عالمی عدالت انصاف نے کیس نہ سُننے کی اسرائیل کی درخواست مسترد کردی

اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ چلایاجائیگا،عالمی عدالت انصاف
0
110

عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کیخلاف جنوبی افریقہ کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا

عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کی درخواست مسترد کر دی۔ عالمی عدالت انصاف نے فیصلے میں کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر آپریشن کیا،حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے حملہ کیا جس سے متعدد فلسطینی شہید ہوئے ، یہ علم میں ہے کہ غزہ میں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے ، اسرائیلی حملوں میں غزہ میں بڑی تعداد میں انفراسٹرکچر تباہ ہوا،غزہ معاملے پر یو این کے کئی اداروں نے قراردادیں بھی پیش کی ہیں ،جنوبی افریقہ نے الزام لگایا اسرائیل نے جینو سائیڈ کنونشن کی خلاف ورزی کی ، عالمی عدالت یہ معاملہ سننے کا اختیار رکھتی ہے ۔نسل کشی کے خلاف فیصلہ سننا ہمارے دائرہ اختیار میں ہے،عالمی عدالت انصاف کو جنیوا کنونشن کے تحت جینوسائیڈ کیس سننے کا اختیار ہے

عالمی عدالت انصاف نے جنوبی افریقا کی درخواست پر فیصلہ سنایا ،عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کی کیس نہ سننے کی درخواست مسترد کردیعالمی عدالت انصاف نے کہا کہ غزہ تباہی کی داستان بن چکا ہے ، اقوام متحدہ کے مطابق غزہ رہنے کے قابل نہیں رہا ،اسرائیل نے جینوسائیڈ سیکشنز کی خلاف ورزی کے الزامات کی تردید کی ، جنوبی افریقہ نے الزام لگایا اسرائیل نے نسل کشی پر جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کی ، اسرائیل کیخلاف جنوبی افریقہ کےمقدے پر کارروائی چلائی جا سکتی ہے ،عالمی عدالت انصاف کی جج نے اسرائیلی وزیر دفاع کا بیان پڑھ کر سنایا،عالمی عدالت انصاف نے کہا کہ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ وہ غزہ میں حیوانوں سے لڑ رہے ہیں،غزہ میں کسی صورت حماس کو نہیں رہنے دیں گے،عالمی عدالت انصاف نے کہا کہ غزہ میں اسپتالوں پر بھی حملے کئے گئے ہیں ، 100 دن گزرنے کے بعد بھی غزہ میں انسانوں کا قتل عام جاری ہے،غزہ کی 20 لاکھ آبادی نفسیاتی اور جسمانی تکالیف میں مبتلا ہے ، غزہ کے بچے نفسیاتی دباو کا شکار ہیں جو سالوں متاثر رہیں گے ، اقوام متحدہ کے مطابق غزہ رہنے کے قابل نہیں رہا ، اسرائیل کے بیانات واضح ہیں غزہ میں پانی دینگے نہ خوراک ،

عالمی عدالت انصاف میں جنوبی افریقہ نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے مقدمہ دائر کیا تھا جس کے بعد عالمی عدالت میں کارروائی جاری تھی، 11 اور 12 جنوری کو ہونے والی سماعت میں جنوبی افریقہ اور اسرائیل نے دلائل پیش کیے تھے،جنوبی افریقہ نے سماعت کے دوران اسرائیل کے خلاف عارضی اقدامات کی استدعا کی تھی

واضح رہے کہ واضح رہے کہ گزشتہ برس حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے بعدغزہ میں سویلین آبادی پر اسرائیلی حملوں پر جنوبی افریقا نے الزام لگایا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کر رہا ہےجنوبی افریقا کی طرف سے جمع کرائےگئے شواہد میں کہا گیا کہ اسرائیلی کارروائی کا مقصد فلسطینی قومی اور نسلی گروہ کے ایک بڑے حصے کو تباہ کرنا ہے اس مقدمے میں اسرائیلی عوامی بیان بازی اور وزیر اعظم نیتن یاہو کے فلسطینیوں کی "نسل کشی کے ارادے” کے بیانات کو بھی ثبوت کے طور پیش کیا گیا ہےبین الاقوامی قانون کے تحت، نسل کشی کی تعریف کسی قومی، نسلی، مذہبی گروہ کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر تباہ کرنے کی نیت سے ایک یا زیادہ کارروائیوں کے ارتکاب سے کی جاتی ہے۔

جنوبی افریقا چاہتا ہے کہ عالمی عدالت انصاف اسرائیل کو غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دے اگرچہ اسرائیل اور جنوبی افریقا سمیت تمام فریقین عالمی عدالت کے فیصلےکو ماننے کے پابند ہیں لیکن عملی طور پر ایسا ممکن نظر نہیں آتا، اس لیے یہ یقینی ہےکہ اسرائیل ہمیشہ کی طرح اس طرح کے کسی بھی حکم کو نظر انداز کرے گا اور اس کی تعمیل نہیں کرے گا، 2022 میں، عالمی عدالت انصاف نے روس کو یوکرین میں فوری طور پر فوجی آپریشن معطل کرنے کا حکم دیا لیکن اس حکم کو نظر انداز کر دیا گیا۔

Leave a reply