fbpx

بغاوت کرو اس معاشرے کے خلاف ! تحریر: حسن ریاض آہیر

کبھی کبھی بغاوت بھی کرنی چاہیے، جو بغاوت کسی اچھے مقصد کے لیے کی جائے وہ غداری نہیں ہوتی۔ بغاوت کرنا بھی ہر انسان کے بس کی بات نہیں۔ کیونکہ باغیوں کو نظام اور معاشرہ کبھی قبول نہیں کرتا۔

ذرا غور کریں ان باتوں پر !

ہمارے معاشرے میں اگر عورت پر کوئی جھوٹا الزام لگا دیا جائے تو اس کو وہ ثابت کرتے اپنے کردار پر کئی دھبے لگا بیٹھے گی اور مرد جھوٹ ہی کیوں نا بولے عورت کی بانسبت اس پر زیادہ یقین کر لیا جاتا ہے۔
آخر کیوں ؟
کیوں ایسا ہے کہ مرد موبائل استعمال کریں تو عام بات ہے اور عورت کریں تو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ؟

کیوں ایسا ہے کہ جائیداد ہمیشہ مرد یعنی بھائیوں میں تقسیم ہو گی اور بہن کا وراثت میں بھی کوئی حق نہیں ؟
کیوں بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی جاتی ہے اور بیٹیوں کو مخصوص تعلیم دلوا کر انہیں گھر بٹھا لیا جاتا ہے ؟
کہ یہ پڑھ کہ کیا کریں گی اس نے تو ویسے بھی اگلے گھر جانا ہے۔
ہم مسلمان ہیں بےشک ہمیں کبھی وہ حد پار نا کرنی اور نا کرنے دینی ہے جو اسلام نے مقرر کی ہے۔ لیکن جو تم اس خود ساختہ نظام اور معاشرے کی گھٹیا سوچ کی زنجیروں میں جکڑ چکے ہو اس سے باہر نکلو اور عورت کو بھی کھلی فضا میں جینے کا حق دو وہ بھی انسان ہے۔ اس کو پابندیوں کی ایسی زنجیروں میں نا جکڑ ڈالو کے سانس لینا بھی محال ہو جائے۔
یہ نظام کب بدلے گا ؟
جب ہم بدلیں گے تب بدلے گا !
@HRA_07