fbpx

صوبہ پنجاب میں آئینی بحران شدت اختیار کر گیا، آئینی و قانونی ماہرین کا وزیراعلیٰ حمزہ شہبازکو اہم مشورہ

لاہور:صوبہ پنجاب میں آئینی بحران شدت اختیار کر گیا، آئینی و قانونی ماہرین نے وزیراعلیٰ حمزہ شہبازکو فوری طور پرعہدے سے استعفیٰ نہ دینے کا مشورہ دیا ہے-

باغی ٹی وی: وزیراعلیٰ پنجاب کو آئینی و قانونی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ فوری طور پر اپنے منصب سے استعفیٰ نہ دیں پہلے سپریم کورٹ کے فیصلے کی کاپی آنے دیں پھر فیصلہ کریں۔

پنجاب حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے مقرر کردہ 19 افسران کو فارغ کردیا

ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز کو دی جانےوالی بریفنگ میں کہا گیا ہےکہ گورنر کے پاس آئینی اختیار ہےکہ وہ اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہہ سکتے ہیں لیکن قائم مقام گورنر کا عہدہ سنبھالتے ہی اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد آجائے گی وزیرا علی ٰکے خلاف اعتماد کے ووٹ یا عدالتی فیصلے پر عمل کرنے میں وقت درکار ہو گا۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے سنائے جانے والے فیصلے کے فوری بعد بلائی گئی پریس کانفرنس ملتوی کردی تھی اور قانونی ٹیم کو مشاورت کے لیے بلا یا تھا حالانکہ اس سے خطاب کے لیے وہ بطور خاص مری سے لاہور پہنچے تھے صوبہ پنجاب کی سیاسی صورتحال پر وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے پریس کانفرنس بلائی تھی۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ ، پی ٹی آئی کو پنجاب میں ایک بار پھر بڑا دھچکا لگنے کا امکان

دوسری جانب آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کا ووٹ کاسٹ نہیں ہو گا کیونکہ اب سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی خوشیاں منا رہی ہے کہ اب پنجاب میں ہمارا وزیر اعلی آئے گا تا ہم حقیقت اسکے برعکس ہے ۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب کی صورتحال انتہائی دلچسپ ہو چکی ہے ایسے لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی پنجاب سے جا چکی اب دوبارہ حمزہ شہباز ہی وزیراعلی منتخب ہوں گے پنجاب کے حوالہ سے ن لیگ نے مشاورتی اجلاس بھی بلایا ہے جس میں اراکین کو متحد رکھنے پر بات چیت کی جائے گی ۔

پنجاب میں پی ٹی آئی ہے وزیر اعلی کے امیدوار پرویز الٰہی بھی وزیر اعلی بننے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں لیکن انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا کیوںکہ زمینی حقائق کے مطابق ن لیگ کے پاس اب بھی اکثریت ہے-

ملک میں عدل و انصاف ہونا چاہیے،ہمیں نیوٹرل ہونے کی اجازت ہی نہیں، عمران خان