اسلام آباد: ملک بھر میں، خصوصاًپنجاب میں قتل کی وارداتوں ، ریپ کیسز، بچیوں کی حراسگی اور حال ہی میں صادق آباد، شاہدرہ اور گوجراں میں قتل کے واقعات کے پیش نظرچئیرمین کمیٹی نےاگلے میٹنگ میں پنجاب پولیس کو طلب کرلیا۔اراکین کمیٹی کی جانب سے ایف آئی اے سے متعلقہ مسائل اجاگر کرنے پرچئیرمین کمیٹی نے تمام اراکین کی مشاورت سے ایف آئی اے حکام کو بھی طلب کرلیا۔
کوئٹہ میں طلبا کی جانب سے پی ایم سی (پاکستان میڈیکل کمیشن) کے خلاف مظاہرہ کرنے پرطلبا کو گرفتار کرنے کا معاملہ “موور” نا ہونے کے باعث موخر کردیا گیا۔
کمیٹی میں شہادت اعوان کی طرف سے پیش کئے گئے دو بلز؛ “دی کریمنل لازترمیمی بل 2021 (سیکشن 325 کو ختم کرنا)” اور دی کوڈ آف کریمنل پروسیجر ترمیمی بل 2021 (سیکش 195 میں ترمیم) “متفقہ طور پرمنظور کرلئے گئے۔
سینیٹر مشتاق احمد کی طرف سے “دی اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ٹرسٹ ترمیمی بل 2020” کے سیکشن 17 اور سیکشن 24 پرمزید بحث کواگلے اجلاس تک موخر کیا گیا جبکہ سیکشن 16 کوسینیٹر مشتاق احمد نے واپس لے لیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چئیرمین کمیٹی سینیٹرمحسن عزیز کی ذیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلاس کےآغاز میں مرحوم ڈاکٹر عبدالقدیرخان، سابق وزیر پرویزملک اور مرحوم عمرشریف کی مغفرت کیلئے دعا کی گئی۔
اجلاس کا آغاز ہوا تو چئیرمین کمیٹی نے اسلام آباد میں ڈینگی کی موجودہ صورتحال پرایڈیشنل ڈپٹی کمشنرسے بریفنگ لی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت اسلام آباد میں 1800 ڈینگی کے کیسز ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پچھلے دس دن میں ڈینگی کے کیسز میں کمی آئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر 100 سے 150 کیسز سامنے آرہے ہیں جبکہ فومیگیشن کیلئے 18 گاڑیاں مختص کی گئی ہیں۔چئیرمین کمیٹی نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرکو ڈینگی کے حوالے سے ہفتےمیں دو بار رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
سینیٹر مشتاق احمد نے کمیٹی میں “دی اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ٹرسٹ ترمیمی بل 2020” منظوری کیلئے پیش کیا۔سینیٹر مشتاق احمد نے بل کے سیکشن 16 میں ترمیم کو واپس لے لیا جبکہ سیکشن 17 کے سب سیکشن 4 اور سب سیکشن 6، اور بل کے سیکشن 24 پر مزید بحث کو موخر کردیا گیا۔
بل پرتبصرہ کرتے ہوئے داخلہ کےحکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک جرم سرزد ہونے پرعدالت کے اختیارات آجاتے ہیں اور کچھ جرائم ایسے ہوتے ہیں جن کی تفتیش کر کے انہیں ملزم قرار دیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کو بنانے میں تین سال لگے ہیں،اس پر فیٹف کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ فیٹف کو راضی کرنے کے لیے انسانی حقوق کو روند دیا ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ وقف ،ٹرسٹ ایکٹ کو سالوں بعد تبدیل کیا گیا ہے،پروسیجرل پراسس پر اعتراض نہیں پھر بھی تھوڑا وقت دیدیا جائے تاکہ مزید اس کے نکات کو پرکھا جائے۔
سیف اللہ آبرو نے کہا کہ بل کو پاس کرنے سے پہلے تمام متعلقہ محکموں سے مشاورت کر کے پھر کمیٹی میں پیش کیا جائے۔طویل بحث کے بعد چئیرمین کمیٹی نے ترمیمی بل کے سیکشن 17 اور سیکشن 24 کو منظوری سے پہلے مذید بحث کیلئے موخر کردیا۔
سینیٹر شہادت اعوان نے کمیٹی میں “دی کریمنل لاز ترمیمی بل 2021” پیش کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ناکام خود کشی کی کوشش کرتے ہیں ،ایسے لوگ ذہنی مریض ہوتے ہیں انکا علاج ہونا چاہیے نا کہ سزا دی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ اس بل کے سیکشن 325 کو ختم ہونا چاہئے۔
سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ خود کشی کرنے کی وہ کوشش کرتے ہیں جو ذہنی طورپر ٹھیک نہیں ہوتے۔ان کا کہنا تھا کہ خودکشی کی کوشش پرسزا ہونی چاہئے لیکن اس کو ذہنی امراض کے ہسپتال میں ڈالا جائے جس سے چئیرمین کمیٹی نے بھی اتفاق کیا۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی ادارے کی زیادتی سے تنگ آکر کوئی خودکشی کر لیتا ہے تو اس ادارے کے خلاف کیا کاروائی ہوتی ہے؟ان کا کہنا تھا کہ اداروں کی زیادتیوں سے تنگ آکر غریب لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں-چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ سابق قانون کو ختم نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس میں مزید ترامیم کرنے کی ضرورت ہے۔ایڈیشنل سیکٹری داخلہ نے بل پرتمام صوبوں سے مشاورت کیلئے ٹائم مانگنے کا کہا۔بل پر بحث کے بعد کمیٹی نے حکومت کو تجاویزپیش کرتے ہوئے بل کو متفقہ طورپرمںطور کرلیا۔
سینیٹر شہادت اعوان کی طرف سے “دی کوڈ آف کریمنل پروسیجر ترمیمی بل 2021 (سیکشن 195 کی ترمیم)”کمیٹی میں پیش کیا۔بحث کے بعد کمیٹی نے متفقہ طور پرترمیمی بل کو منظور کرلیا جبکہ “دی کوڈ آف کریمنل پروسیجرترمیمی بل 2021” کے سیکشن 510 میں ترمیم کے حوالے سے ایڈیشنل سیکٹری داخلہ نے کہا اس ترمیم سے کیسز کے جلد منتقی انجام تک پہنچنے میں مدد ملے گی
ان کا کہنا تھا کہ بل پراعتراض نہیں لیکن لفاظی کا مشئلہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس پر انہیں مزید ٹائم دیا جائے تاکہ صوبوں سے بھی اس پر مشاورت کی جاسکے۔چئیرمین کمیٹی نے سئیکشن 510 میں ترمیم کی منظوری سے پہلے ایڈیشنل سیکٹری داخلہ اور سینیٹر شہادت اعوان کو ترمیمی بل پر مزید مشاورت کی درخواست کرتے ہوئے بل پر بحث کو موخرکردیا۔
سینیٹرطلحہ محمود،اعظم نذیرتارڈ،سیف اللہ ابڑو،رانا مقبول احمد، فیصل سلیم رحمان، شہادت اعوان، فوزیہ ارشد، فیصل علی سبزواری، دلاور خان اور سمینہ ممتاز ذہری نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ سینیٹر مشتاق احمد بطور موور اجلاس میں شریک ہوئے۔ایڈیشنل سیکٹری داخلہ، سی ڈی اے حکام ،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنراسلام آباد اور آئی جی بلوچستان بھی آج کے اجلاس میں شریک ہوئے








