اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں کو سزائے موت سنا دی گئی

مصر نے اخوان المسلمین کو 2013 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا
0
62
court

قاہرہ: مصر کی فوجداری عدالت نے اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں کو سزائے موت سنا دی-

باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں میں 8ویں سپریم گائیڈ 80 سالہ محمد بدیع بھی شامل ہیں جو طویل عرصے سے پابند سلاسل ہیں چند برس قبل محمد بدیع کو سزائے موت سنائی گئی تھی تاہم بعد میں ان کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا گیا تھا،سزائے موت پانے والوں میں 79 سالہ قائم مقام گائیڈ محمود عزت بھی شامل ہیں جنہیں برسوں روپوش رہنے کے بعد اگست 2020 میں قاہرہ سے گرفتار کیا گیا تھا،6 دیگر رہنماؤں یعنی محمد البلتاگی، عمرو محمد ذکی، اسامہ یاسین، صفوت ہیگزی، عاصم عبدالمجید اور محمد عبدالمقصود کو بھی سزائے موت سنائی گئی۔

مصر نے اخوان المسلمین کو 2013 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا مصری حکومت کی جانب سے یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب حکومت مخالف مظاہروں کے بعد فوج نے صدر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور اس کے بعد اسکندریہ کے سیدی گبر ضلع میں پرتشدد فسادات میں 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

پاکستان میں افغان نژاد کالعدم ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ملوث ہونے کی تصدیق

حکومت نے ان فسادات کی تمام تر ذمہ داری اخوان المسلمین پر عائد کی جبکہ اخوان المسلمین نے ہلاکتوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے صدر مرسی کو معزول کیے جانے کے بعد سے اسلام پسند اخوان المسلمین کے متعدد رہنماؤں کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی الیکشن کیلئے اہل قرار دیدیا

سپریم اسٹیٹ سیکیورٹی پراسیکیوشن نے اپریل 2021 میں کیس کو اسٹیٹ سیکیورٹی کریمنل کورٹ میں بھیج دیا تھا اس مقدمے میں قائدین کی جانب سے قاہرہ کے مشرق میں النصر روڈ پر رابع العدویہ دھرنے سے لے کر ’’پلیٹ فارم میموریل‘‘ تک ایک اجتماع منعقد کرنے کے الزامات شامل تھے۔

چین کا بھارت کے 17 رافیل لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ

Leave a reply