fbpx

ایک طرف میاں نوازشریف کی نااہلی ختم کرنے کی درخواست تودوسری طرف بشیرمیمن پھربول پڑے

لاہور: ایک طرف میاں نوازشریف کی نااہلی ختم کرنے کی درخواست تودوسری طرف بشیرمیمن پھربول پڑے،اطلاعات کے مطابق سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے شریف خاندان کے خلاف کیسز کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں، بشیر میمن کا کہنا ہے کہ ان سے شریف خاندان کے خلاف کیسز بنانے کا کہا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق ایک بار پھر سابق ڈی جی ایف آئی اے نے کہا ہے کہ مجھے متعدد بار مریم، نواز شریف اور شہباز کے خلاف کیسز کا کہا گیا، میں نے جو الزامات لگائے تھے ان کی انکوائری کی بجائے مجھ ہی پر الزامات لگا دیے گئے۔

سابق ڈی جی ایف آئی اے نے یہ الزامات اس وقت دہرائے جب نوازشریف کو عدالتی فائدہ پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں‌اور میاں نوازشریف کی تاحیات نااہلی کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی گئی ہے

سابق ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ لاہور میں منی لانڈرنگ کا کیس چل رہا ہے یہ فائل بھی میرے پاس آئی تھی، فائل دیکھ کر کہہ دیا تھا کہ یہ کیس نہیں بنتا، اس کیس سے متعلق ایسی باتیں مجھے معلوم ہیں جو میں نہیں بتانا چاہتا۔

انھوں نے انکشاف کیا عرب شیخ میرے گھر چائے پینے آئے تھے، عرب شیخ کی کل وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات طے ہے، ایک تصویر کو مجھ سے منسوب کر کے ٹرولنگ کی جا رہی ہے، میں انکشاف کرتا ہوں کہ وہی شخص 50 ملین ڈالر کی انوسٹمنٹ لے کر آیا ہے، بشیر میمن نے بتایا کہ عرب شیخ کی تصویر فیصل واوڈا، عمر ایوب اور دیگر کئی لوگوں کے ساتھ بھی ہے۔

بشیر میمن کے مطابق یہ لوگ پاکستان کا مذاق بنا رہے ہیں، ان کے ایک بیان سے پی آئی اے کو 2 ارب روپے کا نقصان ہوا، یہ پاکستان کو عالمی تنزلی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، میں پاکستانی ہوں میں جو ٹھیک سمجھوں گا وہ بولوں گا۔

انھوں نے کہا وزیر اعظم نے متعدد بار کے الیکٹرک کے عارف نقوی کے لیے کہا، عارف نقوی پر اپنے مؤقف سے میں نہیں ہٹا، اب ثابت ہو چکا ہے کہ دبئی سے 2.1 ملین ڈالر آئے۔

بشیر میمن نے کہا ٹھیک آدھے گھنٹے بعد میرے بیان پر ٹرولنگ شروع ہو جائے گی، وہ بیچارے تنخواہ لیتے ہیں، لیکن خدا کا واسطہ ہے بطور ادارہ ایف آئی اے اپنا مذاق نہ بنوائے، یہ ایف آئی اے کو سیاسی تنظیم بنانے جا رہے ہیں۔