کینسرکی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت

0
77

لندن: طبی ماہرین نے کینسر جیسے موذی مرض کی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت کر لیا ہے۔

باغی ٹی وی : سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے تحت برطانوی ماہرین نے انسانی ڈی این اے میں موجود ایک جین کو کینسر کی بروقت قدرے بہتر تشخیص اور بہتر علاج کا سب سے مؤثر طریقہ قرار دیا ہے۔

حاملہ خواتین کو اینیستھیزیا دیئے جانے سے بچے کی نشو نما متاثر نہیں ہوتی،تحقیق

ماہرین کے مطابق انسان کو وراثت میں ملنے والے جین میں سے ایک ’اپیجینیٹک‘ (epigenetic) ایسا جین ہے جو مستقبل میں کینسر کی بروقت بہتر تشخیص اور اس کے بہتر علاج میں مدد فراہم کر سکتا ہے-

طبی ماہرین نے اس کے لیے 1300 سے زائد کینسر مریضوں کے ٹیسٹس اور جینز کا جائزہ لیا ہے ماہرین نے ’اپیجینیٹک‘ (epigenetic) میں موجود ایک خاص کیمیکل کو اس حوالے سے گیم چینجر قرار دیا ہے۔

ماہرین نے ’اپیجینیٹک‘ (epigenetic) میں پائے جانے والے کیمیکل کو ڈارک میٹر (Dark matter) کا نام دیا ہے جو مستقبل میں کینسر کی بروقت تشخیص اور اس کے بہتر علاج میں مدد فراہم کر سکتا ہے کیونکہ یہی جین عام طور پر کینسر کا سبب بنتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر کا مرض عام طور پر ڈی این اے کی تبدیلی یا جینز سے نہیں بلکہ ’اپیجینیٹک‘ (epigenetic) نامی جین کی وجہ سے ہوتا ہے۔

ایک اور تحقیق میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ رسولی کے خلیوں کو جلانے والی پٹی جِلد کے سرطان کی سب سے مہلک قسم سے لڑنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاتا ہے

اس پٹی کو مریض کو میلیگنینٹ میلانوما ختم کرنے کے لیے کی جانے والی سرجری کے بعد پہننے کے لیے بنایا گیا ہے۔ میلیگنینٹ میلانوما جِلد کے سرطان کی سب سے خطرناک قسم ہے جو برطانیہ میں 2000 سے زائد افراد کی موت کا سبب بنتی ہے 90 فی صد مریض الٹرا وائلٹ روشنی کی وجہ سے اس بیماری میں مبتلا ہوئے ہیں اور اس تعداد میں اضافہ جاری ہے۔

جب سرجن کینسر زدہ جلد کے حصے کو، جو عموماً مردوں میں پِیٹھ پر اور خواتین میں ٹانگوں پر ہوتا ہے، کاٹ کر نکالتے ہیں وہ اطراف میں موجود صحت مند ٹشو بھی لیتے ہیں تاکہ کہیں رسولی کے خلیے پھیل نہ گئے ہوں ان اضافی ٹشو کی چوڑائی دو سینٹی میٹر تک ہوسکتی ہے، اس بات کا انحصار اس رسولی کے پھیلاؤ پر ہوتا ہے۔ جتنا بڑا ٹیومر ہوگا اتنے امکانات ہوں کہ خلیے رسولی کی جگہ سے آگے گئے ہوں۔

بینائی کے تحفظ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیارکرنی چاہئیں:پروفیسرالفرید ظفر

لیکن صحت مند ٹشو کو نکالنے کے باوجود بھی اس بات کی ضمانت نہیں ہوتی کہ تمام متاثرہ خلیے ختم ہوگئے ہوں۔ کوئی بھی بچا ہوا خلیہ مہینوں یا سالوں بعد دوبارہ کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔ کچھ مطالعوں میں یہ بات سامنے آئی کہ تقریباً 13 فی صد مریضوں میں کینسر زدہ ٹشو نکالے جانے کے دو سال بعد ہی میلانوما دوبارہ پنپ گیا۔

یہ جدید پٹی سرجری کے بعد رہ جانے والے خلیوں کو ختم کر کے ممکنہ طور پردوبارہ کینسر لاحق ہونےکےامکانات کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یہ پٹی فوٹو تھرمل تھیراپی کا استعمال کرتے ہوئے کام کرتی ہے۔ اس طریقہ علاج میں ایک لیزر شعا کو استعمال کرتے ہوئے رسولی کے خلیوں کو اتنا گرم کیا جاتا ہے کہ وہ خود ختم ہوجاتا ہے۔

کینسر زدہ خلیوں کو گرمی سے صحت مند خلیوں کی نسبت زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔ لہٰذا 60 ڈگری سیلسیئس کا درجہ حرارت متاثرہ خلیوں کو صاف کر دیتے ہیں جبکہ صحت مند خلیے اپنی جگہ موجود رہتے ہیں تاہم، اس علاج کو کچھ دنوں یا ہفتوں میں دہرانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

کینسر ریسرچ یو کے میں ریسرچ انفارمیشن منیجر ڈاکٹر رُپال مستری کا کہنا تھا کہ یہ پٹی کینسر کو ختم کرنے کے لیے استعمال کی جاسکے گی لیکن ابھی اس کو مطبی استعمال میں لانے کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔

پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان میں اضافہ و شرح اموات لمحہ فکریہ

Leave a reply