مزید دیکھیں

مقبول

بجلی کی قیمتوں میں کمی، وزیراعلیٰ پنجاب کا خراج تحسین

وزیرِاعلیٰ پنجاب نے محمد نواز شریف،...

وزیراعلی سندھ کا عیدالفطر پر قیدیوں کے لیے معافی کا اعلان

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے عیدالفطر کے...

آرمی چیف کا عید الفطر پر وانا اور ڈیرہ اسماعیل خان کا دورہ

راولپنڈی: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر...

اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اس وقت بڑے اچھوں اچھوں کے بجلی اور مہنگائی نے کڑاکے نکال دیے ہیں ۔ جس سے پوچھو وہ بجلی کا بل پکڑ ے رو تا دیکھائی دے رہا ہے ۔ کوئی اپنا زیور بیچ رہا ہے ۔ کوئی کولر ، کوئی اے سی ،کوئی فریج، غرض بجلی کا بل دینے کے لیے اب عوام کو چیزیں بیچنا پڑ رہی ہیں ۔

مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ میں اتنا جانتا ہوں کہ ملک ڈوب رہا ہے اور گاڑی ہاتھ سے چھوٹ رہی ہے۔ غریب زندہ رہنے کی جستجو میں ہے۔ بجلی کے بل دیکھ کر ملک میں درجنوں افراد ہارٹ اٹیک کا نشانہ بن چکے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس کے مطابق کراچی میں شدید لوڈ شیڈنگ پر نہ صرف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں بلکہ جہانگیر روڈ، پٹیل پاڑہ کا رہائشی نوکری پیشہ شخص تاج محمد کو لوڈ شیڈنگ کے باعث رات تین بجے دل کا دورہ پڑا، جس سے وہ انتقال کر گیا جو اپنے گھر کا واحد کفیل تھا اور کرائے کے گھر میں رہتا تھا۔ مگر حکومت نے بےحس ہو کر کل پھر بجلی بم گرا دیا ہے ۔ میں بتاوں یہ ایک لاوا پک رہا ہے ۔ اور آتش فشاں کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے ۔ اس وقت عوام کو سمجھ نہیں آرہی ہے کہ احتجاج کہاں اور کس کے خلاف کرنا ہے ۔ ابھی تو صرف بجلی دفاتر کے باہر ہی دھاوے بولے جا رہے ہیں لائن مین سمیت ایس ڈی اوز کو مارا جا رہا ہے ۔ پر یو نہی اگر اشرفیہ عوام کا معاشی قتل کرتی رہی تو کچھ بعید نہیں کہ سری لنکا یا حالیہ کینیا جیسے احتجاج پاکستان میں بھی ہوجائیں ۔ کیونکہ صورتحال یہ ہے کہ بجلی کا فی یونٹ بنیادی ٹیرف اڑتالیس روپے چوراسی پیسے مقرر کیا گیا ہے اس میں اٹھارہ فیصد سیلز ٹیکس ڈالیں تو ستاون روپے اور ایڈجسمنٹ کے بعد فی یونٹ پنسٹھ روپے کا ہو جائے گا ۔ اب اتنی مہنگی بجلی سے اشرافیہ تو کوئی فرق نہیں پڑنا کیونکہ ان کی بجلی، گیس، پیٹرول ،علاج ،گھومنے پھرنے کے تمام خرچے توعوام کی جیبوں سے نکالے ٹیکسوں سے ادا کیے جاتے ہین ۔ پر عوام نے اب یا تومر جانا ہے یا پھر اپنا رخ اس اشرافیہ کر طرف کر لینا ہے ۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے تو دنیا بھر کے ممالک کی اشرافیہ بےرحم ہوتی ہے۔ مگر پاکستانی اشرافیہ گمینگی کے کسی اعلی ترین درجے پر فائز ہے ۔ اب تو میرے جیسوں کے گھر بھی اے سی چلتا ہے تو پسینہ خشک ہونے کے بجائے مزید پسینہ آنا شروع ہو جاتا ہے ساتھ ہی دل کی ڈھرکنیں تیز ہوجاتی ہیں ۔ پھر ملک کے غریبوں کی خبریں تو میڈیا پر آتی ہی نہیں مگر اداکارہ نشو بیگم بھی اپنے بجلی کے بل پر سخت سیخ پا ہیں جن کا ایک ماہ کا ایک لاکھ روپے کا بجلی بل آیا ہے۔ مشہور اداکار راشد محمود نے تو اپنا بجلی کا بل دیکھ کر اللہ سے موت مانگ لی ہے اور کہا ہے کہ اگر حکمران ہمیں کچھ نہیں دے سکتے تو ہم سے ہماری زندگیاں کیوں چھین رہے ہیں۔ سوچیں بجلی بلوں کے باعث یہ مشہور لوگ بھی بلبلا اٹھے ہیں اور کروڑوں غریب جن کی میڈیا میں خبریں نہیں آتیں ان کا کیا حال ہے۔ سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔اسی لیے تو میں میڈیا پر حیران ہوں کہ سب کے سب فلاسفر بنے ہوئے ہیں ۔ سیاست کی ماں بہن ایک کر رہے ہیں حالانکہ اصل ایشو یہ ہے ۔ کہ اس پر بات کی جائے حکومت سمیت آئی پی پیز اور وزیر خزانہ کو آڑے ہاتھوں لیا جائے ۔ ان کے کپڑے اتارے جائیں ۔ رپورٹرز سمیت اینکرز کو چوکوں چوراہوں میں جا کر عوام کے دکھ ، درد اور تکالیف کو اقتدار کی کرسی پر بیٹھے لوگوں تک پہنچنا چاہیئے ۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میرا دل خون کے آنسو روتا ہے جب کل میں نے بھارت کی سٹرکوں پر ورلڈ کپ جیتنے پر جشن اور پاکستان میں عوام کو پیڑول پمپوں کے باہر لائنوں میں لگے دھکے کھاتےدیکھا ہے ۔ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے بڑے آرام سے کہہ دیا کہ حکومت نے پٹرولیم لیوی ابھی نہیں لگائی، مطلب لگائی ضرور جائے گی۔ لیوی نہ لگانے کے باوجود حکومت نے یکم جولائی سے مہنگائی کے ستائے عوام پر پٹرول بم گرانے سے گریز نہیں کیا اور پٹرول ساڑھے سات روپے، ڈیزل ساڑھے نو روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں دس روپے اضافہ کر دیا ہے۔ آپ دیکھیں وزیر خزانہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ نئے ٹیکسوں سے لوگ دباؤ میں ہیں۔ پر کرتے کچھ نہیں ہیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب کو چاہیئے کہ قوم کو بتائیں کہ وہ جس شدت کے ساتھ ٹیکس لینے کی بات کر رہے ہیں اس کے جواب میں ٹیکس ادا کرنے والوں کو کیا دے رہے ہیں، کیا وزیر خزانہ قوم کو بتائیں گے کہ مخصوص شعبوں کو ٹیکس میں رعایت دینے سے خزانے پر بڑھنے والا بوجھ کون اٹھائے گا۔ کیا وزیر خزانہ قوم کو بتا سکتے ہیں کہ حکومت نے اپنے اخراجات کم کیوں نہیں کیے، کیوں اربوں کے فنڈز اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو جاری ہوں گے، کیا خون پسینے کی کمائی ٹیکس میں اس لیے جمع کروائی جائے گی کہ وفاقی و صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی اپنا سیاسی مستقبل محفوظ بنا سکیں۔ کیا یہ تنخواہ دار طبقے پر حکومتی ظلم نہیں ہے۔ جو ٹیکس دیتا نہیں حکومت میں اس سے ٹیکس لینے کی طاقت نہیں اور جو ٹیکس دیتے ہیں ان پر مزید بوجھ کے سوا حکومت کے پاس کوئی پلان نہیں تو پھر یہ نظام حکومت کس کام کا ہے، کیا یہ عوام کے لیے ہے یا پھر یہ مخصوص طبقے کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ہے ۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھاکہ حقیقت میں لوگ ٹیکسوں کے بھاری بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور حکومت ان پر ٹیکسوں کا مزید دباؤ بڑھاتی جا رہی ہے۔ دیگر حکومتی ٹیکسوں کے برعکس بجلی کے بلوں پر ہی تیرہ چودہ ٹیکس حکومت پہلے ہی وصول کر رہی ہے۔ حکومت کے ادارے بجلی عوام کو فروخت کر کے بھاری منافع کما رہے ہیں۔ اس لیے ڈرنا چاہے اس وقت سے جب خیبر سے گوادر تک پاکستان کے بیشتر شہروں میں مختلف مقامات پر بجلی متاثرین ٹولیوں کی صورت میں جمع ہونا شروع ہوں گے ۔ پھر پولیس کے بس میں بھی ان ٹولیوں کو روکنا ممکن نہیں ہوگا ۔ عام آدمی ٹیکس دیتا رہے ، حکمران اور سرکاری افسران مراعات لیتے رہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ عام آدمی دھکے کھاتا رہے اور حکمران طبقہ مزے کرتا رہے۔ اب بجٹ میں جو ظلم ڈھایا جا رہا ہے کیا ملک کے کروڑوں لوگ اس بوجھ کو اٹھانے کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ یقینا یہ ایک بہت مشکل کام ہے۔ لوگ ذہنی مریض بن رہے ہیں۔ بجلی کے بلوں نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔اگر حکومتی اخراجات، مراعات پر بات کی جائے تو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا بیان حکمرانوں کو آئینہ دکھانے کے لیے کافی ہے۔ کہ حکومت کو عوام پر ٹیکس لگانے کے بجائے اپنے اخراجات کم کرنے چاہییں۔ قرضہ لیکر پانچ سو ارب روپے ایم این اے اور ایم پی ایز کو بانٹا جائیگا جو ماضی میں بھی غلط تھا، ان پیسوں میں سے ایک تہائی کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے۔ ڈیزل اور ایل پی جی کی اسمگلنگ روک کر ٹیکس جمع کریں تو کوئی اور ٹیکس لینے کی ضرورت نا پڑے، ملک میں ایک طبقہ ہے جس کی آدھی آمدن حکومت لے جائے گی، ایسا دنیا میں وہاں ہوتا ہے جہاں پیدائش سے لیکر مرنے تک کی انسان کی تمام بنیادی ذمہ داریاں حکومت لیتی ہے۔

موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

"بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

ممتاز حیدر
ممتاز حیدرhttp://www.baaghitv.com
ممتاز حیدر اعوان ،2007 سے مختلف میڈیا اداروں سے وابستہ رہے ہیں، پرنٹ میڈیا میں رپورٹنگ سے لے کر نیوز ڈیسک، ایڈیٹوریل،میگزین سیکشن میں کام کر چکے ہیں، آجکل باغی ٹی وی کے ساتھ بطور ایڈیٹر کام کر رہے ہیں Follow @MumtaazAwan