fbpx

واحد راستہ افغانستان سے نکلنے کا ہے، امریکہ کے سابق بریگیڈیئر جنرل کا کالم

لاہور: امریکہ کے سابق بریگیڈیئر جنرل ڈونلڈ سی بولڈک نے ایک آرٹیکل لکھا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں افغانستان کے 10 دورے کرچکا ہوں، ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے وہ افغانستان سے نکل جانے اور اسکو چھوڑنے کا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جنرل ڈونلڈ سی بولڈک امریکہ کے سابق بریگیڈیئر جنرل ہیں جو کے سپیشل آپریشن کمانڈرز کی افریقہ میں کمانڈ کر چکے ہیں۔ آج کل یہ امریکہ کی ایک سٹیٹ کے سینیٹ کے امیدوار ہیں۔ انہوں نے ایک آرٹیکل لکھا ہے جس میں امریکی حکومت کو تجویز دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں افغانستان کے 10 دورے کرچکا ہوں، ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے وہ افغانستان سے نکل جانے اور اسکو چھوڑنے کا ہے۔ انہوں نے اپنے آرٹیکل میں لکھا کہ "افغانستان ایک ایسا ملک ہے جس نے ہمیشہ سوپر پاورز کو دانتوں کے نیچے چبا کر باہر اغلا ہے۔ افغان طالبان آج بھی کافی حصہ پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔ مذاکرات کے دوران بھی افغان طالبان کا ہاتھ جنگی میدان میں تغڑا ہے اور امریکہ کمزور ہے اور طالبان اس بات کو جانتے ہیں۔ ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے وہ افغانستان سے نکل جانے اور اسکو چھوڑنے کا ہے، افغان جنگ اتنے عرصے سے بدانتظامی کا شکار رہی ہے اور آپ امریکی عوام کو اس بات پر معاف کرسکتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات نوٹس نہیں کی، ہم نے دراصل افغان جنگ اس لیے شروع کی تھی کہ دہشتگردوں کو مارا جائے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات بدلتی گئیں”.