fbpx

بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے تحریر: محمد جمیل

اکثر لوگ یہ اعتراض اور سوال کرتے ہیں کہ اگر معیشت درست سمت پر گامزن ھے اور ملک کی معیشت ترقی کر رہی ھے تو پھر مہنگائی اتنی زیادہ کیوں ھے اور اس ترقی کا فائدہ عوام تک کیوں نہیں پہنچایا جا رہا.
ان دونوں سوالوں کا بہت آسان جواب ھے
مثال کے طور پر آپ کا گھر 10 لاکھ روپے کا مقروض ھے
اور آپ ہر مہینے قرضوں کی قسطیں دے رہے ھو آپ کے گھر کا خرچہ 1 لاکھ روپے ماہانہ ھے اور آپ کی آمدنی 50 ہزار ھے تو آپ ان حالات کو کیسے ٹھیک کریں گے؟؟
پہلے آپ اپنے خرچے کم کریں گے جتنے فالتو اخراجات ھیں اس کو ختم کریں گے پھر آپ اپنی آمدنی بڑھائیں گے مطلب آپ روزانہ 8 گھنٹے کام کرتے ہیں جس کے آپ کو پچاس ہزار روپے ملتے ہیں تو آپ اپنے کام کا دورانیہ 12 سے 14 گھنٹے کریں گے.
جب آپ اخراجات کم کریں گے اور کام بڑھائیں گے تو آپ کا خسارہ کم ھو جائے گا اور کچھ وقت اسی محنت کو جاری رکھیں گے تو آپ کے اخراجات سے آمدن زیادہ ھونی شروع ھو جائے گی
مگر حالات پھر بھی تبدیل نہیں ھونگے کیونکہ آپ کے اوپر جو دس لاکھ کا قرضہ ھے وہ بھی آپ کو واپس کرنا ھے لہذا اب آپ کے پاس جو زیادہ آمدن آتا ھے وہ آپ ان قرضوں کی ادائیگی میں خرچ کریں گے اور آپ کی حالت وہی سخت ھونگے آپ کی زندگی تکلیف دہ ھونگی
مگر جیسے ہی آہستہ آہستہ آپ کا قرضہ کم ھوتا جائے گا آپ کی قسطیں کم ھوتی جائیں گی آپ کے حالات پر فرق پڑنا شروع ھو جائے گا
یہی حالت آج کل پاکستان کی ھے الحمداللہ اخراجات کم ھو گئے ہیں آمدن میں اضافہ ھونے لگا ھے کچھ قرضے دئے جا چکے ہیں اور کچھ ضروری قرضے دینے باقی ھے جو ان شاءاللہ ایک سال تک دے دئے جائیں گے اور پھر جو آمدن بچت ھو گی وہ حکومت عوام پر خرچ کرے گی اور مہنگائی میں کافی حد تک کمی آجائے گی.
دوستوں اس وقت ھم ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہیں .
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو 3 سال مکمل ہو چکے ہیں وزیراعظم عمران خان صاحب نے 2018 میں اقتدار سمبھالنے سے لےکر اب تک بہت ہی کامیابیوں کے دعوے کئے ہیں. لیکن حقیقت یہ ہےکہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں مہنگائی کئی گناہ بڑھ چکی ہے.
گزشتہ 3 سالوں میں چینی 55 سے 130 روپے, آٹا 45 سے 80 روپے, دودھ 80 سے 140 روپے اور گھی 140 سے بڑھ کر 350 روپے ہو چکا ہے. جبکہ سبزیاں, دالیں, اور باقی خوردنی اشیاء بھی عوام کی قوت سے نکل چکی ہیں. اسی طرح پیٹرولیم مصنوعات, گیس اور بجلی کی قیمتوں کافی اضافہ ہوا ہے
اگر ڈالر کی بات کی جائے تو جب تحریک انصاف نے اس ملک کی بھاگ دوڑ سمبھالی اس وقت ڈالر 124 روپے تھا لیکن اس وقت ڈالر 168 روپے تک جا پہنچا ہے
بھوک افلاس اور تنگدستی ایسی پُر درد حقیقت ہے جس کے سامنے عزت نفس، انسانیت اور نام نہاد نظریات ہتھیار ڈال دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں
مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا ہے
ایک سروے کے مطابق تحریک انصاف کی 3 سالہ حکومتی کارکردگی سے 48 فیصد پاکستانی خوش جبکہ 45 فیصد ناراض ہیں.
جس تیزی سے پاکستان کی معیشت اوپر جا رہی ھے ان شاءاللہ اگلے سال تک پاکستان اس قابل ھو جائے گے کہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کر سکے گا
بس ھمیں تھوڑا صبر کرنا ھوگا
یاد رہے مظبوط اعصاب کے لوگ ہی مشکلات سے نکل آتے ہیں عظیم اقوام کی نشانی یہی ھے کہ وہ مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کریں.

Twitter Handle: @RealJameel8