ایچی سن کالج،گورنر پنجاب کا حکمنامہ،شہباز شریف کے قریبی احد چیمہ کے بیٹوں کی فیس معاف

0
2002
shahbaz and ahad cheema

ایچی سن کالج، قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑا دی گئیں، وزیراعظم کے قریبی دوست اور سابق وفاقی وزیر احد چیمہ کے بیٹوں کی فیس بورڈ آف گورنرکے اجلاس کے بغیر ہی معاف کر دی گئیں، گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ہدایت نامہ جاری کر دیا

لاہور کے معروف تعلیمی ادارے ایچی سن کالج میں سیکنڈل سامنے آیاہے، وزیراعظم کا قریبی دوست ہونے کا فائدہ دوست کے بچوں کو بھی مل گیا، ایچی سن کالج میں وزیراعظم شہباز شریف کے انتہائی قریبی دوست،اور سابق وفاقی وزیر احد چیمہ کے بیٹوں کی فیسیں معاف کی گئی ہیں، باخبر ذرائع کے مطابق اس ضمن میں ایچی سن کالج کے بورڈ آف گورنر کا اجلاس نہ ہوا اور نہ ہی بورڈ آف گورنر کے اراکین سے مشاورت کی گئی، گورنرپنجاب میاں بلیغ الرحمان جن کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے، انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے احکامات پر احد چیمہ کے بیٹوں کی فیسیں معاف کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے، احد چیمہ کے بیٹوں عیسیٰ احد چیمہ اور مصطفیٰ احد چیمہ کے لئے فیس معافی کی حکم نامہ گورنر پنجاب نے جاری کیاہے

بچوں کی فیس معافی کی درخواست احد چیمہ کی اہلیہ صائمہ نے دی تھی، صائمہ نے درخواست ایچی سن کالج کو دی ، درخواست پر غور کے لئے بورڈ آف گورنر کے کئی اجلاس ہوئے جس میں فیس معافی کی درخواست پر غور کیا گیا تا ہم کوئی حتمی فیصلہ نہ ہو سکا جس کے بعد گورنر پنجاب نے خود ایکشن لیا اور احد چیمہ کی اہلیہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کے دو بیٹوں کی فیس معاف کر دی،گورنر پنجاب نے بورڈ آف گورنرز سے حتمی مشاورت کے بغیر نوٹس لیتے ہوئے اس خود فیصلہ لیا ،اگرچہ کالج کے پرنسپل اور بورڈ آف گورنر کے اراکین اس بات پر متفق نہیں تھے کہ بچوں کی فیس معاف کی جائے،

ایچ سن کالج میں گورنر پنجاب کے اس فیصلے سے نہ صرف کالج کو نقصا ن ہو گا بلکہ ایک نیا پنڈورہ باکس کھلے گا کہ وزیراعظم کے قریبی دوست کے بچوں کی فیسیں معاف کر دی گئیں تو دوسرے بچے جو وہاں زیر تعلیم ہیں انکا کیا قصور ہے، باخبر ذرائع کے مطابق سالانہ 20 کے قریب فیس معافی کی درخواستیں کالج کو موصول ہوتی ہیں لیکن کسی طالب علم کی فیس معاف نہیں کی جاتی، اور جب وزیراعظم کے دوست احدچیمہ کے بیٹوں کی درخواست پر پرنسپل نے فیصلہ نہ کیا تو گورنر پنجاب نے تمام تر ضابطے بالائے طاق رکھ کر یک جنبش فیس معافی کا حکم نامہ جاری کر دیا.

21 مارچ کو گورنر پنجاب سیکرٹریٹ سے ایک مراسلہ جاری ہوا ،غلام حسن سیکشن آفیسر یونیورسٹریز نے مراسلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ "عیسیٰ احد چیمہ اور مصطفیٰ احد چیمہ کے لیے فیس معاف” اس مراسلے میں گورنر پنجاب کی جانب سے احد چیمہ کے بچوں کے فیس معافی کی پوری کارگزاری لکھی گئی کہ احد چیمہ کے اہلیہ نے کہا کہ وہ ملازمت کی وجہ سے اسلام آباد منتقل ہو گئیں اور دو الگ الگ کالج میں فیس دینے کی استطاعت نہیں رکھتی اسلئے انکی فیس معاف کی جائے، انکی غیر حاضریوں کو چھٹیاں مانا جائے ، اس درخواست پر گورنر نے اپنا حکمنامہ سنایا.

مراسلے میں کہا گیا کہ مجھے 21.03.2024 کو منظور شدہ آرڈر کی ایک کاپی کے ساتھ آگے بھیجنے کی ہدایت کی گئی،مسز صائمہ احد چیمہ،جو منسٹرز انکلیو اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں ،سیکشن آفیسر (UNIV-III) سیکشن آفیسر (یونیورسٹیز-III) گورنر سیکرٹریٹ پنجاب لاہورکی جانب سے مراسلہ میں کہا گیا کہ میری حیثیت میں صدر، بورڈ آف گورنرز، ایچی سن کالج، لاہور ، مورخہ 04.10.2022 (اس کے بعد 01.06.2023 کو یاد دہانی) اور مورخہ 17.08.2023 کو میرے سامنے دوپیشیاں ہوئیں، جس کے تحت عیسیٰ احد چیمہ (K4-20243) اور مصطفیٰ احد چیمہ (K2-220779) کی والدہ صائمہ احد چیمہ نے درخواست کی کہ پرنسپل، ایچی سن کالج لاہور، سیٹوں کی بکنگ اور غیر حاضری کی چھٹی کے بارے میں فیصلہ کریں۔ صائمہ نے درخواست کی کہ اس نے کالج کے پرنسپل سے بار بار خطوط اور ای میلز کے ذریعے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے اسے لاہور سے اسلام آباد منتقل ہونا پڑا۔ اس نے عرض کیا کہ محدود وسائل کے ساتھ ایک تنخواہ دار فرد ہونے کی وجہ سے وہ اپنے دو بیٹوں کی دو مختلف اسکولوں بشمول کالج میں ٹیوشن فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھی۔اسلام آباد کے اسکول میں، جہاں اس کے بچوں کو داخلہ دیا جائے گا۔

صائمہ احد چیمہ کی درخواست پر 4 اکتوبر 2022 کو فیصلہ ہوا کہ غور کے لئے 11 اکتوبر 2022 کو اجلاس بلایا جائے، 11 اکتوبر کو اجلاس ہوا جس میں پرنسپل نے کہا کہ فیس معافی کے فیصلے سے کالج کی آمدنی کو نقصان ہو گا، بورڈ آف گورنر نے بھی اس فیصلے کی حمایت کی، 14 اکتوبر 2022، کو کالج کے حکام نے عیسیٰ احد چیمہ کو مستقل طور پرنکالنے کا فیصلہ سنا دیاکیونکہ اسکی فیسوں کی ادائیگی نہیں کی گئی تھی۔ مذکورہ مسئلہ کو بورڈ آف گورنر کے سامنے رکھا گیا تھا۔اس کا اجلاس 01.12.2022 کو ہوا، اور مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بحث کے بعد، اراکین نے متفقہ طور پر اس سہولت کی توسیع کے خیال کی حمایت کی،چیئر نے انتظامی کمیٹی کو مشورہ دیا کہ وہ بورڈ آف گورنر کے فیصلے اور اصولی منظوری کو عملی جامہ پہنانے کے طریقہ کار کی سفارش کرے اور مجوزہ پالیسی بورڈ کو اس پر غور کے لیے پیش کرے۔اور اسی وجہ سے، انتظامی کمیٹی نے اس پر غور کیا۔ لیکن کسی حتمی فیصلے پر پہنچنے میں ناکام رہا۔اور انتظامی کمیٹی نے اس معاملے کو دوبارہ اپنے اجلاس میں اٹھایا،13.02.2023 کو منعقدہ اجلاس میں لیکن ایک بار پھرکسی نتیجے پر نہیں پہنچا گیا اور کہا گیا کہ اس معاملے کو بورڈ آف گورنر کے ذریعہ بحث اور مناسب فیصلہ کے لئے رکھا جائے، اور حقیقت یہ ہے کہ انتظامی کمیٹی،متعدد میٹنگز اور تفصیلی غور و خوض کے باوجود، تقریباً دو سال گزر جانے کے باوجود، کسی بھی معاملے پر اصولی فیصلہ کے لیے کوئی پالیسی اور طریقہ کار وضع کرنے میں ناکام رہی اور نمائندہ کو عبوری اشتہار فراہم کرنے کے لیے، میں نے، بورڈ آف گورنر کے صدر کی حیثیت سے، 09.06.2023 کو ایک حکم جاری کیا، جس کے تحت،کالج کے پرنسپل کو ہدایت کی گئی کہ وہ کوئی منفی اقدام نہ کریں، غیر حاضری / فیس کی مشروط چھٹی سے متعلق کسی بھی معاملے کے ساتھ آگے بڑھیں۔اس پالیسی کے بعد سے محترمہ صائمہ کے دو لڑکوں سمیت طلباءکو رعایت ملی، فیصٌہ ماضی میں اس طرح کے معاملات میں صائمہ کے لڑکوں سمیت کسی بھی کارروائی کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ،

17.08.2023 کے خط کے ذریعے محترمہ صائمہ نے کہا کہ ان کے چھوٹے بیٹے یعنی مصطفی احد چیمہ (K2-220779) کو بھی کالج سے واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے نکال دیا گیا۔ پنجاب ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ری کنسٹی ٹیوشن) ایکٹ، 2021 کے سیکشن 5 (3) کے تحت میرے دفتر میں حاصل اختیارات کی بنا پر، کالج کی پرنسپل کو ہدایت کی گئی، کہ 01.12.2023، کی مشروط چھٹی سے متعلق معاملے کا مکمل ریکارڈ پیش کریں،عیسیٰ احد چیمہ (K4-20243) اور مصطفیٰ احد چیمہ (K2-220779) کی غیر حاضری ، فیس میں رعایت اور واپسی کا بتائیں تاہم کالج کے پرنسپل نے مورخہ 04.12.2023 کے خط کے ذریعے انکار کر دیا۔

بورڈ آف گورنر کے ایک نامور ممبر نے خط لکھا جس میں انہوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔کالج کے پرنسپل کی طرف سے اپنایا گیا انداز اور بورڈ آف گورنر کے صدر کے قانونی احکامات کی تعمیل سے انکار کیا گیا، وہ پرنسپل کی جانب سے قانون کو نظر انداز کرنے پر بھی سخت ناراض تھے۔ انہوں نے درخواست کی کہ بورڈ کا غیر معمولی اجلاس طلب کیا جائے۔اور یہ کہ معاملہ کوبورڈ آف گورنر کے سامنے غور و فکر کے لیے رکھا جائے۔ اسی مناسبت سے بورڈ آف گورنر کا ایک غیر معمولی اجلاس بلایا گیا۔16.02.2024 کو میرے دفتر میں اجلاس ہوا جس میں پرنسپل نے شرکت نہ کی،ایک کے علاوہ تمام بورڈ آف گورنر کے ممبران نےتشویش کا اظہار کیا۔بورڈ آف گورنر نے پرنسپل کے جواب پر تبادلہ خیال کرنے کے بعد، اور آڈی الٹرم پارٹم کے اصول کے حوالے سے، فیصلہ کیا کہ بورڈ آف گورنر کے تین ارکان پر مشتمل ایک سماعت کمیٹی تشکیل دی جائے،
سماعت کمیٹی نے بورڈ آف گورنر کی جانب سے، 26.02.2024 کو کالج کے پرنسپل کو ذاتی سماعت کا موقع فراہم کیا، اور ان کا موقف سنا اور ریکارڈ کیا۔ سماعت کی کارروائی کے منٹس ریکارڈ کیے گئے اور وہی میرے سامنے پیش کیے گئے۔ ان منٹس اور سماعت کی کارروائی کا ریکارڈ بورڈ آف گورنر کے سامنے پیش کرنے کے لیے، اس پر غور کرنے اور مناسب فیصلے کے لیے، ایک غیر معمولی اجلاس طلب کیا گیا تھا۔

05.03.2024 کو ہونے والی بورڈ آف گورنر میٹنگ کو میری مصروفیات کی وجہ سے بعد کی تاریخ کے لیے ملتوی کر دی گئی کیونکہ اسی دن پنجاب کی صوبائی کابینہ کے اراکین کی تقریب حلف برداری متوقع تھی،میرے دفتر کی طرف سے قانونی طور پر جاری کردہ ایک قانونی حکم پر پرنسپل کے جواب کی موزونیت اور قانونی حیثیت کے بارے میں، میں نے اپنے سامنے اس معاملے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے کہ میں نے پنجاب ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ری کنسٹی ٹیوشن) ایکٹ، 2021 کے سیکشن 5 (3) کے تحت نوٹس لیا ہے۔ ; اور معاملے کا ایک بار اور ہمیشہ کے لیے تعین کریں، جیسا کہ قانون نے فراہم کیا ہے۔ صائمہ کی سماعت کے لیے نوٹس 11.03.2022 کو جاری کیا گیا، کہ وہ 16 مارچ کو پیش ہوں، صائمہ احد چیمہ 16.03.2024 کو میرے سامنے پیش ہوئیں، اور انہوں نے اپنے سابقہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سرکاری ملازم تھیں،جون 2022 میں لاہور سے اسلام آباد منتقل ہو گئیں اس کے دونوں بچےنابالغ تھے، وہ انہیں لاہور میں بغیر نگرانی کے نہیں چھوڑ سکتی تھیں، اور اس نے درخواست دی۔ان دونوں کے لیے نشستوں کی بکنگ اور غیر حاضری کی چھٹی کے لیے۔ تاہم، بعد میں کالج کے پرنسپل نے بتایا کہ انکی غیر حاضری لگ چکی ہے،اسکے دونوں بیٹوں کو واپس لیا جائے گا تاہم اسے مکمل ٹیوشن فیس ادا کرنی پڑے گی۔ان کی غیر موجودگی کی مدت کے دوران صائمہ احد چیمہ نے کہا کہ ایک سرکاری ملازم اور تنخواہ دار فرد، وہ دو جگہ ٹیوشن فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی ،صائمہ نے مزید بتایا کہ کالج سے ان کے بیٹوں کو نکالنے کے احکامات اس کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی اور من مانی طریقے سے منظور کیا گیا۔

صائمہ احد چیمہ کی طرف سے کی گئی مختلف نمائندگیاں، سماعت کمیٹی کی رپورٹ، اورسیکشن 5 (3) کے تحت مجھے حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے محترمہ صائمہ کو سنا،پنجاب ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ری کنسٹی ٹیوشن) ایکٹ 2021، بطور گورنرپنجاب ، بی او جی کے صدر، میں نے درج ذیل فیصلے کیے ہیں،والدین کی لاہور سے باہر منتقلی کے حالات مناسب ہونے کی ضرورت ہے۔مثالی طور پر کیس ٹو کیس کی بنیاد پر سمجھا جاتا ہے۔ اگر والدین ذاتی یا پیشہ ورانہ وابستگیوں کی وجہ سے، اسٹیشن سے باہر جانے پر مجبور ہیں تو انکے اسکول کے لیے ٹیوشن فیس جمع کرکے ان کو مالی نقصان پہنچتا ہے،جس میں ان کے بچے فی الحال شرکت نہیں کر رہے ہیں۔ غیر حاضری کی چھٹی کے دوران 100% ٹیوشن فیس کی ادائیگی غیر منصفانہ معلوم ہوتی ہے۔بورڈ آف گورنر کو یہ اطلاع دی گئی کہ کالج کو مختلف طلباء کی طرف سے غیر حاضری کی چھٹی کے لیے سالانہ تقریباً 20 درخواستیں موصول ہوتی ہیں۔ ایک ایسے اسکول میں جس میں 3000 طلباء ہیں اتنی کم تعداد کو غیر حاضری کی چھٹی کی اجازت دیتا ہے، کالج اپنی میرٹ پالیسی کے مطابق کسی بھی طالب علم کو داخلہ دیتا ہے۔ ان طلباء کے والدین مختلف سماجی اور پیشہ ورانہ پس منظر سے آتے ہیں۔ اور اس طرح، تمام والدین کے پاس ایک ہی وقت میں دو اسکولوں کو فیس ادا کرنے کی مالی صلاحیت نہیں ہے، اگر وہ اپنے بچے کے لیے غیر حاضری کی چھٹی چاہتے ہیں۔ اس لیے والدین کے لیے یہ جائز اور معقول ہے کہ اگر اسے شہر سے باہر جانا پڑے تو ٹیوشن فیس کی مکمل چھوٹ کا مطالبہ کریں۔ اگرچہ ایگزیکٹو کمیٹی کوئی پالیسی یا عملی پیش نہیں کر سکی
غیر حاضری کی چھٹی کے دوران طلباء کو ٹیوشن فیس میں چھوٹ کیسے اور کتنی دی جائے، یہ ایک ریکارڈ کی بات ہے کہ بورڈ آف گورنر نے اتفاق رائے سے اور متفقہ طور پر ایسے طلباء کو فیس کی معافی کے تصور سے اتفاق کیا جنہیں عارضی طور پر مجبور ، ناگزیر حالات کے تحت کسی دوسری جگہ منتقل ہونا پڑتا ہے،اس لیے، پیش کردہ وجوہات اور بنیادوں کے پیش نظر، میں محترمہ صائمہ کی طرف سے غیر حاضری کی چھٹی دینے کے لیے دائر کردہ درخواستوں کو قبول کرتا ہوں۔عیسیٰ احد چیمہ (K4-20243) اور مصطفی احد چیمہ (K2-220779) کو مکمل فیس معافی کے ساتھ، تین سال کی مدت کے لیے، 18.08.2022 سے، یا جب وہ ایچی سن کالج، لاہور میں دوبارہ شامل ہوں،




واضح رہے کہ احد چیمہ وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر رہے ہیں، بعد ازاں نگران حکومت میں بھی انہیں عہدہ دیا گیا تھا تا ہم الیکشن کمیشن کے حکم پر احد چیمہ کو عہدے سے ہٹایا گیا تھا احد چیمہ کے خلاف نیب میں بھی ریفرنس دائر ہوا تھا وہ گرفتار بھی رہے تا ہم عدالت نے انہیں نیب ریفرنس سے بری کر دیا تھا

Leave a reply