fbpx

آرمی چیف کی مدت ملازمت، عدالتی فیصلہ کے بعد وزیراعظم کا انتہائی اہم بیان

آرمی چیف کی مدت ملازمت، عدالتی فیصلہ کے بعد وزیراعظم کا انتہائی اہم بیان

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اداروں کوآپس میں لڑانے کی خواہش رکھنے والوں کو آج بہت مایوسی ہوئی ہوگی۔ اداروں کے درمیان تصادم سے عدم استحکام لانے والے ہار گئے ہیں

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مافیا ملک کوغیرمستحکم کرکے لوٹ کے مال کی حفاظت کے لیے کوشاں ہے۔ 23 سال قبل پی ٹی آئی آزاد عدلیہ اور قانون کے حکمرانی کی وکالت کرنے والی پہلی پارٹی تھی۔ 2007 میں بھی تحریک انصاف عدلیہ کی آزادی کے لئے پیش پیش تھی اور انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ وہ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی بے حد عزت کرتے ہیں۔ بیرونی دشمنوں اور اندرونی مافیا کے لئے آج مایوسی کا دن ہے.

واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں سپریم کورٹ نے چھ ماہ توسیع کر دی ہے،چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا،حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آرٹیکل 243 فور بی کے تحت کی ہے،جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جمع کرایا گیا،ہمارے سامنے یہ سوال آیا کہ کیا توسیع دی جاسکتی ہے یا نہیں،آرمی ایکٹ اور اس کے رول کا جائزہ لیا،اٹارنی جنرل نے عدالتی سوالوں کا جواب دیا، دستاویزات کے مطابق پاک آرمی کا کنٹرول وفاقی حکومت سنبھالتی ہے،

عدالت نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کا تقرر صدر وزیراعظم کی مشاورت سے کرتا ہے،آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کے حوالے سے قانون خاموش ہے،حکومت نے مسلح افواج سے متعلق قوانین میں ترامیم کیلئے6 ماہ کا وقت مانگا،ہم معاملہ پارلیمنٹ اور حکومت پر چھوڑتے ہیں،توسیع کےمعاملےکوقانون سازی مکمل ہونے کے بعد دیکھا جائے گا،

سپریم کورٹ نے درخواست گزار حنیف راہی کی پٹیشن خارج کرتے ہوئے نمٹا دی.

چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟