ کیسے مائیکروویو کے ذریعہ ڈرون کو گرایا جاسکے ۔ اس کو جیمنگ سسٹم بھی کہا جاتا ہے ۔ ڈرون کسی نہ کسی کمیونیکیشن سسٹم کے ذریعہ ہی آپریٹ ہوتا ہے اور اس کمیونیکیشن کو جام کرنے پر ڈرون اپنے آپ نیچے آجاتا ہے بھارت اس کا کامیاب تجربہ کر چکا ہے

بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت کے سی ڈی ایس بپن راوت تسلیم کر چکے ہیں کہ مستقبل کی جنگ کے لئے خود کو تیار کرنا ہو گا، جموں میں فضائیہ کے اڈے پر حملہ تشویشانک ہے تا ہم بھارت نے اس ضمن میں تیاریاں تیز کر دی ہین، بھارت کی تینوں افواج کے اہم اڈوں پر اینٹی ڈرون سسٹم نصب کرنے کی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں. اسکے لئے بھارت نے اسرائیل سے بھی مدد لی ہے اور بھارتی بحریہ نے چھوٹے ڈرون سے نمٹنے کے لئے اسرائیل کو اینٹی ڈرون سسٹم کا 2000 سے زائد کا آرڈر کیاہے یہ اینٹی ڈرون سسٹم کمپیوٹرائیزڈ ہے، اسکو بندوق کے اوپر بھی لگایا جا سکتا ہے اور کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے ڈرون کو اس سسٹم سے فضا میں ہی تباہ کیا جا سکتا ہے

دوسری جانب بھارتی سیکورٹی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ جموں شہرکے علاقے کالوچک میں فوجی مرکز کے قریب مزید دو ڈرونز آئے جن پر بھارتی فوجیوں نے گولیاں چلائیں اور اسکے بعد وہ ڈرون واپس چلے گئے، یہ واقعہ بھارتی فضایئہ کے مرکز پر ڈرون حملوں کے ایک روز بعد پیش آیا

بھارتی فوجی ذرائع نے خبر رساں ادارے یو این آئی کو بتایا کہ کالوچک میں فوجی مرکز کے قریب اتوار کی رات بارہ بجے دو ڈرون فضا میں آئے، جس پر فوجیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا کہ آج پھر کوئی حملہ نہ ہو جائے تا ہم ڈیوٹی پر تعینات فوجیوں نے گولیاں چلائیں جس کے بعد ڈرون واپس چلے گئے، واقعہ کے بعد جموں میں مقیم دفاعی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل دویندر آنند کا کہنا تھا کہ ہمارے فوجی جوانوں نے کالوچک فوجی علاقے میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب دو الگ الگ ڈرونز کی سرگرمیاں دیکھیں۔ اس کے فوراً بعد ہائی الرٹ جاری کیا گیا اور ان پر فائرنگ کی گئی۔ دونوں ڈرونز واپس چلے گئے اور اس طرح ہمارے فوجیوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اور حملے کو ٹال دیا،

واضح رہے کہ بھارت کے جموں میں فضائیہ کے اڈے پر دو روز قبل حملہ ہوا تھا جسے ڈرون حملہ کہا گیا، واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں، بھارتی قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کی ٹیم نے جموں کے بھارتی فضائیہ کے اڈے کے دورہ کیا اور ہونے والے دو دھماکوں کی تحقیقات کیں، دھماکوں میں بھارتی فضاییہ کے دو جوان زخمی ہو گئے تھے جبکہ عمارت کو بھی نقصان پہنچا تھا

بھارتی میڈیا کے مطابق تحقیقاتی ایجنسی کے ذرائع نے ابتدائی تحقیقات میں دعویٰ کیا ہے کہ دھماکہ خیز مادہ کو ڈرون سے گرایا گیا جس سے دھماکہ ہوا لیکن ابھی بھی سرکاری طور پر اسکی تصدیق نہیں ہو سکی، این آئی اے کے ایک افسر کا کہنا تھا کہ تحقیقات جاری ہیں جلد حقائق سامنے آ جائیں گے، پہلے دھماکے سے عمارت کو نقصان پہنچا اور دوسرا دھماکہ کھلے علاقے میں ہونے کی وجہ سے نقصان نہیں ہوا، البتہ بھارتی فضائیہ کے دو جوان زخمی ہوئے جن کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا

بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصد

بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ جان کر ہوں حیران

بریکنگ.بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ، کیپٹن ہلاک

بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ،پائلٹ ہلاک، رواں برس کتنے طیارے تباہ ہو چکے؟

واقعہ کے بعد جموں میں ہائی سیکورٹی والے مقامات پر سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی اور بھارتی سیکورٹی اداروں کو مزید چوکس کر دیا گیا،واقعہ کے بعد بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھارتی فضائیہ کے نائب سربراہ ایئر مارشل ایچ ایس اروڑہ سے بات کی ہے

جموں و کشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے دھماکوں کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس ، فضائیہ اور دیگر ایجنسیاں حملے کی تحقیقات کررہی ہیں ۔ دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے تحقیقات جاری ہے ۔ اس ڈرون حملے کے بعد پٹھان کوٹ ، امبالہ ، اونتی پور سمیت دیگر مقامات پر سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے

Shares: