اسلام آباد: اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہو گیا ہے، اجلاس دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا.

پیپلز پارٹی نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا، بلاول زرداری نے اجلاس میں شرکت نہیں کی اور پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں شرکت کے بعد روانہ ہو گئے،اسحاق ڈار بلاول کو منانے گئے تا ہم بلاول نہ مانے،تاہم اسحاق ڈار خورشید شاہ اور نوید قمر کو ایوان میں لے آئے.وزیراعظم شہباز شریف بھی اجلاس میں پہنچ گئے.تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی ایوان میں پہنچ گئے، پی ٹی آئی اراکین اسمبلی نے عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی. اراکین نے عمران خان کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں،اور عمران خان کی رہائی کے لئے نعرے لگا رہے تھے،

آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید کم ہونے کا امکان ہے،وزیر خزانہ
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ مئی میں مہنگائی کم ہو کر 12 فیصد تک آ گئی ، اشیائے خورونوش اب عوام کی پہنچ میں ہیں،آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید کم ہونے کا امکان ہے، درپیش چینلجز کے باوجود یہ معمولی کامیابی نہیں،

پاکستان جلد ہی پائیدار ترقی کی جانب لوٹ آئے گا ،وزیر خزانہ
اپوزیشن اراکین نے وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کی کاپیاں پھاڑ دیں.قومی اسمبلی اجلاس میں پیپلز پارٹی کے صرف چار اراکین شریک ہیں،سید غلام مصطفی شاہ، سید خورشید شاہ، سید نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی اجلاس میں شریک ہیں،وزیر خزانہ محمداورنگزیب کا کہنا تھا کہ معیشت بہتر ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاری ہو رہی ہے ،ماضی میں ریاست پر غیر ضروری ذمہ داریوں کا بوجھ دالا گیا ، غیر ضروری ذمہ داریوں کی وجہ سے حکومتی اخراجات ناقابل برداشت ہوگئے ،ملک بحران کی صورتحال سے نکل چکا ہے، دیر پا ترقی کے سفر کا آغاز ہوچکا ہے پاکستان جلد ہی پائیدار ترقی کی جانب لوٹ آئے گا ،ہمیں ٹارگٹڈ سبسڈی کے ذریعے عوامی ریلیف پر توجہ دینا ہوگی،بہتر حکمت عملی کے تحت مہنگائی میں خاطر خواہ کمی ہوئی، بد قسمتی سے پاکستان ٹیکس نظام میں دوسرے ممالک سے پیچھے ہے، وزیر اعظم کی ہدایت ہے ٹیکس نیٹ میں موجود لوگوں پر بوجھ نہ ڈالا جائے،کفالت پروگرام کے تحت مستفید افراد کی تعداد ایک کروڑ کی جائے گی آبی وسائل کیلئے 206 ارب مختص کئے گئے ہیں،کراچی میں آئی ٹی پارک کیلئے 8 ارب روپے فراہم کریں گے ،حکومتی آمدن کو بڑھائیں گے اور اخراجات میں کمی کرینگے ،پی آئی ایس پی میں مزید 5 لاکھ خاندانوں کو شامل کیا جائے گا ،بجلی چوری کی روک تھام سے 50 ارب روپے کی بچت ہوگی، پی آئی اے کی نجکاری کو تیز تر بنایا جائے گا،

ماہانہ اجرت 36 ہزار، دفاع کیلئے2 ہزار 122 ارب مختص،ترقیاتی منصوبوں کیلئے 1500 ارب تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ
کم از کم ماہانہ اجرت 32 ہزار سے بڑھا کر 36 ہزار کردی آئندہ مالی سال مہنگائی میں اضافے کی شرح کا ہدف 12 فیصد رکھا گیا ،9 ہزار 775 ارب روپے سود کی ادائیگی ہوگی ،دفاع کیلئے 2 ہزار 122 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ،وفاق کے مجموعی اخراجات 18 ہزار 270 ارب روپے ہوں گے ،پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کیلئے 1500 ارب رکھے ہیں ،ترقیاتی منصوبوں کیلئے 1500 ارب تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ ہے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کیلئے 839 ارب روپے رکھے ہیں ،آزاد کشمیر ، جی بی، ضم اضلاع اور دیگر کیلئے 1777 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،الیکٹرانک بائیکس کیلئے 4 ارب ، انواٹر پنکھوں کیلئے 2 ارب روپے مختص کئے گے ہیں،50 ہزار ڈالر مالیت کی درآمدی گاڑی پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،نئے پلاٹوں،رہائشی اور کمرشل پراپرٹی پر پانچ فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے،فائلرز اور نان فائلرز پر ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجویز ہے ،فائلرز کیلئے شرح 15 فیصد اور نان فائلرز کیلئے 45 فیصد ٹیکس کی تجویز ہے.

توانائی کے شعبے میں ڈسٹری بیوشن اورپرفارمنس منیجمنٹ سسٹم کےلئے65ارب روپے مختص
وفاقی وزیر خزانہ محمد اونگزیب نے بجٹ اجلاس سے خطاب میں مزید کہا کہ 9بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا منصوبہ ہے، توانائی کے شعبے میں ڈسٹری بیوشن اورپرفارمنس منیجمنٹ سسٹم کےلئے65ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،جامشورو کول پاور پلانٹ کے لئے 21ارب اور این ٹی ڈی سی کی بہتری کےلئے 11ارب روپے،
آبی وسائل کے لئے206ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں،مہمند ڈیم ہائیڈروپاور پراجیکٹ کےلئے 45ارب روپے ،دیامر بھاشا ڈیم کے لئے 40ارب روپے ، چشمہ رائٹ بینک کینال کے لئے 18ارب روپے ،بلوچستان میں پٹ فیڈر کینال کےلئے 10ارب روپے ،کراچی میں آئی پارک کے قیام کےلئے 8ارب روپے ،ٹیکنالوجی پارک اسلام آباد منصوبے کے لئے 11ارب روپے، ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کے لئے 20ارب روپے مختص ہونگے،

نان کسٹم پیڈ سگریٹ بیچنے پر دکان سیل ہو گی،بجٹ دستاویزات
موبائل فون پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے،ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات مہنگی ہوں گی ،سیلز ٹیکس پندرہ سے بڑھا کر اٹھارہ فیصد کر دیا گیا،تانبے، کوئلے، کاغذ اور پلاسٹک کے اسکریپ پر سیلز ٹیکس نافذ کیا گیا ہے، نان کسٹم پیڈ سگریٹ بیچنے پر دکان سیل ہو گی،فاٹا اور پاٹا کیلئے دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،سگریٹ فلٹر میں استعمال ہونے خام مال پر چوالیس ہزار روپے فی کلو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگے گی،ٹیکس سٹیمپ کے بغیر سگریٹ بیچنے والے ریٹیلز پر سخت سزاؤں کی تجویز دی گئی،

پنشن اخراجات کیلئے 1014 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے،سولر پینل، انورٹرز اور بیٹریوں کی تیاری میں استعمال خام مال کی درآمد پر رعایت دینے کی تجویز دی گئی،آئرن اور سٹیل سکریپ پر سیلز ٹیکس سے چھوٹ کی تجویز دی گئی،گریڈ ایک یا 16 تک تمام خالی اسامیاں ختم کرنے کی تجویز 45 ارب روپے سالانہ بچت ہوگی

مالی سال 25-2024 کے لیے اقتصادی ترقی کی شرح3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے. افراط زر کی اوسط شرح 12 فیصد متوقع ہے،بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6.9 فیصد جبکہ پرائمری سر پلیس جی ڈی پی کا ایک فیصد ہوگا، ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ 12 ہزار 970 ارب روپے ہے.وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,877 ارب روپے ہے، صوبوں کا حصہ سات ہزار چار سو اڑ تیسں (7.438) ارب روپے ہو گا،وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف تین ہزار پانچ سوستاسی (3,587) ارب روپے ہو گا.وفاقی حکومت کی خالص آمدنی نو ہزار ایک سو انیس (9,119) ارب روپے ہو گی،

بجٹ اجلاس، نواز شریف، بلاول، مولانا فضل الرحمان،اختر مینگل شریک نہ ہوئے
بجٹ اجلاس سے اہم ترین سیاستدان اور سینئر ارکان غائب رہے،بجٹ اجلاس سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف غیر حاضر رہے، بلاول بھٹو زرداری بھی بجٹ اجلاس میں شریک نہ ہوئے ،بی این پی مینگل کے سربراہ اختر جان مینگل بھی بجٹ اجلاس سے لا تعلق، شریک نہ ہوئے ،سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان بھی بجٹ اجلاس میں شرکت کیلئے نہ آئے

وفاقی بجٹ ،قومی اسمبلی سیکورٹی کے سخت انتظامات،ہنگامہ آرائی کا خدشہ

آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

Shares: