حکومت کی جانب سے چینی برآمد کرنے کی اجازت نہ ملی تو مشکلات بڑھ سکتی ہیں

0
29

حکومت کی جانب سے چینی برآمدکرنیکی اجازت نہ دی گئی تومشکلات بڑھیں گی۔

ملک میں موجود فاضل چینی کی برآمد کے معاملے نے تنازع کی شکل اختیار کرلی۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ حکومت کی جانب سے گنے کی امدادی قیمت 30 فیصد بڑھائے جانے کے نتیجے میں ملک میں چینی کی قیمت میں اضافہ بھی ناگزیر ہے، نجی ٹی وی کے مطابق جو کم سے کم 30 فیصد ہوگا بشرطیکہ کسی اور وجہ سے نرخ مزید نہ بڑھیں۔ اس مسئلے کا دوسرا پہلو چینی کا فاضل اسٹاک ہے، جس کی وجہ سے رواں برس گندم کی بوائی شروع ہونے میں تاخیر ہورہی ہے۔ اگر حکومت نے چینی کے فاضل ذخائر کو برآمد کرنے کی اجازت نہ دی، تب بھی اگلے سال کے اوائل میں ملک میں چینی کی قیمت میں اضافہ ضرور ہوگا۔ چینی کی برآمد کی اجازت دینے کے فیصلے میں تاخیر سے حکومت کے لیے سہ طرفہ مشکل پیدا ہوسکتی ہے۔

اول یہ کہ ملک میں چینی کی خوردہ قیمت تو بہرحال بڑھے گی۔دوم یہ کہ عالمی منڈی میں چینی کی قیمتیں کم ہوجائیں گی، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ پاکستان نے چینی کی برآمد سے بھاری مقدار میں قیمتی زرمبادلہ کمانے کا موقع گنوا دیا ۔ سوم یہ کہ شوگر ملیں گنے کے کاشتکاروں کو ادائیگیوں میں تاخیر کریں گی، جس کے باعث کسانوں کو سرمائے کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کا لازمی نتیجہ ربیع سیزن میں گندم کی بوائی میں تاخیر کی صورت میں برآمد ہوگا۔ پاکستان میں شوگر سیکٹر کو زیادہ فعال کرنے کے لیے اسے ’’کارکردگی پر مراعات‘‘ کے اصول پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔

شوگر سیکٹر پر حکومتی کنٹرول ضرورت سے زیادہ ہے اور بے جا قواعد وضوابط نے ’’کارکردگی پر مراعات‘‘ کا ڈھانچا بری طرح متاثر کیا ہے۔حکومت کی جانب سے گنے کی کم سے کم امدادی قیمت مقرر کیے جانے کے طریقہ کار کے باعث عام کسان کے مقابلے میں ترقی پسند کسان کو کوئی اضافی فائدہ نہیں ملتا، اسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں گنے کی فصل کا معیار اتنا بہتر نہیں ہوا،جتنا ہونا چاہیے تھا۔ پاکستان میں گنے سے سکروز کی کشید کی شرح 2011 میں 9.3 فیصد تھی، جو 2021 میں بڑھ کر 9.8 فیصد ہوگئی، اس کے مقابلے میں بھارت میں یہ شرح 11.5فیصد جبکہ چین میں 13فیصد ہے۔

حکومت نے شوگر انڈسٹری پر بعض پابندیاں محض اس لیے لگائی تھیں کہ عام صارفین کو ان کا فائدہ پہنچے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ ملک میں چینی کی کل کھپت میں گھریلو صارفین کا حصہ محض 20 فیصد جبکہ صنعتی صارفین کا حصہ 80 فیصد ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان حکومتی پابندیوں سے عام صارفین کے بجائے صنعت کار فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جہاں تک کاشتکاروں کو مراعات دینے کا تعلق ہے تو حکومت فصلوں کی بیمہ کاری کے ذریعے کسانوں کو قدرتی آفات مثلاً سیلاب وغیرہ سے ہونے والے نقصانات سے کسی حد تک محفوظ رکھ سکتی ہے، اس کے علاوہ کسانوں کو کم مارک اپ پر قرضے بھی دیئے جاسکتے ہیں۔ شوگر انڈسٹری کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اس سیکٹر میں بے جا مداخلت نہ کرے اور درآمدات وبرآمدات کو آسان بنائے۔

Leave a reply