fbpx

آرمی چیف کی مدت ملازمت،عدالتی فیصلے پر بابر اعوان کا دو لفظی تبصرہ

آرمی چیف کی مدت ملازمت،عدالتی فیصلے پر بابر اعوان کا دو لفظی تبصرہ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا ہے کہ بہت سے لوگ اداروں کے درمیان تصادم چاہتے تھے تاہم موجودہ حالات میں پاکستان تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

بابراعوان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا مقدمہ تھا۔ آل از ویل، نتیجہ ٹھیک نکلا۔ اداروں کو اب آگے چلنا چاہیے۔ عدالت نے حکومت نہیں پارلیمنٹ کو قانون سازی کا کہا کہ پارلیمنٹ طے کرے گی مدت ملازمت کتنی ہونی چاہیے، معاملہ آسانی کے ساتھ حل ہو جائے گا

چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں سپریم کورٹ نے چھ ماہ توسیع کر دی ہے،چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا،حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آرٹیکل 243 فور بی کے تحت کی ہے،جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جمع کرایا گیا،ہمارے سامنے یہ سوال آیا کہ کیا توسیع دی جاسکتی ہے یا نہیں،آرمی ایکٹ اور اس کے رول کا جائزہ لیا،اٹارنی جنرل نے عدالتی سوالوں کا جواب دیا، دستاویزات کے مطابق پاک آرمی کا کنٹرول وفاقی حکومت سنبھالتی ہے،

عدالت نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کا تقرر صدر وزیراعظم کی مشاورت سے کرتا ہے،آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کے حوالے سے قانون خاموش ہے،حکومت نے مسلح افواج سے متعلق قوانین میں ترامیم کیلئے6 ماہ کا وقت مانگا،ہم معاملہ پارلیمنٹ اور حکومت پر چھوڑتے ہیں،توسیع کےمعاملےکوقانون سازی مکمل ہونے کے بعد دیکھا جائے گا،

سپریم کورٹ نے درخواست گزار حنیف راہی کی پٹیشن خارج کرتے ہوئے نمٹا دی.

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.