بلاول کی سال کے آخر تک حکومت کو ڈیڈ لائن، کہا اسلام آباد آ کر گھر بھیجیں گے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ اسلام آباد میں دھرنے سے انکار کیا لیکن اگر حکومت کے اتحادی اور سیلیکٹرز حکومت کو گھر نہیں بھیجیں گے تو ہم اسلام آباد آکر گھر بھیجیں گے۔ حکومت کو سال کے آخر تک کی ڈیڈ لائن دیتے ہیں

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلاول زرداری نے گڑھی خدا بخش میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کٹھ پتلی اتحاد کچرے کا بہانہ بنا کر کراچی پر قبضہ کرنے کا خواہشمند ہے۔ سندھ حکومت مضبوط ہے، قیادت کو جیلوں میں ڈال کر بھی گرایا نہیں جا سکتا۔ کچھ لوگوں سے اٹھارویں ترمیم برداشت نہیں ہو رہی ہے اور پہلے بھی لوگوں سے 1973 کا آئین برداشت نہیں ہوتا تھا۔ پیپلز پارٹی نے بےنظیر انکم سپورٹ جیسے انقلابی اقدامات کیے اور صوبائی خود مختاری دی جبکہ آصف زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر ملک کو بچایا.

بلاول زرداری نے مزید کہا کہ پی پی قیادت پر جعلی کیسز ڈال کر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، زرداری نے پہلے بھی جیل میں وقت گزارا، اب بھی گزار لیں گے، فریال تالپور کا پروڈکشن آرڈر روک کر ہمیں نہیں دبایا جا سکتا۔ یہ ایک سال سے ہماری حکومت گرانے میں لگے ہیں لیکن اب تک ناکام ہیں، سیاسی مخالفین پر مقدمات بنانا غیر جمہوری قوتوں کی پرانی عادت ہے۔

بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترامیم پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرینگے۔ ضیا الحق اور مشرف کا ظلم برداشت کیا، کٹھ پتلی حکومت کا بھی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وفاقی حکومت کی جعلی کیسز کی ہر کوشش ناکام ہوگی۔ پیپلز پارٹی ان کے سامنے دیوار کی طرح کھڑی رہے گی

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ انڈین ائیرفورس کے پائلٹ کا انٹرویو تو سلیکٹڈ میڈیا پر چل سکتا ہے مگر آصف زرداری کا نہیں، ہر چینل کنٹرولڈ ہے، آئی ایس آئی کو جے آئی ٹی میں کیوں بٹھا دیتے ہو، سندھ کا کیس پنڈی میں کیوں چلاتے ہو؟ بغیر سزا جیل میں کیوں رکھا ہوا ہے ؟ کیا یہ کوئی اتفاق ہے کہ ساری سیاسی قیادت جیل میں ہے اب تو چیف جسٹس بھی بول رہے ہیں کہ یہ احتساب نہیں انتقام ہے۔

بلاول زرداری نے مزید کہا کہ کٹھ پتلی حکومت نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کرکے نوجوانوں کو بے روزگار کردیا، پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ کرکے لاکھوں غریبوں کو بے گھر کردیا۔ ٹیکسز کا طوفان اور تنخواہیں پرانی، سبسڈی چھین کر سفید پوش، تاجر اور کسانوں کا معاشی قتل کردیا۔

بلاول کا مزید کہنا تھا کہ یہ سمجھتے ہیں پیپلز پارٹی کی قیادت کو جیل میں ڈال کر سندھ میں کٹھ پتلی حکومت بنا سکتے ہیں، ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔ سندھ کی مضبوط حکومت کو گرانے کے لیے کوئی جمہوری طریقہ نہیں ہے۔

بلاول زرداری نے مزید کہا کہ میں الیکشن کے وقت سے کہہ رہا ہوں کہ ہمیں وفاق کو بچانا ہوگا، غیر جمہوری قوتوں کی سازش کو ناکام بنانے کے لیے عوام کی ضرورت ہے، ایک سال سے کٹھ پتلی حکومت کے وار جاری ہیں، سندھ کو ایک سو ارب جبکہ پنجاب کو دو سو ارب سے زائد نقصان ہوا ہے، آئین کے مطابق صوبوں سے ناانصافی ہورہی ہے اور کٹھ پتلی سرکار صوبوں کے آئینی حقوق پر ڈاکہ ڈال رہی ہے۔سندھ کی گیس رائلٹی پر وفاق ناانصافی کر رہاہے صوبوں کے حق کھارہا ہے یہ سندھ کے تین ہسپتال نہ چلاسکے کے فور منصوبے کےلئے کیسے پیسے دیں گے.

بلاول کا مزید کہنا تھا کہ پی ایس 11 کے لیئے میں نے ایسا امیدوار چُنا ہے جو نہ وڈیرہ ہے نہ سردار ایک عام شہری ہے میرا امیدوار ہے جمیل احمد سومرو،شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے لاڑکانہ میں اپنے آخری خطاب میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ انہیں سیٹوں کی سنچری چاہیئے ،لاڑکانہ کی عوام پی ایس 11 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کو کامیاب کرکے اس خواب کو شرمندہِ تعبیر کرے گی

بلاول زرداری نے مزید کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے سامنے سَر جھکا کر معاشی خود مختاری کا بھی سودا کیا۔ ذوالفقار بھٹو نے سرزمین بے آئین کو آئین دیا، بے بس عوام کو ووٹ کی طاقت دی، بے نظیر دہشت گرد حملے کے باوجود پیچھے نہیں ہٹیں، آصف زرداری نے 18 ویں ترمیم کر کے 73 کا آئین بحال کیا اور صوبوں کو خود مختاری دلوائی۔

بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ میں غیر جمہوری قوتوں کی سازشوں کو ناکام بنانے نکلا ہوں مجھے عوام کی مدد کی ضرورت ہے، صوبوں کو معاشی حق نہیں دیا جا رہا وفاق کی ناکامی کی وجہ سے صوبے دیوالیہ ہورہے ہیں، جی ڈی اے، ایم کیو ایم اور دیگر سندھ کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.