fbpx

بھارت میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کو اجاگر کرنے پر اقوام متحدہ کے عہدیداروں کا کردار قابل تعریف ، وانی

بھارت میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کو اجاگر کرنے پر اقوام متحدہ کے عہدیداروں کا کردار قابل تعریف ، وانی

ہندوستان پسماندہ طبقوں خصوصا مسلمانوں، دلت، سکھ، اور عیسائی مذہب کے پیروکاروں کو تحفظدینے میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔

باغی ٹی وی : اسلام آباد انسانی حقوق کے علمبردار اور چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کے آئی آئی آر) الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ (اقوام متحدہ) کے چار خصوصی ریپورٹرز کی جانب سے حکومت ہند کو لکھے جانے والے ایک مشترکہ خط پر انکی شاندارالفاظ میں خراج تحیسن پیش کیا جس میں انہوں نے وہ بھارت میں کالے قوانین کی آڑ میں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
.
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اقوامی متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے پرامن اسمبلی اور انجمن آزادی کے حقوق، انسانی حقوق کے محافظوں کی صورتحال پر خصوصی نمائندہ، صوابدیدی نظربندی پر ورکنگ گروپ رائے اور اظہار رائے کی آزادی کے حقوق کے فروغ اور تحفظ،وکلا کی آزادی، اقلیتوں کے معاملات پر خصوصی نمائندہ، رازداری کے حق پر خصوصی نمائندہ اور آزادی یا مذہب یا عقیدے پر خصوصی نمائندوں نے بھارتی حکومت کو ایک مشترکہ اعلامیہ میں بھارت میں کالے قوانین کی آڑ میں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وانی نے اسے ایک مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسسے ہندوستان کا چہرہ بے نقاب ہوکر دنیا کے سامنے ننگاہوکر رہ گیا ہے۔ وانی نے خط کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ”اس خط میں افراد کو مذہبی اور دیگر اقلیتوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور سیاسی افراد کے ساتھ جاری امتیازی سلوک کے تناظر میں،” دہشت گرد ”کے طور پر نامزد کرنے کے سلسلے میں خدشات ظاہر کئے گے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے قوانین کے غلط استعمال کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے یہ واضع کیا ہے کہ بھارتی سیکورٹی حکام UAPA جیسے کالے قانین کی آڑ میں انسانی حقوق کے محافظوں کو نشانہ بنانے یا ان کے کام میں رکاوٹ ڈالنے اور ان کے تحفظ کو خطرے میں ڈالا جاتا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔وانی نے انسانی حقوق کے کارکنوں کی بھی تعریف کی کہ وہ ہندوستان میں انتہائی سخت اور مشکل حالات میں کام کررہے ہیں، اور انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لئے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

کے آئی آر کے سربراہ جو جنوبی ایشیا میں رونماہونے والے واقعات کو بڑی باریک بینی سے دیکھتے ہیں نے کہا کہ ہندوستان جو سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ابھی پسماندہ طبقوں خصوصا مسلمانوں، دلت، سکھ، اور عیسائی مذہب کے پیروکاروں کو تحفظ کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے جس کا اعتراف اس خط میں بھی کیاگیا ہے۔ انہوں نے وقتا فوقتا ہندوستان کی حکومتوں کے متعارف کروائے گئے کالے قوانین کے ایک لامتناعی سلسلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”بھارت اختلاف رائے کی آواز کودبانے اورصف ہستی سے مٹانے کے لئے کالے قوانین اور انسداد دہشت گردی کے نام نہاد قوانین کا بے جااستعمال کرنے میں سب سے آگے ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کالے قوانین کو کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں موجودہ غیر یقینی صورتحال کے بارے میں مسٹر وانی نے کہا کہ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ مقبوضہ خطے میں ہر طرح کے جنسی زیادتی، لاپتہ ہونے والے افراد، غیرقانونی قتل وغارت گری سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار بھارتی قابض فوج کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑ ا کرنا چاہے۔انہوں نے کہا کہ احتساب کا فقدان در حقیقت بھارت فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق پامالیوں کی ایک بنیادی وجہ اور نتیجہ ہے۔