صدر 10 دن میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے تو بل قانون بن جاتا. نگران وزیراطلاعات

0
34
Murtaza Solangi

نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احمد عرفان اسلم کا کہنا ہے کہ پاکستان آرمی امینڈمنٹ بل 27 جولائی کو سینیٹ نے پاس کیا تھا اور یہی بل 31 جولائی کو قومی اسمبلی نے بھی پاس کیا اور پھر یہ بل ایوان صدر کو دو اگست کو موصول ہوا تھا جبکہ انہوں نے بتایا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی نے پہلی اگست کو پاس کرکے سینیٹ کو بھیجا لیکن سینیٹ نے کچھ اعتراضات لگا کر واپس قومی اسمبلی میں بھیج دیا جسے دور کرکے قومی اسمبلی نے 7 اگست کو منظور کیا اور اسکے بعد یہ بل صدر مملکت کو بھیجا گیا جو 8 اگست کو انہیں موصول ہوا تھا.

احمد عرفان اسلم کے مطابق قانونی پوزیشن یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت جب کوئی بل صدر مملکت کے پاس منظوری کیلئے بھیجا جاتا ہے تو ان کے پاس دو اختیارات ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اس بل پر اپنی رضامندی دے دیں اور وہ قانون بن جائے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ بل پر اپنی آبزرویشنز تحریری صورت میں واپس بھیجیں تاکہ مجلس شوریٰ ان رہنمائی پر غور کرسکے۔

تاہم ان کے مطابق آرٹیکل 75 کے تحت کوئی تیسرا اختیار نہیں ہے، اور یہ دونوں اختیارات استعمال کرنے کیلئے قانون میں ٹائم لمٹ 10 دن لکھی گئی ہے۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کے پاس 10 دن تھے، ماضی بعید اور ماضی قریب میں صدر مملکت نے کئی مرتبہ 10 دن کی ٹائم لمٹ پر عملدرآمد کیا۔ نگراں وزیر قانون نے کہا کہ صدر مملکت نے 10 دن میں نہ تو بل پر دستخط کیے اور نہ مشاہدات درج کرکے واپس بھجوائے، صدر 10 دن میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے تو بل خودبخود قانون کاحصہ بن جاتا ہے۔. علاوہ ازیں ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ صدر آئینی سربراہ ہیں اور ان کی بہت تعظیم ہے، صدر کو آئینی تحفظات حاصل ہیں، صدر کا ریکارڈ لینے جیسی کوئی حرکت ہم نہیں کرسکتے۔

مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ صدر اپنی ٹویٹ میں کس سے معافی مانگ رہے ہیں وہی بتاسکتے ہیں، اللہ سے ہم سب ہی معافی مانگتے ہیں، اگر کوئی غیر آئینی کام کریں تو اس پر عوام سے مانگنی چاہئے۔ صدر مملکت کے اسٹاف سے انکوائری کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت نامناسب بات ہوگی کہ صدر کے اسٹاف سے پوچھا جائے۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ کوئی فرد یا گروہ ملک کے آئین کے خلاف کوئی بات کرے تو اس کا جواب دینا حکومت کا کام ہے، موجودہ حکومت آئین کے تحت بنی ہے، اگر کوئی غیرآئینی بات کا حکومت جواب دے تو اسے سیاسی بیان قرار نہیں دیا جاسکتا۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
سونے کی قیمتوں میں کمی
اس بل کے تحت شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی گرفتاری کے سوال پر وزیراطلاعات نے کہا کہ کچھ لوگوں کی گرفتاری کی جو بات ہے اس پر ہم اپنا بیان دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی باقیوں کی طرح ٹی وی سے گرفتاریوں کا علم ہوتا ہے۔ مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ہم مفروضوں پر بات نہیں کرتے، ہم سے کوئی بھی توقع نہ کرے کہ ہم صدر کے آئینی عہدے کی تعظیم کے خلاف کوئی بات کریں، صدر صاحب کے اسٹاف کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرسکتا، یہ صدر کو دیکھنا ہوگا، ہم صدر کو کوئی مشورہ نہیں دے سکتے۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیر قانون نے احمد عرفان اسلم نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے تو یہ اس کا حق ہے۔

Leave a reply