واشنگٹن:نومنتخب امریکی ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے 47ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے فوراً بعد امیگریشن، ماحولیات اور ٹک ٹاک سے لے کر متعدد شعبوں سے متعلق ایگزیکٹو حکمنامے اور ہدایت نامے جاری کر دیئے ہیں۔
باغی ٹی وی : وائٹ ہاؤس میں منتقل ہوتے ہی ٹرمپ نے اپنے نئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بہت سی ایگزیکٹو سمریوں، صدارتی یادداشتوں اور پالیسی ترجیحات سے متعلق درجنوں حکمناموں پر دستخط کیے ہیں اگرچہ جاری ہونے والے اِن صدارتی ایگزیکٹو آرڈرز کی قانونی حیثیت بھی ہوتی ہے تاہم ان حکامات کو بعد میں عدالتیں یا آنے والے نئے صدور ختم کر سکتے ہیں۔
قبل ازیں صدارت کا عہدے سنبھالتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدر جو بائڈن کے دور اقتدار میں جاری کردہ 78 صدارتی حکمناموں کو منسوخ بھی کیا ہے،جس میں اظہار رائے کی آزادی اور سنسر شپ ختم کرنے کا ایگزیکٹو آرڈر پر بھی شامل ہے علاوہ ازیں، کیپٹل ہل حملے میں ملوث 15 سو افراد کو معافی دینے کے آرڈرز پر بھی دستخط کردیے گئے۔
پنجاب میں اسکول ٹیچر انٹرنز بھرتی کرنے کا شیڈول جاری
امریکہ میں کسی بھی نئے صدر کی جانب سے عہدہ سنبھالتے ہی ایگزیکٹو حکمناموں پر دستخط کرنا عام سی بات ہے لیکن امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اپنے پہلے ہی دن 200 سے زیادہ حکمناموں پر دستخط کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور اگر ایسا ہی ہوتا ہے تو یہ کسی بھی امریکی صدر کی جانب سے منصب صدارت سنبھالنے کے پہلے ہی روز جاری کردہ حکمناموں کی سب سے بڑی تعداد ہو گی۔
وائٹ ہاؤس میں دوسری دفعہ امریکی صدارت کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب کے آغاز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آج سے امریکا کا نیا اور سنہرا دور شروع ہورہا ہے، ہم دنیا بھر میں امریکا کو نیا مقام اور عزت دلوائیں گے، ہم کسی بھی ملک کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمارا فائدہ اٹھائیں، ٹرمپ انتظامیہ میں ہر ایک دن میں ’امریکا سب سے پہلے‘ کے نظریے پر کار بند رہیں گے۔
پوسٹ مارٹم کے دوران مردہ زندہ ہوگیا،عملے کی دوڑیں
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ قانون کی بالادستی اور ملک کا تحفظ یقینی بنائیں گے، مزید کہا کہ ہماری ’اولین ترجیح‘ ایک آزاد، قابل فخر اور خوشحال قوم بنانا ہے، امریکا جلد ہی پہلے سے زیادہ طاقتور، مضبوط اور غیر معمولی ہو جائے گا پر امید ایوان صدر میں واپس آئے ہیں کہ ہم قومی کامیابی کے ایک سنسنی خیز نئے دور کے آغاز پر ہیں، مزید کہنا تھا کہ ملک میں تبدیلی کی لہر پھیل رہی ہے، امریکا کے پاس پوری دنیا میں فائدہ اٹھانے کا موقع ہے، جو پہلے کبھی نہیں تھا۔
اپنے اوپر قاتلانہ حملے کی بابت بات کرتے ہوئے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کو اعتماد کے بحران کا سامنا ہے، کئی برسوں سے ایک بنیاد پرست اور بدعنوان اسٹیبلشمنٹ نے ہمارے شہریوں سے طاقت اور دولت چھین لی ہے جبکہ ہمارے معاشرے کے ستون ٹوٹ چکے ہیں اور بظاہر مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔
اسرائیل کے آرمی چیف نے استعفیٰ دے دیا
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومتیں امریکی شہریوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہیں، اور خطرناک مجرموں کو پناہ اور تحفظ فراہم کیا ہے، جو دنیا بھر سے ہمارے ملک میں غیرقانونی طریقے سے داخل ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے تباہی کے وقت ڈیلیور نہ کرنے اور تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ وسائل استعمال کرنے پر امریکی صحت عامہ کے نظام پر بھی تنقید کی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج سب چیزوں کی تبدیلی شروع کرنے کا دن ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے عہد کیا کہ اس لمحے سے امریکا کا زوال ختم ہو گیا ہے، گزشتہ 8 برسوں سے 250 سالہ تاریخ میں کسی بھی صدر سے زیادہ مجھے آزمایا اور چیلنج کیا گیا، اور میں نے اس سب سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
نو مئی مقدمات ،6پی ٹی آئی رہنمائوں کی ضمانت کی توثیق
پینسلوینیا میں قاتلانہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے خدا نے بچایا تاکہ میں امریکا کو دوبارہ عظیم بناسکوں، جس پر حاضرین نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں،محب وطن امریکیوں کی ہر ’نسل، مذہب، رنگ‘ کے شہریوں کے لیے امید، خوشحالی اور تحفظ لائے گی، انہوں نے اعلان کیا کہ 20 جنوری 2025 آزادی کا دن ہے، قومی اتحاد اب امریکا واپس لوٹ رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی سرحدوں پر ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے غیر قانونی تارکین کو واپس بھیجنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ اس معاملے میں ہماری میکسیکو والی پالیسی ہے۔ ہم اپنے لوگوں کو انصاف، صحت کی سہولیات اور گھر کی دہلیز پر انصاف فراہم کریں گے،میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑا ہوں اور اُن کے لیے لڑوں گا، اس لڑائی میں انہیں فتح دلواؤں گا۔
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 24 جنوری کو طلب
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط شدہ تمام 42 ایگزیکٹو آرڈرز، میمورنڈا اور اعلانات کی فہرست سامنے آ گئی ہے-
1. جنوبی سرحد پر قومی ایمرجنسی کا اعلان کرنا
2. میکسیکن ڈرگ کارٹلز کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے طور پر نامزد کرنا
3. ‘میکسیکو میں رہیں’ پالیسی کو بحال کرنا
4. غیر قانونی تارکین وطن کے بچوں کے لیے پیدائشی حق شہریت کا خاتمہ
5. صنفی نظریاتی انتہا پسندی سے خواتین کا دفاع
6. وفاقی ایجنسیوں میں تنوع، مساوات، اور شمولیت (DEI) پروگراموں کو ختم کرنا
7. پیرس موسمیاتی معاہدے سے دستبرداری
8. قومی توانائی کی ایمرجنسی کا اعلان کرنا
الیکٹرک وہیکل مینڈیٹ کو تبدیل کرنا
10. وفاقی ملازمین کے لیے ‘شیڈول F’ کو نافذ کرنا
11. یو ایس اسپیس کمانڈ ہیڈ کوارٹر کو الاباما منتقل کرنا
12. 6 جنوری کے واقعات کے سلسلے میں سزا یافتہ افراد کو معاف کرنا
13. اسقاط حمل کی خدمات کے لیے وفاقی فنڈنگ کو روکنا
14. ہنٹر بائیڈن اسکینڈل سے منسلک اہلکاروں کے لیے سیکیورٹی کلیئرنس معطل کرنا
15. فیڈرل بٹ کوائن ریزرو کا قیام
16. JFK، RFK، اور MLK کے قتل کے بارے میں خفیہ دستاویزات جاری کرنا
17. اے آئی ریگولیشن پالیسیوں کو تبدیل کرنا
18۔چین، میکسیکو اور کینیڈا سے درآمدات پر محصولات عائد کرنا
19. ٹرانسجینڈر ملٹری سروس پر پابندی کو بحال کرنا
20. ٹرانس جینڈر خواتین کو خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے سے روکنا
21. سرکاری آف شور ونڈ لیز کو روکنا
22. خلیج میکسیکو کا نام بدل کر خلیج امریکہ رکھنا
23. ماؤنٹ ڈینالی کو ماؤنٹ میک کینلے پر واپس لانا
24. فیڈرل ورک فورس کی بھرتی کو منجمد کرنا
25. تیل اور گیس کی پیداوار سے متعلق ضوابط کو نرم کرنا
26. امریکی خریدار کی تلاش کے لیے کانگریس کے TikTok پابندی کو روکنا
27. بائیڈن دور کی امیگریشن پالیسیوں کو تبدیل کرنا
28.عالمی صحت سے باہر نکالنا
تنظیمیں
29. DEI پروگراموں کے لیے وفاقی فنڈنگ کو ختم کرنا
30.محکمہ حکومتی کارکردگی (DOGE) کا قیام
31. مسلم پابندی کو بحال کرنا
32. پیدائشی حق شہریت کا خاتمہ
33. فوجداری انصاف کے نظام کی اصلاح
34. وفاقی ایجنسیوں میں کریٹیکل ریس تھیوری پر پابندی لگانا
35. نیٹو کے تعاون میں اضافہ کا مطالبہ
36. تجارتی طریقوں پر چین کا مقابلہ کرنا
37. یوکرین میں جنگ کا خاتمہ
38. قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت کرنا
39. اسکول کے انتخاب کو فروغ دینا
40. پناہ گزینوں کے داخلے کو محدود کرنا
41. Fentanyl اسمگلنگ پر وفاقی توجہ کو بڑھانا
42.ایک قومی انفراسٹرکچر پلان کا آغاز