طالبان نے خواتین کے افغانستان میں ایک مشہور سیاحتی مقام بند امیر نیشنل پارک جانے پر پابندی لگا دی ہے جبکہ فضیلت اور نائب کے قائم مقام وزیر محمد خالد حنفی نے کہا کہ پابندی ضروری تھی کیونکہ خواتین پارک کے اندر حجاب نہیں کرتی تھیں، اور یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ خواتین زائرین حجاب نہیں دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو دوبارہ پارک میں داخلے کی اجازت دینے سے پہلے ایک طریقہ کار تیار کیا جائے گا۔
طالبان نے خواتین کے افغانستان میں ایک مشہور سیاحتی مقام بند امیر نیشنل پارک جانے پر پابندی لگا دی ہے جبکہ فضیلت اور نائب کے قائم مقام وزیر محمد خالد حنفی نے کہا ہے کہ پابندی ضروری تھی کیونکہ خواتین پارک کے اندر حجاب نہیں کرتی تھیں خیال رہے کہ طالبان کی خواتین پر بعض سرگرمیوں پر… pic.twitter.com/jC1dXEr4OG
— Malik Ramzan Isra (@MalikRamzanIsra) August 27, 2023
جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سفر پر جانا واجب نہیں ہے تاہم خیال رہے کہ طالبان کی خواتین پر بعض سرگرمیوں پر پابندی لگانے کی تاریخ ہے جس میں انہیں اسکول جانے اور کام کرنے سے روکنا بھی شامل ہے، واضح رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بند امیر نیشنل پارک کے دورے پر پابندی خواتین کے حقوق پر پابندیوں کی ایک طویل فہرست میں تازہ ترین ہے۔
On Women’s Equality Day, The Taliban has now issued a new order; Women can't visit Bande Amir, This magnificent place in Bamiyan province of Afghanistan, the city of peace and love.
This is a total disrespect to the women of Afghanistan. Awful. pic.twitter.com/GtQf0FoTZa— Fereshta Abbasi (@FereshtaAbbasi) August 26, 2023
خیال رہے کہ خواتین اور ہماری بہنیں اس وقت تک بند امیر کے پاس نہیں جا سکتیں جب تک ہم کسی اصول پر متفق نہ ہوں۔ سیکورٹی اداروں عمائدین اور انسپکٹرز کو اس سلسلے میں ایکشن لینا چاہیے۔ سیاحت کے لیے جانا واجب نہیں ہے، بامیان میں مذہبی رہنماؤں نے کہا کہ حجاب نہ کرنے والی خواتین کا تعلق بامیان سے نہیں ہے اور حکومت کو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کارروائی کرنی چاہیے۔
Remembering my last visit to Band-e-Amir, treasured memories with @minasharif flood in. We'll return, I'm sure of it. Tonight, those feelings inspired this poem:
Band-e Amir stilled,
by shadows dark and deep,
yet within Afghan women,
dreams refuse to sleep.
Their souls… pic.twitter.com/867TCcndqj— Mariam Solaimankhil (@Mariamistan) August 27, 2023
بامیان شیعہ علماء کونسل کے سربراہ سید نصر اللہ واعظی نے کہا کہ حجاب کی کمی یا خراب حجاب کی شکایات ہیں یہ بامیان کے رہائشی نہیں ہیں۔ وہ دوسری جگہوں سےدوسرے صوبوں سے یا افغانستان کے باہر سے یہاں آتے ہیں۔ جبکہ اس پابندی کو بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑاہے بہت سے لوگوں نے اسے خواتین کے حقوق کو محدود کرنے کے لیے طالبان کی جانب سے ایک اور قدم قرار دیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
پیپلز پارٹی نے بھی کارکنان کو بجلی بلوں کیخلاف احتجاج کا کہہ دیا
وزیر اعظم کا عوام کو بجلی بلوں میں ریلیف دینے کا حکم
ذکاء اشرف نے قومی ٹیم کی پرفارمنس پر انعام کا اعلان
واضح رہے کہ افغان رکن پارلیمنٹ مریم سلیمان خیل نے ایکس پر ایک نظم شیئر کی جو انہوں نے پابندی کے بارے میں لکھی تھی اور ہیومن رائٹس واچ کی فریشتہ عباسی نے اسے افغانستان کی خواتین کی مکمل بے عزتی قرار دیا ہے،