چینی جوہری آبدوز کو حادثہ،کپتان سمیت 55 اہلکار ہلاک ،برطانوی میڈیا

چین کی جانب سے اس قسم کے کسی بھی حادثے کی تردید کی گئی ہے
0
28
china

چینی جوہری آبدوز غیر ملکی بحری جہازوں کو پھنسانے کے لیے بچھائے گئے اپنے ہی جال میں پھنس گئی جس کے نتیجے میں 55 اہلکار ہلاک ہو گئے۔

باغی ٹی وی: برطانیہ کی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق چین کی جوہری آبدوز یلو سی میں غیر ملکی بحری جہازوں کے لیے بچھائے گئے جال یعنی زنجیر اور اینکر میں پھنس گئی جس کے نتیجے میں آبدوز کے آکسیجن سسٹم نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا جس کے باعث پوری آبدوز میں زہریلی گیس پھیل گئی۔

برطانیہ کی ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق بحری جہاز کی موت آبدوز’093-417′ کے آکسیجن سسٹم کی تباہ کن ناکامی کے بعد ہوئی جس نے عملے کو زہر دے دیا حادثے میں چینی بحریہ کے کم از کم 55 اہلکار ہلاک ہوئے، ہلاک ہونے والوں میں آبدوز کا کپتان اور چینی بحریہ کے 21 دیگر افسران بھی شامل ہیں۔

چین کی جانب سے اس قسم کے کسی بھی حادثے کی تردید کی گئی ہے اور بیجنگ نے اس بات سے بھی انکار کیا ہے کہ انہوں نے پھنسی ہوئی آبدوز کے لیے کسی قسم کی بین الاقوامی امداد کی درخواست کی تھی۔

مستونگ دھماکہ:سہولت کاری کے شبے میں 8 افراد کو حراست میں لے لیا

تاہم برطانیہ کی انٹیلی جنس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی بحریہ کو حادثہ 21 اگست کے روز پیش آیا یہ واقعہ 08.12 مقامی وقت پیش آیا جس کے نتیجے میں 22 افسران کے علاوہ 7 کیڈٹ آفیسر، 9 پیٹی آفیسر اور 17 سیلرز ہلاک ہوئے،مرنے والوں میں کپتان کرنل زو یونگ پینگ بھی شامل ہیں۔

برطانوی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چینی آبدوز چین کی جانب سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے بحری جہازوں کے لیے بچھائے گئے رنجیزوں اور اینکر کے جال سے ٹکرائی جس کے باعث آبدوز کے اندر کا آکسیجن سسٹم بری طرح متاثر ہوا اور 6 گھنٹے کی کوششوں کے بعد آبدوز کو سطح سمندر پر لایا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ آبدوز میں نظام کی خرابی کی وجہ سے موت ہائپوکسیا کی وجہ سے ہوئی ہے۔ آبدوز ایک چین اور لنگر کی رکاوٹ سے ٹکرا گئی جسے چینی بحریہ نے امریکی اور اتحادی آبدوزوں کو پھنسانے کے لیے استعمال کیا تھاابھی تک عوامی ڈومین میں چینی آبدوز کے مشتبہ نقصان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

سائفر کیس: عمران خان کی درخواست ضمانت پر ان کیمرا کارروائی کی درخواست نمٹادی

بیجنگ نے اس واقعے کے بارے میں اوپن سورس کی قیاس آرائیوں کو ‘مکمل طور پر غلط’ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے جبکہ تائیوان نے بھی انٹرنیٹ رپورٹس کی تردید کی ہےمیل پلس نے برطانیہ کی رپورٹ میں موجود تفصیلات پر بات کرنے کے لیے رائل نیوی سے رابطہ کیا لیکن سرکاری ذرائع نے کوئی تبصرہ کرنے یا رہنمائی پیش کرنے سے انکار کردیابرطانیہ کی رپورٹ، جو کہ دفاعی انٹیلی جنس پر مبنی ہے، ایک اعلی درجہ بندی میں رکھی گئی ہے۔

ایک برطانوی آبدوز نے یہ وضاحت پیش کی کہ ‘یہ قابل فہم ہے کہ ایسا ہوا ہو اور مجھے شک ہے کہ چینیوں نے واضح وجوہات کی بنا پر بین الاقوامی حمایت کی درخواست کی ہوگی۔

بنوں میں ایک اور بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق

Leave a reply