fbpx

بے نظیر بھٹو کی تصویر سے بھارتی انتہا پسندوں میں خوف کی لہر

مودی سرکار کے انتہا پسندوزیروں نے پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی تصویرپر بھی نفرت انگیز بیانات دینا شروع کر دئیے۔

باغی ٹی وی: آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمنز ایسوسی ایشن (AIDWA) جو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کی خواتین کی شاخ ہے، نے پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی تصویر کو اپنی آنے والی قومی کانفرنس کے سرورق کے طور پر استعمال کیا ہے تنظیم کی جانب سے ترواننت پورم میں پیلام شہید منڈپ کو بھی بینظیر بھٹو اسکوائر کا نام دیا گیا ہے۔

بھارت میں مسلم نوجوان پر ہندو لڑکی سے بات کرنے پر بہیمانہ تشدد


ایڈوا کانفرنس کے لیے پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی تصویر والے بڑے ہورڈنگز لگائے گئے ہیں، بے نظیر بھٹو کی تصویر کے آگے لکھے گئے متن میں بتایا گیا ہے کہ ’’پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو ہارورڈ یونیورسٹی سمیت 9 یونیورسٹیوں نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی دی تھی۔‘‘ جبکہ نیچے بے نظیر بھٹو اسکوائر کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

یہ کانفرنس 6 سے 9 جنوری تک منعقد ہونے والی ہے۔


لیکن دوسری جانب بے نظیر بھٹو کی تصویر نے انتہا پسندوں کوآگ لگا دی، بھارتیہ جنتا پارٹی کی کیرالہ اکائی کے ترجمان سندیپ وچاسپتی نے ٹویٹر پر کمیونسٹ پارٹی کی مذمت کرتے ہوئے انہیں غدار قرار دے دیا ہے لکھا کہ بھارت کے خلاف 1000 سالہ جنگ کا اعلان کرنے والی پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی تصویر اب اس کو مزین کر رہی ہے جو پاکستان کی قومی کانفرنس کے سلسلے میں لگائی گئی تھی۔

ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار