ضمنی انتخابات پولنگ ختم ،گنتی جاری:پی ٹی آئی 8 پرآگے3 پرپیچھے پیچھے

0
37

لاہور:ضمنی انتخابات پولنگ ختم ،گنتی جاری:ابتدائی نتائج :پی ٹی آئی کا پلڑہ بھاری،اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا ، سندھ اور پنجاب میں قومی اسمبلی کی 8 اور صوبائی اسمبلی کی 3 نشستوں پر ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا ہے اور گنتی جاری ہے

اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق پی ٹی آئی 8 سیٹوں پر آگے آگے جبکہ تین سیٹوں پر پیچھے پیچھے جارہی ہے ، جن سیٹوں پر پی ٹی آئی ہار رہی ہےان میں شیخورپورہ کی صوبائی سیٹ ، ملتان سے قومی اسمبلی کی سیٹ اور ایسے ہی کراچی سے قومی اسمبلی کی ایک نشت آخری اطلاعات تک ہار رہی ہے

خیبر پختونخوا ، سندھ اور پنجاب میں قومی اسمبلی کی 8 اور صوبائی اسمبلی کی 3 نشستوں پر ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا۔

قومی اسمبلی کے 8 اور 3 صوبائی حلقوں پر پولنگ کا آغاز صبح 8 سے ہوا جو کہ شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہی۔

قومی اسمبلی کے جن حلقوں پر ضمنی انتخاب ہوا ان میں خیبر پختونخوا کے 3، کراچی کے 2 اور پنجاب کے 3 حلقے شامل ہیں جبکہ تینوں صوبائی نشستیں پنجاب اسمبلی کی ہیں۔

ضمنی انتخابات کے لئے گیارہ حلقوں میں 2 ہزار 937 پولنگ اسٹیشنز اور 9 ہزار 869 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے، 747 پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس اور 694 حساس قرار دیئے گئے۔الیکشن کمیشن نے سیکیورٹی اداروں کے متعلقہ انچارجز کو مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض کئے ہیں۔

پولنگ کے دن سیکیورٹی کے تین حصار رکھے گئے ، پولیس پہلے، رینجرز، ایف سی دوسرے اور فوج تیسرے سیکیورٹی حصار کیلئے موجود رہی۔ پاک فوج، رینجرز اور ایف سی کے ڈیوٹی انچارجز کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات حاصل تھے۔

غیرحتمی غیر سرکاری نتائج

این اے22 مردان: 330 میں سے 16 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق عمران خان 2 ہزار 218 ووٹ لے کر پہلے جبکہ جے یو آئی کے محمد قاسم 2 ہزار 786 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔

این اے 24 چارسدہ: 10پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری نتائج عمران خان 1775ووٹ لے کر آگے جبکہ اے این پی کے ایمل ولی خان 1360ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔

این اے31پشاور: 265 میں سے31 پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق عمران خان 4300ووٹ لے کر پہلے جبکہ اے این پی کے غلام احمد بلور 2571ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔

این اے 108 فیصل آباد: غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق عمران خان 282 ووٹ لے کر پہلے جبکہ عابد شیر علی 206ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔

این اے 118 ننکانہ صاحب: غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق عمران خان 336 ووٹ لیکر پہلے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار ڈاکٹر شذرہ منصب 284ووٹ لیکردوسرے نمبر ہیں۔

این اے157ملتان: 264پولنگ اسٹیشن میں سے 26 کے غیرحتمی نتائج کے مطابق پی پی کے علی موسیٰ گیلانی 6425 لے کر آگے جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوارمہر بانو 5224 لے کر دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔

این اے237 کراچی: غیرسرکاری نتائج کے مطابق پی پی کےحکیم بلوچ 180ووٹ لیکرآگے جبکہ پي ٹی آئی کےعمران خان49ووٹ لیکردوسرے نمبرپر موجود ہیں۔

این اے239 کراچی: 5پولنگ اسٹیشنزکے غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق عمران خان 431 ووٹ لیکر آگے جبکہ ایم کیوایم کے امیدوار 137 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

پی پی 153 شیخوپورہ: 12 پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے چوہدری افتخار 1936 ووٹ لے کر آگے جبکہ پی ٹی آئی کے محمد ابو بکر 1913 لے کر پیچھے ہیں۔

پی پی 168 بہاولنگر: 5 اسٹيشنز کے غير حتمي غير سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی 1106 ووٹ لے کر آگے جبکہ پي ايم ايل اين امیدوار 1074 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔

قومی اسمبلی کے 8 اور 3 صوبائی حلقوں پر پولنگ کا آغاز صبح 8 سے ہوا جو کہ شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہی۔

قومی اسمبلی کے جن حلقوں پر ضمنی انتخاب ہوا ان میں خیبر پختونخوا کے 3، کراچی کے 2 اور پنجاب کے 3 حلقے شامل ہیں جبکہ تینوں صوبائی نشستیں پنجاب اسمبلی کی ہیں۔

ضمنی انتخابات کے لئے گیارہ حلقوں میں 2 ہزار 937 پولنگ اسٹیشنز اور 9 ہزار 869 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے، 747 پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس اور 694 حساس قرار دیئے گئے۔

تمام انتخابی عمل کی نگرانی چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ خود کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی کو قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی، ہنگامہ آرائی یا پولنگ میں مداخلت کرنے پر فوری کارروائی ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے سیکیورٹی اداروں کے متعلقہ انچارجز کو مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض کئے ہیں۔

پولنگ کے دن سیکیورٹی کے تین حصار رکھے گئے ، پولیس پہلے، رینجرز، ایف سی دوسرے اور فوج تیسرے سیکیورٹی حصار کیلئے موجود رہی۔ پاک فوج، رینجرز اور ایف سی کے ڈیوٹی انچارجز کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات حاصل تھے۔

Leave a reply