ارفع کریم کی دنیا سے رخصت ہوئے 8 برس بیت گئے، ارفع کریم ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

پاکستان کی کم عمرترین مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل ارفع کریم رندھاوا کو دنیا سے رخصت ہوئے 8 سال ہو گئے ہیں –

باغی ٹی وی :ارفع کریم 2 فروری 1995 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئیں اورصرف 9 برس کی عمر میں دنیا کی کم عمر ترین مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کا اعزازحاصل کیا ارفع نے فاطمہ جناح گولڈ میڈل، سلام پاکستان یوتھ ایوارڈ اورصدارتی پرائیڈ آف پرفارمنس سمیت دیگراعزازات بھی حاصل کیے تھے۔

2005 میں مائیکرو سافٹ کے خالق بل گیٹس نے ارفع کریم سے خصوصی ملاقات کی اور انہیں مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ ایپلی کیشن کی سند عطا کی تھی ۔مائیکرو سافٹ نے بار سلونا میں منعقدہ 2006 کی تکنیکی ڈویلپرز کانفرنس میں پوری دنیا سے 5 ہزار سے زیادہ مندوبین میں سے پاکستان سے صرف ارفع کریم کو مد عو کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ ارفع کریم نے دبئی کے فلائنگ کلب میں صرف دس سال کی عمر میں ایک طیارہ اڑایا اور طیارہ اڑانے کا سرٹیفیکٹ بھی حاصل کیا ۔

ارفع کو 22 دسمبر 2011 کو مرگی کا دورہ پڑنے پر لاہور کے اسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں وہ کچھ روز کومے میں رہنے کے بعد 14جنوری 2012 کو خالق حقیقی سے جا ملیں لیکن مائیکرو سافٹ کی تاریخ میں ناقابل فراموش نقوش چھوڑ گئیں۔

جنوری 2012ء میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ارفع کے نام پر ڈاک کا یادگاری ٹکٹ جاری کرنے کی منظوری دی‘ جبکہ پنجاب حکومت نے ان کے نام سے لاہور میں ارفع کریم آئی ٹی ٹاور بھی تعمیر کیا ہے۔

ارفع کریم کی آج آٹھویں برسی منائی جا رہی ہے جس میں سوشل میڈیا صارفین بھی ٹوئٹر ٹرینڈ کے ذریعے پر ارفع کریم کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں-


اس ٹرینڈ میں حصہ لیتے ہوئے سحر شاہ رضوی نامی خاتون صارف نے لکھا کہ ارفع کریم رندھاوا جو 9 سال کی عمر میں دنیا کے سب سے کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل بن گئیں انہیں فاطمہ جناح گولڈ میڈل سے نوازا ، پرائیڈ آف پرفارمنس ، اور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بنیں وہ ہمارے ملک کے لئے ہمیشہ فخر رہے گی میں اس کی تصویر پینٹ کروں گی-


ایک صارف نے کہا کہ ہماری قوم کی اصل بیٹیاں ارفع کریم اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہیں ، جو اپنی قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔


ایک صارف نے لکھا کہ ایک بار ارفع کریم نے کہا تھا کہ "لوگ کہتے ہیں کہ میں ایک ذی وقار ہوں۔ میں شاید ایک ہوں لیکن میں اکیلی نہیں ہوں۔ مجھ جیسے بہت ساری پاکستانی لڑکیاں اور لڑکے ہیں۔ جن کی صلاحیتوں کو تھوڑا سا پالش کرنا ہے۔ اور میں کروں گی۔ یہ میرا مقصد ہے "- صارف نے لکھا کہ آج قوم کی اس باصلاحیت بیٹی کی یاد آرہی ہے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.