fbpx

سلطان صلاح الدین ایوبی اور آجکا مسلمان تحریر: وسیم اکرم

بارہویں صدی عیسوی میں ایک سلطان اپنی فوج کے ساتھ ایک میدان میں خیمہ زن تھا۔ اس خیمے کے باہر ایک کم عمر لڑکی کھڑی ہے جو خیمے میں داخل تو ہونا چاہتی ہے لیکن سلطان کے خوف سے اسکا جسم کانپ رہا ہوتا ہے۔ آخر کار اس نے خیمے کا پردہ اٹھایا اور ڈرتے کانپتے ہوئے خیمے کے اندر داخل ہوگئی۔۔۔

لڑکی کے سامنے وقت کا سلطان بیٹھا ہوا تھا سلطان نے لڑکی کو مخاطب کیا اور پوچھا تمہارے آنے کا مقصد کیا ہے۔۔؟ لڑکی نے کانپتے ہوئے کہا میں آپ سے ایذاز مانگنے آئی ہوں۔ ایذاز اس شہر کا نام تھا جسے حاصل کرنے کیلئے سلطان نے 38 دن کی لڑائی اور ہزاروں سپائی شہید کروانے کے بعد حاصل کیا تھا یہاں تک کہ اس شہر کی خاطر سلطان نے اپنی جان تک خطرے میں ڈال دی تھی۔۔۔

لیکن سلطان پھر بھی اس لڑکی کو انکار نہیں کرسکا اور اسے کہا کہ تم مجھ سے ایذاز مانگتی ہو تو یہ تمہارا ہوا اور ساتھ بہت ساری دولت بھی دی اور رخصت کردیا۔ سلطان جانتا تھا اس لڑکی کو اس کے دشمنوں نے بھیجا ہے پھر بھی سلطان نے اسے سب کچھ دے دیا کیونکہ وہ سلطان کے محسن نورالدین زنگی کی بیٹی تھی۔۔۔

وہی نورالدین زنگی جنہوں نے خواب میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک تک سرنگ کھودنے کی ناپاک کوشش کرنے والے دو یہودیوں کو قتل کردیا تھا۔ اور وہ بیٹی جس شخص سے شہر مانگنے آئی تھی وہ بھی کوئی معمولی شخص نہیں بلکہ صلاح الدین یوسف تھا جسے دنیا سلطان صلاح الدین ایوبی کے نام سے جانتی ہے۔۔۔

صلاح الدین ایوبی اتنے رحمدل اور سخی تھے کہ مصر کے گورنر بنتے ہی قاہرہ کا سارہ خزانہ غریبوں میں تقسیم کردیا اور اپنے لیئے ایک سکہ بھی نہیں رکھا۔ صلاح الدین ایوبی شاید مصر کے گورنر کی حیثیت سے ہی اپنی زندگی گزار دیتے لیکن نورالدین زنگی کے انتقال کے انکی زندگی بدل کے رکھ دی۔ نورالدین زنگی کا بیٹا ابھی چھوٹا تھا اور محل میں موجود درباریوں نے سازشوں کے ذریعے زنگی سلطنت کو تقسیم کردیا۔۔۔

جب صلاح الدین ایوبی نے یہ سب دیکھا تو انہوں نے مصر کو ایک الگ سلطنت میں تبدیل کردیا اور خود اس کے سلطان بن کر زنگی سلطنت میں موجود سازشیوں کو سبق سکھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے شام پر حملہ کردیا۔ بہت جلد سلطان نے دمشق فتح کردیا اور مصر سے لے کر شام تک ایک بڑے علاقے کے سلطان بن گئے۔۔۔

اب سلطان صلاح الدین ایوبی کیلئے بڑا چیلنج فلسطین کی صلیبی سلطنت تھی۔ صلیبوں نے 1099 میں بیت المقدس پر قبضہ کرلیا تھا۔ صلیبی بار بار صلاح الدین ایوبی سے صلح کے معاہدے کرتے اور توڑ دیتے تھے آخر کار سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1177 میں بہت بڑی فوج اکٹھی کی اور فلسطین پر حملہ کردیا۔۔۔

اس حملے کے دوران بہت سی مشکلات پیش آئیں اور کہیں بار سلطان کو پیچھے بھی ہٹنا پڑا لیکن آخر کار صلیبوں کو شکست نظر آنے لگی اور انہیں لگا کہ مسلمان تو ہمارے بیوی بچوں کو اپنا غلام بنا لیں گے تو انہوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی سے رحم کی بھیگ مانگنی شروع کردی۔۔۔

سلطان تو سنت محمد صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کرنے والے تھے کیسے معاف نہ کرتے لہذا سلطان صلاح الدین ایوبی نے سب کو معاف کردیا اور یوں اکتوبر 1187 میں بیت المقدس پر سلطان صلاح الدین ایوبی کا مکمل کنٹرول ہوگیا۔۔۔

سلطان فتح بیت المقدس کے بعد بھی 3 سال تک برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے جنگ لڑتے رہے اور بیت المقدس کا دفاع کرتے رہے اور پھر صلیبوں نے اپنے مقدس مقامات کی زیارت کیلئے صلح کرلی۔ صلح کے بعد سلطان واپس اپنے وطن دمشق پہنچ گئے لیکن ان کے دن میں ایک خلش تھی کہ وہ کبھی حج نہ کرسکے۔۔۔

دمشق واپس آئے تو اس بار بھی حج گزر چکا تھا لیکن جب سلطان کو پتہ چلا کہ کچھ حاجی واپس آرہے تو سلطان ان سے ملنے نکل پڑے اور ہر حاجی سے گلے لگ لگ کر رونے لگے۔ حاجیوں سے ملاقات کے بعد واپسی پر سلطان صلاح الدین ایوبی کو سخت بخار نے گیر لیا اور یوں مارچ 1193 کی صبح سلطان صلاح الدین ایوبی اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔۔۔

@Waseemakrm_