ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

0
185
punjab

انسان کی زندگی میں کچھ لمحے، کچھ واقعات ایسے یادگار ہوتے ہیں جو اگرچہ لوٹ کر نہیں آتے مگر وہ دل و دماغ پر ایسے نقش ہوجاتے ہیں کہ انسان ان کے سحر میں تادم مرگ جکڑا رہتا ہے۔ آل پاکستان رائٹز ویلفیئرایسوسی ایشن(اپووا) کے بانی وصدر ایم ایم علی نے مجھے دعوت دی کہ اپووا خواتین ونگ کی گورنر ہاوس میں محترم گورنر محمد بلیغ الرحمان صاحب کے ساتھ میٹینگ ہے تو کیا آپ آسکتی ہیں؟ اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں۔ میرے لئے تو بہت اعزاز کی بات تھی۔ میں نے فورا ًاوکے کیا اور دن گننے شروع کردیئے کہ کب وہ دن آئے گا؟ نا سردی کی پرواہ نا ہی بیماری، بچے اور میاں جی ہنس رہے تھے کہ جی اب تو گھٹنے بھی ٹھیک ہو گئے ہیں۔میں ان کی باتوں کو انجوائے کرتی لاہور پہنچ ایک دن پہلے ہی لاہور پہنچ گئی۔ رات خوشی کے مارے نیند ہی نا آئی، صبح سویرے اٹھ گئی ساتھ ہی بیٹے ڈاکٹر محمد عمر کو بھی اٹھا دیا کہ دو بجے سے پہلے پہنچنا ہے گورنر ہاوس۔قصہ مختصر! دوپہر دو بجے سے بھی پہلے میں گورنر ہاوس لاہور کے گیٹ پر تھی دور جو نظر پڑی تو کچھ خواتین مجھ سے بھی پہلے موجود تھیں اس چمکیلی سی دوپہر میں جیسے ہی میں اندر داخل ہوئی تو میری سوچ کی پرواز آج سے 40 سال پہلے پشاور کے گورنر ہاوس میں پہنچ گئی جب میں فرسٹ ایئر کی سٹوڈنٹ تھی میٹرک میں ضلع پشاور میں ٹاپ کیا تھا اور اس وقت کے گورنر جناب فضل حق (مرحوم) صاحب نے پہلی بار تمام ٹاپرز کو بلوایا اور انعامات سے نوازا (ابھی تک اس تقریب کے سحر میں تھی) یہ 1983 کی بات ہے اور اب دسمبر 2023 میں وہ بچی ٹھیک 40 سال بعد گورنر ہاوس لاہور میں کھڑی تھی اور کبھی سوچا ہی نا تھا حد سے زیادہ خوشی تھی۔پورے دو بجے اپووا صدر ایم ایم علی،صدر خواتین ونگ اپووا ثمینہ بٹ،اورایڈیشنل جنرل سیکریٹری مدیحہ کنول کی قیادت میں ہم سب کانفرنس روم میں پہنچے، وہاں چائے کے ساتھ دیگر لوازمات سے تواضع کی گئی،

punjab

کچھ دیر بعد محترم جناب گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان صاحب تشریف لائے اور تمام شرکاء کو بہت عزت و احترام سے، نہایت خوشدلی سے خوش آمدید کہا۔۔صدر خواتین ونگ ثمینہ طاہر نے تنظیم کی مجموعی کارکردگی پر بریف دیا جبکہ ایڈیشنل جنرل سیکریٹری مدیحہ کنول نے تنظیم کا تفصیلی تعارف پیش کیا اس کے بعد تمام لکھاریوں سے تعارف ہوا جسے بہت دلچسپی سے گورنر صاحب نے سنا اور مجھ ناچیز کو اسپیشل پشاور سے آنے پر بہت سراہا تعارف مکمل ہونے کے بعد انہوں نے ہمیں گورنر ہاوس کی تاریخ کے بارے میں کافی تفصیل سے آگاہ کیا۔ گورنر ہاوس پنجاب کی تاریخ سوا چار سو سال پرانی ہے یہ 700 کنال پر پھیلا ہوا ہے،اکبر بادشاہ نے 1600میں یہاں اپنے کزن (چچا زاد بھائی) قاسم خان کا مقبرہ تعمیر کروایا جو اس کی بیسمینٹ میں آج بھی موجود ہے بعد میں سکھوں اور انگریزوں نے اس پر قبضہ کیا اور انگریزوں کے ہی دور میں اس عمارت کو گورنر ہاوس کا درجہ دیا گیا۔ گورنر پنجاب جناب محمد بلیغ الرحمان صاحب نے سیاحت کے عالمی دن کے موقع پر گورنر ہاوس لاہور میں گایئڈڈ ٹور کا افتتاح کیا اور مزید بتایا کہ یہ ایک تاریخی عمارت اور قومی ورثہ ہے اس میں قائداعظم محمدعلی جناح بھی بطور گورنر جنرل ٹھہر چکے ہیں۔اس میں قائد، ملکہ وکٹوریہ اور دیگر شخصیات کے کمرے بھی موجود ہیں جہاں انہوں نے قیام کیا تھا۔سکولوں، کالجوں کے طلباء، عام عوام،ملکی و غیر ملکی سیاح سب گایئڈڈٹورز سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ سب عالمی معیار کا ہوگا اور لوگوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔استاد اللہ بخش کی شاہکار پینٹنگز بھی یہاں موجود تھیں جنہیں گورنر صاحب نے اکٹھی کرکے کمروں میں تزیئن و آرائش کے لئے استعمال کیا استاد اللہ بخش کی تصاویر مصوری کا نایاب شاہکار ہیں ان کا استاد کوء نہیں تھا ان کی ایک پینٹینگ 1 ملین میں فروخت ہوئی نامور مصور چغتائی کے بارے میں بھی بتایا۔

punjab

گورنر صاحب نے تمام لکھاریوں، صحافیوں، شعراء کی کاوشوں کو سراہا، ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کی نسبت لکھاری زیادہ حساس ہوتا ہے اگر وہ حساس نا ہو تو کبھی لکھ نا پائے لیکن جو بھی لکھیں بغیر تحقیق کے نا لکھیں کبھی بھی سنی سنائی بات کو آگے نا پہنچایئں کہ اس سے معاشرے میں بہت خرابی پھیلتی ہے اور کچھ ہی دیر جھوٹی خبر ایسے پھیلتی ہے کہ وہ سچ لگتی ہے خود بھی اس پر عمل کریں اور دوسروں کو بھی اس بات کا احساس دلایئں کہ اس سے معاشرے میں خرابی پھیلتی ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق کسی قوم کو ناکام کرنا ہو تو اسے مایوس کردو اور آج کل ہماری نوجوان نسل میں بہت مایوسی پھیلائی جارہی ہے آپ جو بھی لکھیں اس سے صرف مایوسی یا پریشانی نا بتائیں بلکہ اس کے پازیٹیو اور نیگیٹو دونوں پہلو لکھیں صرف نیگیٹیو لکھیں گے تو پڑھنے والا مایوس ہوگا ملکی معشیت کے پہلووں پر بھی روشنی ڈالی گئی نوجوانوں کی تعلیم و تربیت بارے بھی گفتگو ہوئی ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی تعلیم وتربیت ایسی ہو کہ ان کو خرابی کی پہچان ہو تاکہ وہ اپنی اصلاح کر سکیں مایوسی بہت بڑی خرابی ہے اور نوجوانوں کو اس سے باہر نکالنا ہوگا جو اچھائیاں ہیں ان کی قدر کریں ان پر شکر کریں اور مایوس ہونا چھوڑ دیں۔پھر مادری زبان میں تعلیم،عربی اور ناظرہ کی تعلیم پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے حوالے سے بھی تعلیم اور قومی زبان میں تعلیم پر گفتگوہوئی اس گفتگو میں، نوجوانوں کے حوالے میں نے بھی ایک عرض پیش کی کہ نوجوان طبقہ ڈپریسڈ ہے بیروزگار ہے اور میری درخواست ہے کہ خاص کر فارن گریجویئٹیس کے لئے کچھ کریں یہ صرف ایک میری آواز نا سمجھیں یہ ان ہزاروں ماوں کی اور ان نوجوان ڈاکٹرز کی آواز سمجھیں جو باہر سے پڑھ کر آئے ہیں ان کو جابز نہیں تو کم از کم لائسسنس ایشو کر دیئے جائیں تاکہ گھر کے کسی کمرے میں ہی کلینک بنا لیں کچھ تو کرسکیں اس بارے میں بھی گورنر صاحب کی مشکور ہوں کہ انہوں نے توجہ سے سنااور تمام سوالات کے مفصل جوابات بھی دیئے اور تمام مسائل کے تدارک کے لئے اقدامات کرنے کا عہد بھی کیا میٹینگ اور گفتگو اتنی دلچسپ تھی کہ وقت کا پتہ ہی نا چلا اور آدھے گھنٹے کی بجائے دورانیہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک چلا گیا۔

دل تھا کہ یہ ابھی کچھ دیر اور جاری رہتی کیونکہ ایسے خوبصورت مواقع، یادگاری لمحے زندگی میں قسمت سے کبھی کبھار ہی ملتے ہیں آخر میں گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان صاحب نے وفد کے تمام اراکین کو یادگاری سرٹیفیکیٹس سے اور خوبصورت قلم و تحائف سے نوازا، مصنفین نے اپنی کتابوں اور رسائل کا تحفہ گورنر صاحب کو پیش کیا اختتام پر گروپ فوٹو کے بعد گورنر صاحب کے حکم پر وفد کو تاریخی گورنر ہاوس کا تفصیلی ٹور بھی کروایا گیا جو میں بوجہ اپنی صحت نا کرسکی اور دور کھڑی سب کو دیکھ رہی تھی اور سوچ میں وہ بچی تھی جس نے 83 میں گورنر ہاوس پشاور کا کونا کوناایسے بھاگ بھاگ کر دیکھا تھا اور آج؟ پھر اللہ پاک ہزاروں بار شکر ادا کیا کہ جس نے آج یہ موقع دیا کہ جس عمارت کے اندر چڑی بھی پر نہیں مار سکتی وہاں آکر بیٹھنا، گفتگو کرنا، اتنی عزت افزائی یہ سب کیا کسی نعمت سے کم ہے۔۔؟ سب دوستوں سے اجازت لی اور بیٹے کے ساتھ گھر کو روانہ ہوء بہت سی حسین اور خوشگوار یادوں کے ہمراہ۔۔ ابھی پشاور کو جاتے ہوئے راستے میں اس خوبصورت اور یادگار دن کو قلمبند کررہی ہوں اور آخر میں گورنر جناب محمد بلیغ الرحمان صاحب کی بے حد ممنون ومشکور ہوں جنہوں نے اپنے قیمتی وقت سے ہمیں اتنا وقت، اتنی عزت اتنا مان دیا۔۔ اپووا کی تمام ٹیم کی شکرگزار ہوں۔۔ اللہ پاک ہم سب کو سلامت رکھے صحت اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ آمین ثم آمین
punjab

Leave a reply