سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

0
2080

اگر آپ کا بچہ سنتا ہے، بولتا نہیں ہے تو گھبرائیے مت، اللہ پر امید رکھیں، دعا کریں، بچے کے ٹیسٹ کروائیں، اور کوکلیئر امپلانٹ کروا لیں، جس سے بچہ نہ صرف سننے لگے گا بلکہ بولنے بھی لگے گا اور عام بچوں کی طرح زندگی بسر کرے گا

سماعت کا نہ ہونا، ایک معذوری، والدین پریشان ہو جاتے ہیں، چند برس تک اس کا کوئی علاج نہیں تھا، اب سائنس نے ترقی کی تو سماعت کے نہ ہونے کا ایسا علاج آ گیا جو مہنگا تو ہے تا ہم کامیاب ترین علاج ہے،پاکستان میں سینکڑوں بچے علاج کروا چکے اور اب نارمل زندگی گزار رہے ہیں،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، لاہور، کراچی میں ایسے کئی ہسپتال ہیں جہاں آپریشن کیا جاتا ہے اور اس کے بعد بچوں کی زندگی نارمل ہو جاتی

سماعت سے محروم بچوں کا علاج کیسے؟
سماعت سے محروم بچوں کے علاج کو "کوکلیر امپلانٹ” کہتے ہیں، اگر کسی بچے کی سماعت نہیں ہے تو سب سے پہلے اس کو آلہ سماعت کم از کم تین ماہ تک باقاعدگی سے لگوائے جاتے ہیں، آلہ سماعت سے بچہ نہ سنے تو پھر ڈاکٹر کوکلیر امپلانٹ کا کہتے ہیں، کوکلیر امپلانٹ ایک ایسا آپریشن ہے جس میں بچے کے سر میں کان کے پیچھے ایک ڈیوائس لگائی جاتی ہے، ایک ڈیوائس اس کے اوپر، یعنی باہر والی طرف لگائی جاتی ہے، اس آپریشن کے بعد بچہ سننے لگ جاتا ہے، کوکلیر امپلانٹ کاپاکستان میں خرچہ لاکھوں میں ہے، بلکہ اس وقت 25 سے تیس لاکھ ایک اندازے کے مطابق ایک آپریشن کا خرچ آتا ہے کیونکہ اس آپریشن کے دوران جو ڈیوائس بچے کو لگائی جاتی ہے وہ کافی مہنگی ہے.

کوکلیر امپلانٹ
سماعت کے قابل بنانے والے آلے کوکلیئر امپلانٹ کے ذریعے سماعت سے محروم بچے ہر آواز سے روشناس ہو سکتے ہیں اور ایسے بچے جو دونوں کانوں سے سن نہیں سکتے اور ہئیرنگ ایڈز بھی ان کے لیے مؤثر نہیں ہوتے وہ کوکلیئر امپلانٹ کی بدولت نارمل زندگی گزار سکتے ہیں،کوکلیئر امپلانٹ جدید آلہ ہے اور اگر کوئی بالکل بہرا بھی ہو جائے تو اس کی مدد سے وہ سن سکتا ہے، یہ کان کے اندر لگتا ہے اور ایک پیچیدہ آپریشن کے زریعے بچے کو سماعت کے قابل بنایا جاتا ہے۔ یہ آلہ صرف امریکہ، اسٹریلیا اور آسٹریا ہی بنا رہے ہیں

سپیچ تھراپی
کوکلیر امپلانٹ آپریشن کے بعد بچے کو سپیچ تھراپسٹ سے سپیچ کروانا پڑتی ہے، سپیچ کے بعد بچہ سننے اور پھر بولنے لگ جاتا ہے، کوکلیر امپلانٹ آپریشن کےبعد سپیچ تھراپی بہت ضروری ہے، اگر آپریشن کے بعد سپیچ نہ کروائی گئی تو یوں سمجھیں آپریشن کا مقصد فوت ہو گیا، سپیچ تھراپی کے ساتھ ساتھ بچے کو والدین کی توجہ کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے، والدین کو بھی چاہئے کہ آپریشن کے بعد بچے سے زیادہ سے زیادہ باتیں کریں.

بچے کی عمر 5 برس سے کم
کوکلیر امپلانٹ، پانچ برس سے کم عمر بچوں کا ہوتا ہے، اگر بچے کی عمر زیادہ ہو جائے تو ڈاکٹر آپریشن نہیں کرتے، اسلام آباد کے سی ڈی اے ہسپتال میں سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کرنیوالے ڈاکٹر جواد احمد کا کہنا ہے کہ ” پانچ سال سے بچے کی عمر زیادہ ہو جائے تو آپریشن کامیاب نہیں ہوتا، اس صورت میں زیادہ عمر کے افراد کا آپریشن ہو سکتا ہے اگر سماعت پیدائشی طور پر ہو بعد میں بیماری یا حادثے کی صورت میں سماعت ختم ہوئی ہو”

بحریہ ٹاؤن نے بھی لاہور کے ہسپتال میں کوکلیر امپلانٹ شروع کئے تھے جو پہلے مفت کئے گئے، پھر والدین سے بھی قیمت وصول کرنا شروع کر دی گئی،اب اگر والدین قیمتا علاج کروانا چاہتے ہیں تو بحریہ ٹاؤن لاہور ہسپتال میں ہو سکتا ہے،

اسلام آباد کے سی ڈی اے ہسپتال میں بھی کوکلیر امپلانٹ کا آپریشن کیا جاتا ہے، ڈاکٹر جواد احمد ایسے بچوں کا آپریشن کرتے ہیں، سی ڈی اے میں حکومت پاکستان کے تعاون سے سینکڑوں بچوں کے کامیاب آپریشن کیے جا چکے ہیں، نواز شریف کے سابقہ دور حکومت میں سماعت سے محروم بچوں کے لئے حکومت نے فنڈ دینا شروع کیا تھاجو ڈائریکٹ وزیراعظم ہاؤس سے منظور ہوتا تھا تا ہم عمران خان کی حکومت آنے کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے فنڈز ختم کر دیئے گئے اور یہ پروجیکٹ بیت المال منتقل کر دیا گیا، بیت المال کے تعاون سے آپریشن اب بھی جاری ہیں تا ہم اسکے لئے کافی تگ و د و کرنی پڑتی ہے کیونکہ بچے زیادہ ہیں، اور پیسے کم ہیں.

لاہور میں گلبر گ میں ڈاکٹر ندیم مختار بھی سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن کرتے ہیں، ڈاکٹر ندیم مختار کا کلینگ گلبرگ میں حجاز ہسپتال کے سامنے ہے، قیمتا والدین یہاں سے بھی بچوں کا آپریشن کروا سکتے ہیں.

لاہور کے گھرکی ہسپتال، چلڈرن ہسپتال سے بھی سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن کروایا جا سکتا ہے

کراچی سے آغا خان ہسپتال، انڈس ہسپتال سے سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن کروایا جا سکتا ہے،

پاک فوج بھی سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن کر رہی ہے، اگر بچے کے والدین فورسز میں ہیں تو انہیں اپنے بچے کا پاک فوج کے ہسپتال سے ہی آپریشن کروایا جانا چاہئے جو پنڈی سے ہوتا ہے،پاک فوج کے ہسپتال میں پہلا کوکلیر ایمپلانٹ ایک سپاہی کو 2017 میں نصب کیا گیا تھا اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر اس اہم طبی سہولت کا دائرہ پیدائشی طور پر سماعت سے محروم بچوں تک بڑھایا گیا اس موقع پر لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے کہا کہ 200 واں کامیاب کوکلیر ایمپلانٹ آرمی میڈیکل کور کی زبردست کارکردگی ہے،

سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کرنیوالے ڈاکٹرجواد احمد نے خبر رساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے ہسپتال پاکستان بھر کا وہ پہلا سرکاری ہسپتال ہے جس میں مستحق افراد کے لیے یہ انتہائی مہنگی سرجری بالکل مفت کی جا رہی ہے، کیپیٹل اسپتال میں آڈیٹری امپلانٹ کا شعبہ 2016 میں قائم ہوا تھا اور اس میں اب تک سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا آپریشن کیا جا چکا ہے،

ڈاکٹر جواد احمد

ڈاکٹر جواد احمد

کوکلیر امپلانٹ، جو کہ مہنگا ترین علاج ہے کے لئے، حکومت کی جانب سے یہ سہولت وفاقی ملازمین یا نادار افراد کے لیے فراہم کی جا رہی ہے جس کے لیے سرجن، ای این ٹی اسپیشلسٹ، سپیچ تھیرپسٹس اور آڈیولوجسٹس پر مشتمل ایک ٹیم مریض کا معائنہ اور ٹیسٹ کرتی ہے جس کے بعد اس کی سرجری کی جاتی ہے،ڈاکٹر جواد نے بتایا کہ پیدائش کے بعد دو سال تک بچے کے دماغ میں اسپیچ سینٹر تیار ہو جاتا ہے اگر بچہ سن نہیں رہا تو اس کا اسپیچ سنٹر تیار نہیں ہو گا، جس کے بعد وہ پوری زندگی نہ تو سن سکے گا اور نہ ہی بول سکے گا، اس لیے پہلے دو سال میں یہ تشخیص کرنا بہت ضروری ہوتا ہے کہ آیا بچہ سن رہا ہے یا نہیں۔

سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کرنے والے ڈاکٹر جواد احمد کیا کہتے ہیں؟
ڈاکٹر جواد احمدنے بتایا کہ” بہرے پن کے مریضوں کو تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے، ایک تو وہ جو پیدائشی طور پر سماعت سے محروم ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی بھی نہ تو سنا ہوتا ہے اور نہ ہی وہ بول سکتے ہیں اگر ایک سے تین سال کی عمر تک یہ تشخیص ہو جائے کہ بچہ سن نہیں رہا اور اس کے سننے کا نظام کام نہیں کر رہا تو اس کے اندرونی کان میں سرجری کے ذریعے کاکلیہ یا وہ الیکٹرانک آلہ امپلانٹ کر دیا جاتا ہے جو کان کے اندرونی پردے سے آواز کو دماغ کے سمعی مرکز تک پہنچاتا ہے، اس کی مدد سے سماعت سے مستقل طور پر محروم افراد سننے کے قابل ہو جاتے ہیں،دوسری قسم ان افراد کی ہے جو پیدائشی طور پر سن تو نہیں سکتے لیکن وہ والدین یا سپیچ تھیرپسٹس کی مدد سے آوازیں نکالنا سیکھ جاتے ہیں، انہیں عام طور پر پندرہ سال سے قبل سرجری کے ذریعے ٹھیک کیا جا سکتا ہے،تیسرے گروپ میں وہ افراد آتے ہیں جو نارمل پیدا ہوتے ہیں اور ٹھیک طرح بول اور سن سکتے ہیں، لیکن کسی وجہ سے ان کی سماعت چلی جاتی ہے ایسے لوگوں کو بھی سرجری کے ذریعے دوبارہ سننے کے قابل بنایا جا سکتا ہے اور اس میں عمر کی کوئی حد نہیں ہوتی، کسی بھی عمر کے مریض کی یہ سر جری کی جا سکتی ہے،وہ ہر عمر کے مریضوں کی سرجری کر چکے ہیں لیکن سرجری کے لیے بہترین عمر تین سال ہوتی ہے”

سرکاری سطح پر سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن کب شروع ہوا
حکومت پاکستان کی جانب سے کوکلیر امپلانٹ کیسے شروع کیا گیا تھا؟ یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے،گیارہ جنوری2017ء کو اسلام آباد کے سکولوں کو بسیں فراہم کرنے کی تقریب تھی، تقریب میں اسوقت کے وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز بھی موجود تھے، تقریب میں ایک بچی بھی تھی جس کا نام ندا خان تھا،بچی نواز شریف کو ملی، مریم نواز نے بھی بچی کو اٹھایا ،پیار کیا،انکو بتایا گیا کہ بچی سن نہیں سکتی جس پر نواز شریف نے کہا کہ اس کا علاج میں کرواؤں گا، نواز شریف کے ہی حکم پر اس بچی ندا کا اسلام آباد کے سی ڈی اے ہسپتال میں آپریشن کیا گیا جو کامیاب ہوا،بچی کا تعلق مردان سے تھا، کامیاب آپریشن کے بعد نواز شریف نے وزیراعظم ہاؤس میں بچی ندا خان ،اسکے والدین اور آپریشن کرنیوالے ڈاکٹر جواد احمد سے ملاقات کی تھی

nida khan

بیت المال سے سماعت سے محروم بچوں کے آپریشن
نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد 2018 میں تحریک انصاف کی حکومت آئی، تحریک انصاف کی حکومت نے کوکلیر امپلانٹ کے فنڈز وزیراعظم ہاؤس سے بند کر دیئے اور بیت المال منتقل کر دیئے، جس کے بعد 22 نومبر 2019 کو بیت المال کے تعاون سے تحریک انصاف کی حکومت میں سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن ہوا.ملتان کے رہائشی 3 سالہ عبداللہ جان اور اسلام آباد کی رہائشی 3 سالہ کشف عمران کو پاکستان بیت المال کی جانب سے کاکلئیر امپلانٹ فراہم کردیئے گئے۔دونوں بچوں کا آپریشن سی ڈی اے ہسپتال میں کیا گیا جس کا مکمل خرچ پاکستان بیت المال نے برداشت کیا۔ اس وقت کے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے بچے کے کان میں اذان دے کر کوکلئیر امپلانٹ کا افتتاح کیا۔ 3 سالہ عبداللہ جان اور کشف عمران نے جو اپنی زندگی میں پہلی آواز سنی وہ آذان کی آواز تھی۔

 cochlear implants of two children

اب بھی بیت المال کے تعاون سے نادار افراد کے بچوں کے آپریشن ہو رہے ہیں تا ہم ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس کے لئے الگ سے فنڈ مختص کرے، کیونکہ بیت المال کے فنڈز کا انتظا ر کرتے کرتے بچوں کی عمر پانچ برس سے زیادہ ہو جاتی ہے

مخیر حضرات کو بھی چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں آگے بڑھیں، سماعت سے محروم بچوں کی سماعت کی بحالی کے لئے کردار ادا کریں،

نوٹ، اگر اس ضمن میں کوئی رائے، تجاویز ہو ں تو 03349755107 پر واٹس ایپ نمبر پر پیغام بھیجا جا سکتا ہے

ریاست مدینہ کی جانب حکومت کا پہلا قدم،غریب عوام کی دعائیں، علی محمد خان نے دی اذان

وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

Leave a reply