باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ چاہے عمران خان کے مطالبات ہوں یا دعوے، مخالفین پر تنقید ہو یا مسائل کو دیکھنے کا نظریہ۔ جس چیز پر نطر ڈالی جائے عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کوئی اتنا Unreason able بھی ہو سکتا ہے۔ اور اس سے زیادہ عقل اس وقت دنگ رہ جاتی ہے جب اسے چاہنے والے ا سکی ایک ایک چال کو حرف آخر سمجھ لیتے ہیں۔

مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان سادہ الفاظ میں یہ چاہتے ہیں کہ اگر پاکستان میں کسی کو حق حکمرانی ہو نا چاہیے تو وہ صرف وہ خودہوں۔اگر کوئی صحافی ۔۔ اپنے آپ کو صحافی کہلوانا چاہتا ہے تو اس کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ وہ عمران خان کی تعریفوں کے پل باندھ دے اور اس کی برائیوں پر اندھا ہو جائے۔جو آنکھیں کھولے گا وہ لفافہ صھافی کھلوائے گا۔آرمی چیف لگانا ہے تو میں نے لگانا ہے چاہے وزیر اعظم ہوں یا نہ ہوں۔ اگر وہ وزیر اعظم نہیں ہیں تو قبل از وقت الیکشن کرواو۔ ورنہ الیکشن نہ کروانے والے اس ملک کے دشمن ہیں اور غدار ہیں۔جہاں سے انتخابات جیت جائیں وہاں دھاندلی نہیں ہوئی اور جہاں ہار جائیں وہاں دھاندلی۔جو انہیں سپورٹ نہ کرے وہ نہی عن المنکر اور جو ان کے فریب کا ساتھ دے وہ امر بالمعروف۔عدالتیں ان کے حق میں فیصلہ دے دیں تو حق کی جیت اور اگر کسی اور کے حق میں فیصلہ آ جائے تو NRO 2مل گیا۔وہ وزیر اعظم ہوں تو اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل نہ ہو اور اگر وہ اپوزیشن میں ہوں تو بھی اسٹیبلشمنٹ انہیں اپنی گود میں بیٹھائے۔امریکی سازش کا پول کھلتا ہے تو غداری کے ٹائیٹل بانٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ میر جعفر اور میر صادق کے برینڈ کا پول کھلتا ہے تو آپے سے باہر ہو کر اپنے چیلوں سے اداروں پر ڈائریکٹ حملے کرواتے ہیں۔ایک طرف کہتے ہیں میں مقبول ہوں تو دوسری طرف مقبول ہونے کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کا بغل بچہ بننے کی ضد کر رہے ہیں۔جو آرمی چیف میں لگاوں گا وہ محب وطن ہو گا جو دوسرے لگائیں گے وہ چور ڈاکو لگائیں گے۔ انہیں یہ نہیں پتا کہ گھسے پٹے انقلابی نعروں سے مقبول تو ہو سکتے ہیں لیکن عوامی تبدیلی اور حقیقی جمہوریت کو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اپنے فائدے کے لیے ایک پوری نسل کو گندی سیاست کی نظر کر دیا ہے۔ اورAnti politicsطبقے کو ذہنی عیاشی کروا کے پاگل بنایا ہوا ہے۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فسطائیت کی انتہا دیکھیں کہ صحافی بولے تو اس پر اپنے بھونکنے والے کتے چھوڑ دو۔سیاست دان چھوڑ دے تو انہیں مشرق قرار دے دو۔کوئی پرانا ساتھی چھوڑ دے تو اسے چور کرپٹ کہہ دو۔جو جہالت کے ساتھ ہے وہ باشعور اور جو اسے پہچان لے وہ جاہل اور ذہنی غلام۔اسمبلی میں لوگوں کو زبردستی اپنے ساتھ رکھنے کی طاقت نہ رہے تو رجیم چینج کا ڈرامہ رچا دو۔ ایک طرف امریکہ سے غلامی پر کمپین کرو دوسرئ طرف ڈرائینگ روم میں امریکی عہدے داروں سے معافیاں مانگو۔ اگر میں وزیر اعظم ہوں تو پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ اگر میں نہیں تو ایٹمی اثاثے خطرے میں۔پاکستان کے مخالف سی آئی اے کے اہلکاروں کی کمپنیوں کوPR compaignدو، اور ادھر ملک میں اینٹی امریکہ جذبات سے فائدے اٹھاو۔ جہالت کا پرچار کرتے ہوئے رجیم چینج جیسی ٹرم کو پاکستان کے اندر اداروں کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دو۔ رجیم چینج کیا ہے اور کیوں ہوتا ہے میں آپ کو سادہ الفاظ میں سمجھا دیتا ہوں۔جس طر ح گا و ں کا چو دھری بننا آسان نہیں با لکل اسی طرح پو ری دنیا کے چو دھری بننے کے لئےاپ کو اپنے مختلف Tactics, objectives, goals,سیٹ کر نے پڑتے ہیں پھر جا کر اپ اپنے National interestحا صل کر سکتے ہیں ،جس طرح گاون کا چوہدری جعلی پرچے کر کے کنٹرول کرتا ہے اسی طرح دنیا کا چوہدری پراپیگنڈا کر کے کنٹرول کرتا ہےدنیا کی Politicsمیں اپنا رول ادا کر نے کے لئےکسی بھی ملک کا سیا سی ،سماجی ،اقتصا دی ،معا شی ،طور پر مستحکم ہو نا ضروری ہوتاہے ،عمران خان کا ڈرامہ بے نقاب کرنے سے پہلےدو الفاظ میں رجیم چینج کی تاریخ بتاوں دو۔۔ کہ جب2nd world war کے بعد دنیاBipolar سسٹم میں تقسیم ہو چکی تھی ،CommunismاورCapitalism یہ Ideology کی جنگ تھی ،سوویت یو نین کمیونزم اور امریکہ کیپٹلزم کو فروغ وے رہا تھا۔دونوں ایک دوسر ے کو نیچا دیکھا نے کے لئےپرا کسی وار لڑ رہے تھے ،یعنی وہ جنگ جو دو سرے ممالک میں لڑی جا ئے،اس جنگ میں جب امریکہ کو محسو س ہو تا کہ کسی ملک کا جھکا و روس کی طرف ہے تو وہ وہاں پرمختلف طریقے سے سازشیں شر وع کر دیتا ،رجیم چینج کر نے کے لیے وہ مختلف طریقوں سے اربوں ڈالر خر چ کر ڈالتاتاکہ وہ حکو مت Destabilizeہو جائے ،اور وہ اپنے من پسند لوگوں کو لے آے اس کے لئےوہ اپوزیشن کو خفیہ طر یقوں سے فنڈ مہیا کرتا ،Military coupکر واتا،مقبول لیڈروں کا قتل عام کر واتا،اس ملک کی معشیت کو تبا ہ کرنے کیلئے جائز اور نا جا ئز معا شی پا بندیوں سے حکو مت کی بنیا دیں ہلا دیتا ،تاکہ عوام میں بے چینی پھیل جائے،سیاسی ہنگا مے کر وا کر بے یقینی کی فضا قا ئم کر دیتا،اس ملک کے صحا فیوں کو پے رول پر یا صحا فتی ادارے کو خر ید کر اپنے منظم پر اپیگنڈہ کے ذریعے طاقت کا توازن اپنے حامیوں کے حق میں کروا دیتا۔ کیونکہ Politics is all about powerملٹر ی پاور ۔اکنا مک پاور کسی بھی ملک کی Hegemonyکو Explain کر نے کے لئے کا فی ہے ،امر یکن
Movies, pop music, books, TV show , political talk show, یہ سب American cultural superiority
کو ظاہر کر تے ہیں جو کہ پو ری دنیا میں مشہور ہیں یہ سب امریکہ کی پروپیگنڈاکے ذرائع ہیں ان کے ذریعے امریکہ اپنے مفا دا ت کو دنیا کے سامنے ایک اچھے اور منظم طر یقے سے پیش کر تا ہے ۔اور کئی بار انٹر نیشنل لا کی بھی Violationکر جا تا ہے ،اب تک امریکہ نے CIAکی مدد سے پچھلے تقریبا 70 سالوں میں 72حکو متوں کے خلا ف آپر یشنز کئے،26 آپریشن کا میا ب 40 ناکام رہے ،6 ممالک میں براہ راست مداخلت کی ،66آپر یشنز سی آئی اے کے ذریعے خفیہ طریقے سے کئے گئے ۔جہاں امریکہ نے تیل کی دولت کو ہڑپ کر نے،ان ممالک کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے ،کمیونزم کا اثر ختم کر نے کے لے ،ڈیمو کر یسی کے فروغ کےلئے،Pre emption کی پالیسی کے لیے اس نے جبر،ظلم ،جھوٹ،مفاد ،کے تحت ان حکو متوں کا خا تمہ کیا۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جہاں تک پاکستان میں امر یکن رول ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں لیاقت علی خان کے قتل سے لیکر ذولفقار علی بھٹو کی پھا نسی تک ہماری خا رجہ پالیسی میں امر یکہ کا ایک مخصوص کر دار ہے ،امریکہ جو20ٹر یلئن سے زائد جی ڈی پی کا مالک ہے،جس کے اس وقت 70 سے زائدممالک میں800سے زائد Military Bases ہیں۔ اور وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر حربہ استعمال کرتا ہے۔جب عمران خان وزیر اعظم تھے تو ٹرمپ کے سامنے ایسے بچھے کہ جیسے ورلڈ کپ جیت لیا ہو۔ بائیڈن جیتا تو اس کی کال سننے کے لیے اتنے بے تاب ہوئے کہ اس کے دشمن بن گئے، خان کی کم عقلی دیکھیں کہ اس نے ملکی مفاد اپنی عنا کے بھینٹ چڑھا دیا۔ اور اتنا دیوانہ ہو گیا کہ اگر ہم کہیں کہ پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ تو غلط نہیں ہو گا۔کبھی طالبان کی جیت پر غلامی کی زنجیریں توڑنے کا بیان تو کبھی خام خواہ کاAbsolutely not. اور پھر سائفر سے کھیلنے کے اپنے الفاظ جو خود اعظم خان کے سامنے اپنے منہ سے نکالے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان میںAnti AmericaAnti politics اور مذہبی ٹچ بہت بکتا ہے اس نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے ہر ہربہ استعمال کیا، پانچ خریدے بھی لیکن مزید پانچ نہ خرید سکا۔ خان وزیر اعظم کی سیٹ تو اسی وقت ہار چکا تھا جب مرحوم عامر لیاقت نے کہا کہ میں آیا نہیں لایا گیا ہوں۔یہ کیسا امریکہ بہادر ہے کہ اس کا زور چوہدری شجاعت پر چل گیا لیکن چوہدری پرویز الہی پر نہ چل سکا۔ یہ کیسا امریکہ بہادر ہے کہ اس نے وفاق سے عمران خان کو نکال دیا لیکن پنجاب، خیبر پختون خواہ ، کشمیر اور گلگت کی حکومتیں اس کے پاس رہنے دی۔کبھیAbsolutely not کا بہانہ بنایا تو کبھی روس دورے کا، کبھی سستے پٹرول کی چالیں چلیں تو کبھی کوئی اور۔ہرچال ناکام ہوتی رہی اور یہ نئی چالیں گھڑتا گیا۔
بقول شاعر
کسی کو اپنے عمل کا حسا ب کیا دیتے ۔
سوال سارے غلط تھے جو اب کیا دیتے

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں رجیم چینج میں کو ئی بیرونی مداخلت ہو ئی تھی یا نہیں سازش کی کہانی پر Investigationکی گئی، ایجنسیوں اور سپر یم کو رٹ نے اس پر تما م حو الوں سے تحیقیقا ت کے بعد اپنے فیصلے میں کسی بھی بیر ونی مداخلت کا نہ ہو نا ظاہر کر دیا ،اس دوران عمر ان خا ن نے عوام میں جانے کا فیصلہ کیا،بڑے بڑے جلسے جلوس کئے گئے،پروپیگنڈا مہم چلا ئی گئی ،نئی حکو مت کو چو ر ڈا کو کہا گیا،فو ج کے اعلی عہدیدران کو نیو ٹر ل ہو نے کا طعنہ دیا گیا ،عدلیہ کے معزز ججز کو کہ آپ کو بھی دیکھ لینگے،الزام تراشیا ں کی گئی،پو لیس کے افسران کو دھمکیاں دی گئی،لیکن جب آڈیو لیکس سامنے آئی تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو گیا ،ان آڈیو لیکس میں عمران خا ن کو سائفر سے متعلق اعظم خان ،شاہ محمو د قریشی ،اسد عمر کو ہدایتیں دیتے ہوئے اور اس سائفر کو اپنے مخصوص نظریات کے مطابق سازشی پیراڈائم میں تبدیل کرنے کا کہا گیا ۔ حا لانکہ اس سا ئفر کو نیشنل سیکو رٹی میں دو بار پیش کیا گیا تھا،اپنی مرضی کے میٹنگ منٹس بنائے، ٹرانسکرپٹ کو سائفر کہا، جعلی خط عوام میں لہرایا۔لیکن اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے، مُکر خان ہر جگہ ذلیل و رسوا ہوا۔عمران خان کے دیوانوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ آج کی گلو بل ویلیج میں جب دنیا سمٹ کر رہ گئی ہے کسی بھی تر قی پذیر ملک حتی کہ تر قی یا فتہ ملک بھی مکمل طور پر اپنی آزاد خا رجہ پا لیسی تر تیب نہیں دے سکتا،International relations میں کئی Actorsاثر انداز ہو رہے ہو تے ہیں جن کی وجہ سے کو ئی بھی ملک مکمل طور پراپنی آز اد خا رجہ پالیسی نہیں بنا سکتا ۔حقیقت یہ ہے کہ ملٹر ی اور سول اسٹیبلیمنٹ کےمنطور نظر بننے کے بعد جب اقتدار کا ہما آپ کے سر پر رکھا گیا تو آپ نے اپنی نا اہلی ،نالائقی سے پو نے چار سالوں میں عوام کو اچھے منصوبے دینے میں ناکام ہو گئے،کو ئی تر قیا تی کا م نہیں ہواسی پیک کو تباہ کر کے امریکہ بہادر کو خوش کیا۔اگر کوئی کام کیا ہوتا توآج عوام کو ان کے بارے میں بتاتے لیکن۔۔۔لیکن۔۔۔۔لیکن اگر کو ئی ایسا کام کیا ہوتا تو ۔۔۔۔جب عوام کو بتانے کیلئے کچھ بھی نہیں تھا تو آپ نے عوام کو رجیم چینج کا منجن بیچنا شروع کر دیالیکن یہ منجن بھی استعمال ہونے سے پہلے ہی سڑ گیا۔اب تو شرم کرو، منافقت چھوڑو، سیاست سے بے زار لوگوں کو مزید فریب مت بیچو، ان کی امیدون کے ساتھ کھلواڑ مت کرو۔ انہیں اس قابل چھوڑو کہ جب تمھارا فریب زدہ مجسمہ زمین بوس ہو تو وہ کسی پر اعتبار کرنے کے قابل ہوں۔ لیکن تمھاری خود غرضی دیکھ کر مجھے یہ امید بھی نہیں ہے کہ تم ملک تو کیا اپنے ووٹروں کے لیے بھی کچھ سوچو گے

عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

مقبولیت کا بھوت،عمران خان کو لے ڈوبے گا،کچے ذہن اور تباہی کی خطرناک منصوبہ بندی

Shares: