fbpx

نوازشریف پرحملہ،برطانوی میڈیابےخبر،بھارتی میڈیاچیخنےلگا:گارڈکی پیشانی پرکٹ؟پانامہ کے بعد ڈرامہ

اسلام آباد:نوازشریف پرحملہ،برطانوی میڈیابےخبر،بھارتی میڈیاچیخنےلگا،مذمت پاکستان میں:گارڈکی پیشانی پرکٹ؟چند منٹ پہلے پاکستانی میڈیا میں چلائے جانے والی خبرجس میں یہ آہ وبکا کی گئی کہ لندن میں‌ نوازشریف پرحملہ ہوگیا ہے اور ایک حملہ آور نے نوازشریف کو موبائل دے مارا ہے

 

دنیاکو خبرنہیں اور بھارتی میڈیا چیخ چیخ کر کہہ رہا ہےکہ نوازشریف پرحملہ ہوگیا،بچالو اسے

یہ کہانی بھی بڑی عجیب لگتی ہے ، پہلی تو بات یہ ہے کہ یہ حملہ جس جگہ بتایا جارہا ہے وہاں پچاس میٹر دور تک کوئی ناواقف شخص قریب نہیں آسکتا ہے ، پھردوسری اہم وجہ یہ ہے کہ وہ شخص جس نے نوازشریف کو موبائل دے مارا وہ سیکورٹی گارڈز کو عبور کرکیسے کرکے قریب آگیا اور فرض کرلیں کہ اس حملہ آور نے حملہ کیا تو پھرکس سے کیا

 

بتایا جارہا ہے کہ حملہ آور نے موبائل دے مارا اور وہ سیکورٹی گارڈ کو لگ گیا لیکن جو زخم بتایا جارہا ہےوہ موبائل لگنے کی وجہ سے نہیں ہے ، کیوں کہ موبائل اگرقریب سے پھینکا گیا تو اس کی رفتار سو کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتو وہ جہاں سے پھینکا گیا وہاں سے 10 میٹر سے ہوا میں سفر کرسکتا ہے اور اگر اتنی تیزی سے لگا ہے تو پھر سیکورٹی گارڈ کی پیشانی پرجہاں سے خون بہہ رہا ہے اس کے گردو نواح کا حصہ بھی متاثر ہونا چاہیے ، سوزش بھی یقینی تھی لیکن وہ کیوں نہ ہوئی ، آنکھ کے اس حصے پر کوئی چیز بھی لگے تو وہ تو بہت زیادہ سوج جاتی ہے ، جیسا کہ ہرکسی کے علم میں‌ہے

اس کے ساتھ ساتھ یہ بتایا جارہا ہے کہ موبائل زور سے مارا جہاں موبائل لگا وہاں ارد گرد پیشانی کی جلد کا رنگ کیوں نہ تبدیل ہوا ، اورپھرجو زخم لگا اس گہرے زخم سے خون کا ایک قطرہ آکر آنکھ پر کیوں‌ رُک گیا اور بھی خون بہنا چاہیے تھا

اس کے بعد یہ جائزہ لیں تو یہ بھی صورت حال سامنے آتی ہے کہ جو پیشانی پرزخم دکھایا جارہا ہے وہ تو ایک کٹ ہے اور اور کٹ بھی اس تکنیک سے لگایا گیا ہے کہ نہ تو گہرا ہے اور نہ ہے زیادہ پھیلا ہوا

پھر اگر فرض کرلیا جائے کہ واقعی حملہ ہوا تو حملہ آورکہاں گیا ، اس کا نام کیا ہے ، اس کا موبائل کہاں گیا اور اگرموبائل پاس ہے تو اس میں موجود سم کا ڈیٹا دیا جاتا

بی بی سی انگلش میں واقعہ کے کئی گھنٹے بعد تک نوازشرپف پرحملے کا کوئی ذکر نہیں 

یہ بھی یاد رکھیں کہ اس تحقیق کے بعد پاکستانی میڈیا پرپھر ایک بار فرضی حملہ آور کو اس ڈرامے کو سچ ثابت کرنے کے لیے پیش کیا جائے لیکن یہ یاد رکھیں کہ برطانوی میڈیا اور عدالت میں یہ حقائق پیش نہیں کیے جائیں گے کیونکہ وہاں جھوٹ نہیں چلتا

اس کےبعد آتے ہیں کہ جب یہ واقعہ ہوا تو اس وقت تو میاں نوازشریف اپنے محل میں بیٹھے چند غیرملکیوں کے ساتھ میٹنگ کررہے تھے ، میاں صاحب ان غیرملکیوں کو میٹنگ میں چھوڑ کراچانک باہر کیوں آئے ، اور پھراگرآگئے تو پھر خاموشی سے واپس کیوں چلے گئے اور ان غیرملکیوں کو کیوں نہ بتایا کہ یہ ڈرامہ ہوگیا ہے

اس کے بعد آتے ہیں کہ حسب روایت میاں نوازشریف کی حمایت میں بھارتی میڈیا سب سے پہلے آتا ہے اور آج بھی بھارتی میڈیا نے یہ خبر بریک کی اور دھاڑیں مار مار کررورہا ہےکہ نوازشریف پر حملہ ہوگیا

جبکہ برطانیہ جہاں سیکڑوں ادارے بین الاقوامی معاملات پر لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ کررہے ہیں ان کو کیوں نہ پتہ لگا کہ نوازشریف پر حملہ ہوگیا ،

بی بی سی اردو میں کئی گھنٹے بعد تک نوازشرپف پرحملے کا کوئی ذکر نہیں 


برطانوی نشریاتی اداروں کے ساتھ ساتھ دیگرعالمی میڈیا کو پتہ نہیں کہ نوازشریف پر حملہ ہوگیا اوربھارتی میڈیا چیخیں مار رہا ہے ، اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں‌؟

پھر اگرحملہ ہوا ہے تو اسکاٹ لینڈ یارڈ کو کیوں نہ رپورٹ جمع کروائی گئی اور اس رپورٹ کی کاپیاں کیوں نہ شیئر کی گئیں اگر یہ سچ ہے تو ؟

اتنا بڑا ڈرامہ کیوں اور کیسے ہوا اور اس کے مقاصد کیا ہیں ؟

اس وقت پاکستان میں سیاسی عدم استحکام ہے اور آج پاکستان کے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد ہونے جارہی ہے ، ملک کے مشہور میڈیا گروپس اس معاملے پرحکومت اور ریاست کے خلاف ہیں اور وہ نوازشریف اور زرداری کے پے رول کے طور پرکام کررہے ہیں ،وہ اس موقع پر حکومت کو گہرے زخم لگانے اور عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ حکومت ظالم حکومت ہے اور یہ اپنےمخالفین پر حملوں میں ملوث ہے لٰہذا اسے کے خلاف نکلنا اب واجب ہوگیا ہے

دوسرا اس کا مقصد یہ ہےکہ پاکستانیوں کے ذہنوں میں یہ تاثردیا جائے کہ یہ حکومت جارہی ہیے اوراسی وجہ سے یہ گھنونے کام کررہی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہےکہ اسلام اباد میں اس حکومت کے ورکرز بڑی تعداد میں موجود ہیں اور وہ اپوزیشن کے خلاف میدان میں نکل آئے تاکہ عوام کی ہمدردیاں حاصل ہوسکیں ،

لندن سازش کو کس طرح کمک پہنچائی جارہی ہے.پاکستان میں ہونے والی زہرآلود رپورٹنگ کی ٹائمنگ،وقت اور موضوع ،طئے شدہ منصوبے کا حصہ

مختصر یہ کہ یہ وہی کھیل ہے جو پہلے بھی کھیلا جاتا ہے اور جھوٹ اور ڈرامہ بازی کے ذریعے پاکستانی معاشرے کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن سوال یہ ہےکہ اتنے بڑے ڈرامے کرنے والے کب تک جھوٹوں کا سہارا لیں‌گے آخر کوئی تو ہے جو دیکھ رہا ہے

 

بات یہ ہے کہ نوازشریف کے گارڈز نے ایک نوجوان پر تشدد کیا اور پھرپولیس کی کارروائی سے بچنے کےلیے یہ ڈرامہ کیا جس کا سارا منظرنامہ اس ویڈیو میں موجود ہے